Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
المعہد العالی الاسلامی p. 309
حیدر آباد کے سفر میں 10 دسمبر 2002کی شام کو یہاں کے المعہد العالی الاسلامی کو دیکھا اور اُس کے بانی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ساتھ شام کا کھانا کھایا۔ اس موقع پر کئی لوگ میرے ساتھ تھے — ڈاکٹر شیزان صاحب، عمر عابدین صاحب، عبد الرؤف صاحب، عبد الغفار صاحب، وغیرہ۔ یہ ادارہ 1420ھ میں قائم کیا گیا۔ اس میں مدارس دینیہ کے فارغین کو داخل کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد اُس کے تعارف نامہ میں یہ بتایا گیا ہے مختلف علوم اسلامی میں افراد کار کی تیاری، زمانہ شناس داعیوں کی تربیت، علما کو انگریزی زبان اور جدید علوم سے با خبر کرنا، تحقیق وتالیف۔ p. 309
یہ ادارہ ایک پہاڑی کے اوپر قائم کیا گیا ہے۔ یہاں بالکل پُرسکون ماحول ہے۔ فضائی کثافت بھی یہاں تقریباً موجود نہیں ۔ تعلیم وتحقیق کے لیے یہ ادارہ اپنے جائے وقوع کے اعتبار سے بہت موزوں ہے۔ اس ادارہ کی جو چیزیں میں نے دیکھیں اُن میں سے ایک اُس کی لائبریری تھی۔ یہ لائبریری بہت جامع اور خوبصورت نظر آئی۔ اس لائبریری کی ایک قابل ذکربات یہ تھی کہ اُس کی ایک الماری میں ماہنامہ الرسالہ کے تمام شمارے نمبر 1 سے لے کر اب تک مجلد صورت میں رکھے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ مکمل فائل مسٹر کشن جیونت راؤ پاٹل (ناندیڑ) نے دی ہے۔ p. 309
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ المعہد کے مقاصد نہایت اہم ہیں اور عین زمانہ کے مطابق ہیں ۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ المعہد میں انگریزی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنادیں ۔ یہاں عربی اور دینی علوم انگریزی زبان میں پڑھائے جائیں ۔ طلبہ کو تاکید کی جائے کہ وہ المعہد کے احاطہ میں صرف انگریزی زبان بولیں ۔ کوئی اور زبان بولنے کی صورت میں اُن پر جُرمانہ عائد کیا جائے۔ p. 310original + quote
میں نے کہا کہ المعہد کے موجودہ اساتذہ کو بظاہر یہ مشکل معلوم ہوگا۔ وہ سوچیں گے کہ ہم تو انگریزی زبان بہت کم جانتے ہیں ۔ پھر ہم انگریزی زبان میں تعلیم کس طرح دیں ۔ مگر میرے نزدیک اصل اہمیت زبان جاننے کی نہیں ہے بلکہ اپنے مقصد کے بارے میں مجنونانہ جذبہ کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ سرسیّد احمد خاں انگریزی زبان نہیں جانتے تھے۔ مگر اُنہوں نے ہندستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا انگریزی ادارہ قائم کیا۔ میں نے کہا کہ سرسید کا حال یہ تھا کہ اُنہوں نے ایک انگریزمستشرق کی انگریزی میں لکھی ہوئی سیرت کی کتاب کا جواب دیاتو پہلے اُس کا ترجمہ اردو زبان میں کروایا۔ اسی طرح ایک بار اُنہوں نے ’’انگریزی‘‘ میں تقریر کی۔ یہ انگریزی تقریر اُردو الفاظ میں کاغذ پر لکھ دی گئی تھی۔ پھر اس اُردو تحریر کی مدد سے اُنہوں نے اپنی انگریزی تقریر کی۔ p. 310
میں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں ایسے علما کی ضرورت ہے جو انگریزی زبان میں اسلام کی بات کہہ سکیں ۔ میں نے کانفرنسوں میں دیکھا ہے کہ کچھ غیر عالم مسلمان انگریزی میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں مگر غیر عالم ہونے کی بنا پر اُن کی نمائندگی صحیح نہیں ہوتی۔ دوسرے مذہبوں میں ایسے علما کثرت سے موجود ہیں ۔ مگر مسلمانوں میں ایسے علما کی شدید کمی ہے جو انگریزی زبان میں درست طورپر اسلام کی نمائندگی کرسکیں ۔ اگر المعہد اس ضرورت کو پورا کرے تو بلا شبہ یہ اُس کا ایک تاریخی کارنامہ ہوگا۔ p. 310
المعہد کے کچھ طالب علموں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ آج ہی سے انگریزی بولنا شروع کردیجیے۔ میں نے افریقہ کے ایک تاجر کی مثال دی۔ انہوں نے تجارتی ضرورت کے تحت انگریزی بولنا شروع کیا۔ ابتدا میں اُن کی انگریزی بہت غلط ہوتی تھی مگر بعد کو وہ صحیح انگریزی بولنے لگے۔ ابتدائی دور میں اُنہوں نے اس سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں غلط انگریزی بولتا ہوں تاکہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آجائے p. 310
I speak incorrect English, so that I may be able to speak correct English. p. 311
میں نے کہا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے لامحدود صلاحیت دی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ منصوبہ بند اور منظّم انداز میں اپنی صلاحیت کو برروئے کار لانے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلہ میں میں نے مالیگاؤں کے مولانا انیس لقمان ندوی کی مثال دی۔ وہ ماشاء اللہ بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں ۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اُس کا راز یہ ہے کہ اُنہوں نے خود اپنے گھر کو تربیت گاہ بنا دیا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ہمیشہ انگریزی میں بولتے تھے اور اپنے برادر نسبتی کے ساتھ ہمیشہ عربی میں۔ اس طرح اُنہوں نے خود اپنے گھر میں دونوں زبان میں بولنے کی عمدہ مشق پیدا کرلی۔ یہی طریقہ ہر نوجوان اپنے حالات کے اعتبار سے استعمال کرسکتا ہے۔ (الرسالہ، مارچ 2002) p. 311