Shukr All cross-references →
Qur'an 94:5
Qur'an 94:5

فَإِنَّ مَعَ ٱلۡعُسۡرِ يُسۡرًا

For indeed, with hardship [will be] ease

Explained in 10 book passages and 31 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Ease in Difficulty

According to the Quran, the Law of Nature on which this world functions, ease is always present along with difficulty. (94:5-6) Along with problems and obstacles, there are always ways out of a difficult situation. This is the eternal Law of Nature, and it will never change.

The fact is that in this world, possibilities always exceed difficulties. One should not give way to despair when faced with problems and challenges in life. Rather one should use his intellectual ability. He will then find that there are…

…an unfavourable situation for the Prophet and his companions. At this critical juncture, God revealed a meaningful piece of guidance which is recorded in the chapter Al-Sharh (Comfort) of the Quran. This divine guidance is as follows:

So, surely with every hardship there is ease; surely with every hardship there is ease. (94:5-6)

In this Quranic verse the same phrase is repeated twice. From this repetition, the Prophet drew a very meaningful inference. That is, according to the law of nature, the situation of ease is double that of the situation of difficulty. So…

Al-Risala July 2022 A original + quote

مشکل میں آسانی

قرآن کی سورہ الانشراح میں موجودہ دنیا میں جاری فطرت کے ایک اٹل قانون کا بیان ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر خاتمہ ایک نئے امکان کو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی کے لیے کسی بھی حال میں مایوسی کی ضرورت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کابیان یہ ہے’’ پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے‘‘( 94:4-5)۔

قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک راز کوکھولا گیا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی اکیلا نہیں آتا، اس کا حل بھی ساتھ آتا ہے۔ اس دنیا میں ہرڈس ایڈوانٹج (disadvantage) کے ساتھ ایڈوانٹیج (advantage)موجود ہے۔ اس دنیا میں ہر…

Al-Risala May 2022 A original + quote

…ٹکراؤ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم دور میں مواقع پر صرف حکمراں طبقےکی اجارہ داری (monopoly)ہوا کرتی تھی۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ مواقع کے انفجار (opportunity explosion)کا زمانہ ہے۔ جدید دور کا نارم (norm) ہے — ہر موقع ہر ایک کے لیے ۔

اس دوسرےدور میں دعوتِ اسلامی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔ مواقع کے انفجار کا یہ دور ایک داعی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ٹکراؤ کے بجائے صبر کا طریقہ اختیار کرکے لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچائے۔ قرآن کے مطابق، موجودہ دنیا میںپرابلم بھی ہیں، اور اسی کے ساتھ مواقع بھی (94:5)۔ مسائل انسان کی پیداوار ہیں۔ اس کے مقابلے میں مواقع خالق کا عطیہ ہیں۔ آپ اس معاملے میں مثبت ذہن پیدا کیجیے، آپ مسائل کو نظر انداز کیجیے،اور صبر کا طریقہ اختیار کرکے مواقع کو تلاش کیجیے ، اوران کو اویل کیجیے۔

Al-Risala June 2021 A original + quote

…اس قابل ہوئے کہ وہ انڈیا کے باہر کی دنیا کو دیکھ سکیں۔ لیکن سارے مسلمانوںنے انڈیا میں اینٹی برٹش تحریک چلادی۔اسی طرح آزادی کے بعد جو حکومت آئی اس نے بھی مسلمانوں کو بہت کچھ دیا۔ لیکن دوبارہ مسلمانوں کو حکومت سے شکایت پیدا ہوگئی، وغیرہ۔

اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم لیڈران زندگی کے ایک اصول کو نہیں جانتے ہیں۔ مسلم قائدین اس فطری قانون کو نہیں جانتے کہ ہر عسر کے ساتھ یسرموجود ہوتاہے (الانشراح، 94:5-6)۔عسرکا مطلب ہے پرابلم،اور یسر کا مطلب موقع (opportunity)۔ یعنی پرابلم کے درمیان موجود مواقع کو جاننا، اور منصوبہ بند انداز میں ان کو اویل (avail) کرنا، یہی زندگی کا اصول ہے۔ لیکن مسلم لیڈروں نے اس اصول کو نہ پہلے جانا، اور نہ وہ اب اس کو جانتے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ ایک کام کیا ہے۔وہ ہے اویلیبل مواقع کو نظر انداز کرنا، اور جو چیز اویلیبل نہیں ہے، اس کے اوپر تحریک چلانا۔ یہی غیر حقیقی طریقِ کار ہر دور میں مسلمانوں پر غالب رہا ہے۔ اس لیے مسلمانوں نے ہر دور میں صرف کھویا، کسی بھی دور میں وہ پانے والی چیز کو پانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

قرآن کی سورہ البقرہ میں زندگی کی ایک حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو (2:155)۔ توسیعی اعتبار سے حکومت کا…

Al-Risala June 2021 A original + quote

Ignore the problem, avail the opportunities.

پازیٹیو اسٹیٹس کوازم کا یہ طریقہ ایک انتہائی حکیمانہ طریقہ تھا۔ اس کی طرف رہنمائی پیغمبر اسلام کو خود قرآن کی ابتدائی آیتوں میں ان الفاظ میں دی گئی:فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (94:5-6)۔ یعنی ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اس طرح پیغمبر اسلام کو بتایا گیا کہ اس دنیا میں کوئی مسئلہ کبھی کُلّی معنوں میں مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ ہر مسئلہ کے ساتھ ہمیشہ مواقع موجود رہتے ہیں۔ اس لیے آدمی کو یہ حکمت اختیار کرنا چاہیے کہ وہ مسائل کو نظر انداز کرے اور مواقع کو استعمال کرے۔ پیغمبر اسلام کے لیے یہ طریقہ ایک حکیمانہ آغاز کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آج جو ممکن ہے، اُس سے اپنے عمل کا آغاز کرو۔ اس طرح کَل وہ چیز ممکن ہوجائے گی جو بظاہر آج ممکن نظر نہیں آتی۔

پیغمبر اسلام کا مشن توحید (oneness of God) کا قیام تھا۔ اس لحاظ سے آپ کے لیے اُس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مکّہ کے مقدس عبادتی مرکز کعبہ میں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے۔ یہ عرب کے مختلف قبائل کے بُت تھے۔ اور مکّہ کے سرداروں نے…

Al-Risala April 2020 A original + quote

…سمجھ میں آیا کہ مکہ میں دعوت کے کام کا موقع ہے، لیکن کعبہ سےبتوں کو ہٹانا قابل عمل نہیں ہے۔ اس لیے آپ نے وقتی طور پر ان بتوں کو اپنے حال پر باقی رکھا، اور بتوں کی زیارت کے لیے تمام عرب سے آنے والے آڈینس کے درمیان دعوت کا کام جاری رکھا۔

دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر صورتِ حال میں کام کے مواقع موجود رہتے ہیں (الانشراح، 94:5-6)۔ لوگ اکثر مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر صورتِ حال میں کام کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ ہر صورتِ حال میں مواقع (opportunities) کی بنیاد پر اپنے کام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ مواقع کو تلاش کرنا، اور مواقع کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنانا، دانش مندانہ طریقہ ہے۔ یہ دنیا اسباب کی دنیاہے۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، جو اسباب کی رعایت کرتے ہوئے بنایا جائے۔

اس دنیا میں منصوبہ بند کام کا نام کام ہے۔جو کام غیر منصوبہ بند انداز میں کیا جائے، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے کوئی کام ہی نہیں۔ جب بھی ایسا ہو کہ آپ کا کوئی اقدام عملاًبے نتیجہ رہ جائے، تو ہرگز کسی دوسرے کو الزام نہ دیجیے، بلکہ خود اپنے…

Al-Risala April 2019 A original + quote

Alvin Toffler, Future Shock, New York, 1971

مگر امت مسلمہ محفوظ آسمانی کتاب کی حامل ہے۔ اس نسبت سے وہ خود بھی ایک محفوظ امت ہے۔ اس محفوظیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جہاں مواقع بظاہر ختم ہوجائیں، وہاں بھی اس کے لیے ایک نیا موقع موجود رہتا ہے۔ خدا نےانسانیت کے لیے عام طور پر اور امت مسلمہ کے لیے خاص طورپر یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ہر ڈس ایڈوانٹج کے ساتھ اس کے لیے ایک ایڈوانٹج ہمیشہ موجود رہے۔ یہی وہ ابدی حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:فَإِن معَ الْعُسْرِ یُسْراً إنَّ معَ الْعُسْرِ یُسْراً( 94:5-6)۔ یعنی پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

اللہ تعالی کی یہ سنت موجودہ زمانہ میں پوری طرح ظاہر ہوچکی ہے۔سائنس اپنی ترقیوں کی انتہا پر پہنچ کر ایک ایسے سنگین مسئلہ سے دوچار ہے جس کا خود اس کے پاس کوئی حل نہیں۔ نہ سائنسی طبقہ سے باہر کوئی گروہ ایسا موجود ہے، جو اس مسئلے کا حل اسے دے…

Al-Risala June 2018 A original + quote

…پیش آتے ہیں جو بظاہر ناخوشگوار دکھائی دیتے ہیں۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں بھی بار بار ایسے واقعات پیش آئے ۔ ایسے موقع پر ہر بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی دی گئی کہ بظاہر ایک غیر موافق واقعے میں بھی کس طرح موافق پہلو چھپا ہوا ہے۔

قدیم مکہ میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت توحید کا آغاز کیا تو وہاں سخت قسم کی مشکلات پیش آئیں۔ اس وقت قرآن میں یہ رہنمائی دی گئی : فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا(94:5-6)۔یعنی مشکلات سے نہ گھبراؤ، کیوں کہ اس دنیا میں ہرمشکل کے ساتھ آسانی موجود ہوتی ہے ۔ اسی طرح آپ کے مشن کے بارے میں آپ کے مخالفین نے بڑے پیمانے پر جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا۔ آپ پر طرح طرح کے عیب اور الزام لگائے گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی اتری : وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (94:4)۔یعنی اس پروپیگنڈے کے ذریعہ تمھارا چرچا ہر طرف پھیل رہا ہے۔ اس لیے اس کو مخالفانہ پروپیگنڈا نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنا اور اپنے مشن کا رفعِ ذکر سمجھو ۔

تقریباً 20 سال تک تبلیغ کرنے کے باوجود آپ اور آپ کے ساتھی عرب میں اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے، اور مشرکین اکثریت میں تھے۔ اس وقت آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو فطرت کا ایک قانون یاد دلاتے ہوئے قرآن میں کہاگیا : کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیلَةٍ…

Al-Risala January 2015 A original + quote

مشکل کے ساتھ آسانی

قرآن میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے: فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۝ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (94:5-6)یعنی پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے- یعنی زندگی میں ہر پرابلم کے ساتھ نیا موقع (opportunity) ہے- یہ دونوں چیزیں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں-

قرآن کی اس آیت میں مع العسر کا لفظ ہے نہ کہ بعد العسر کا لفظ- اس کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ پہلے مشکل آتی ہے، اس کے بعد آسانی آتی ہے- بلکہ جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے تو عین اسی وقت اور اسی کے ساتھ آسانی بھی ضرور آتی ہے- دوسرے الفاظ…

In the lectures

Cited at 1037s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1567s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3405s — opens the lecture at this moment.

Cited at 138s — opens the lecture at this moment.

Cited at 143s — opens the lecture at this moment.

Cited at 727s — opens the lecture at this moment.

Cited at 900s — opens the lecture at this moment.

Cited at 936s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1000s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1056s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1083s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1632s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1668s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1905s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1934s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1948s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2066s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2248s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2265s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2276s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2307s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2366s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2717s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3325s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3436s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3459s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3469s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4207s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4210s — opens the lecture at this moment.

Cited at 4931s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5615s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Al-Risala July 2002 Qur'an

قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں فطرت کے ایک عالمگیر اُصول کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: فإن مع العسر یُسراً ، إن مع العسر یُسرا (الانشراح ۵۔۶) یعنی بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے:

With every hardship there is ease, with every hardship there is ease.

اس قرآنی آیت میںایک ایسی سوچ کی تعلیم دی گئی ہے جس کو بر تر انداز فکر (high thinking) کہا جاسکتا ہے۔ یعنی مشکلات سے اوپر اُٹھ کر سوچنا۔اس کا مقصد آدمی کے اندر ایک ایسے طرز فکر کو پیدا کرناہے جو دشواریوں میں گھر کر نہ رہ جائے بلکہ…

نیچی نظر، دل میں فکر، زبان پر ذکر،

قدم ملا کر چلو گے تو منزلیں آسان ہو جائیں گی۔

اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ___ سنجیدگی، احساس ذمہ داری، اللہ کی عظمت کا اقرار اور اتحاد، یہ چیزیں جن لوگوں کے اندر پیدا ہو جائیں، وہ ضرورکامیاب ہوں گے۔

مشکل کے ساتھ آسانی

قرآن میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے: فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ۝ اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (94:5-6)یعنی پس مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے- یعنی زندگی میں ہر پرابلم کے ساتھ نیا موقع…

اندھیرا ختم ہوگا

اذیت پر صبر

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں:عن ابن عمر، عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم :’’ المؤمن الذی یخالط الناس، ویصبر على أذاہم، أعظم أجرا من الذی لا یخالطہم، ولا یصبر على أذاہم‘‘۔ قال :حجاج :’’خیر من الذی…

اذیت پر صبر

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں

…ذہن لیے ہوئے ہے وہ اپنے موافق حالات پاکر جرم کرے اورخدا کے قانون کے مطابق سزا کا مستحق ہو۔جو شخص اپنے اندر حق پرستی کا ذہن لیے ہوئے ہے وہ اپنے موافق حالات میں حق اورانصاف کامعاملہ کرے تاکہ وہ خدا کے یہاں انعام اورقدرافزائی کے لائق ٹھہرے۔

اندھیر اختم ہوگا

خدا کی دنیامیںانسان بظاہر ایک تضاد ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں سورج ہر روز ٹھیک اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے وہاں انسان کا حال یہ ہے کہ آج ایک بات کہتا ہے ،اورکل وہ اس سے پھر جاتا ہے۔ جس دنیا میں سخت پتھروں کے اندر سے بھی پانی نکل پڑتا ہے وہاں ایک…

مصیبت بھی رحمت ہے

ایک روایت صحیح البخاری (کتاب الجہاد) سنن ابی داؤد (کتاب الجہاد) اور مسند امام احمد میںآئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عجب اللہ من قوم یدخلون الجنۃ فی السلاسل (حدیث نمبر3010 )یعنی اللہ ان پر متعجب ہوتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں…

مصیبت بھی رحمت ہے

ایک روایت صحیح البخاری (کتاب الجہاد) سنن ابی داؤد (کتاب الجہاد) اور مسند امام احمد میںآئی ہے۔ البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عجب اللہ من قوم یدخلون الجنۃ فی السلاسل (فتح الباری ۶؍۱۶۸)یعنی اللہ ان پر متعجب ہوتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں (بندھے…

…لیکن اگر آدمی کا ذہن بیدار ہو، وہ کرائسس مینجمنٹ (crisis management)کا فن جانتا ہو تو وہ اپنے وقت کا ایک نیا استعمال دریافت کرسکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ نیا استعمال اس کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ بن جائے۔ ایک فارسی ضرب المثل اس طرح ہے:

مشکلى نیست کہ آسان نشود ،مرد باید کہ ہراسان نشود

ہر مشکل آسان ہوسکتی ہے، بشرطیکہ آدمی گھبراہٹ میں مبتلا نہ ہو۔ یہ کامیاب زندگی کا ایک اعلیٰ اصول ہے۔ آدمی کے حالات ہمیشہ معتدل اور نارمل نہیں ہوتے۔ زندگی میں اکثر کرائسس کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ایسی صورت حال پیش…