Qur'an 41:53
Qur'an 41:53
سَنُرِيهِمۡ ءَايَٰتِنَا فِي ٱلۡأٓفَاقِ وَفِيٓ أَنفُسِهِمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمۡ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّۗ أَوَلَمۡ يَكۡفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُۥ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ
We will show them Our signs in the horizons and within themselves until it becomes clear to them that it is the truth. But is it not sufficient concerning your Lord that He is, over all things, a Witness
Explained in 73 book passages
and 40 lecture moments.
Cite / permalink: quran/41:53
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…Quran offers a commentary on the authenticity of belief. “The Arabs of the desert say, ‘We have believed.’ Say to them, ‘You have not believed yet; say rather, We have submitted,’ for faith has not yet entered into your hearts.” (49:14).
From this we learn that belief does not come about by the mere mouthing of words, you have to invite belief to enter your heart and then enshrine it therein. Belief should become a part and parcel of your whole personality just as dye becomes totally mixed into water. This is graphically expressed in chapter 2: “Ours is the dye of God, and which dye can be better than God’s.” (2:138). In another sense, this can be expressed as turning your belief into belief plus. That is, simple faith should be developed into a faith based on deep realization of God. In the Quran this has been called “adding faith to your faith” (48:4). That is, intensifying your faith. There are two ways of doing so: accepting the revelation of the verses and acknowledging what the signs in the universe indicate. We learn from the Quran that, for a true believer, pondering upon the verses revealed by God becomes a means of realization of the truth (5:83). Furthermore, according to the Quran, by pondering or reflecting on the signs scattered throughout the universe, it becomes clear that what the Quran has to say is the truth and that “God encompasses all things.” (41: 53).
From the study of the Quran and Hadith, we learn that there are two categories of faith, or the realization of truth—initial realization and high or sublime realization. In this respect, Paradise is also separated into two broad divisions…
…at the commonsense level. However, there is another level of discovery, which man has discovered in modern times—and that is the discovery of God through scientific evidence. This phenomenon has been indicated in the Quran in
these words:
“We shall show them Our signs in the universe and within themselves until it becomes clear to them that this is the Truth.” (41:53)
Today, man can easily discover God through new and abundant scientific evidence pointing to the existence of a Supreme Being behind the universe and its functioning. This is a significant point that this book seeks to make.
Science is the expression of that knowledge of Nature about which the Quran had predicted in these words:
“We shall show them Our signs in the universe and within themselves until it becomes clear to them that this is the Truth.” (41:53)
In light of modern scientific findings, the new picture of the emerging universe resonates very closely with what was presented well in advance in the Quran. In this sense, contemporary scientific discoveries are, as it were, a detailed…
In the modern age following the scientific revolution, man obtained a higher framework for the realization of
God, whose prior intimation was given in the Quran in these words:
“We shall show them Our signs in the universe and within themselves until it becomes clear to them that this is the Truth.” (41:53)
But in this same period, when the universal or scientific framework emerged, the Muslims of the whole world fell victim to negative thinking due to political reaction. In this way, they were deprived of positive thinking.
The history of science leads us to conclude that there can be no human explanation for the existence of these verses in Quran (p.188).
قرآن کا یہ استدلالی پہلو قرآن کی اس آیت کی تصدیق ہے جو چودہ سو سال پہلے قرآن میں شامل کی گئی تھی — ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود لوگوں کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے(41:53)۔
جو لوگ قرآن کو خدا کی کتاب ماننے کے لیے اس کی سائنسی دلیل چاہتے ہیں، ان کو ڈاکٹر ماریس بکائی کی مذکورہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
…اول کا زمانہ ہے۔ یہ وہ دور ہے جب کہ انسانی ترقی ابھی سائنس کی دریافتوں تک نہیں پہنچی تھی۔ دنیا میں ابھی امن کا زمانہ نہیں آیا تھا، دنیا میں ابھی دورِ شمشیر باقی تھا۔ اس وقت قرآن میں مستقبل کے بارے میں ایک تاریخی پیشین گوئی کی گئی تھی۔
قرآن کی ایک متعلق آیت کے الفاظ یہ ہیں سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔
یہ آیت ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس پیشین گوئی پر ہزار سال سے زیادہ کی مدت گزرچکی ہے۔اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کی یہ پیشین گوئی ساتویں صدی کے بعد کے زمانے میں یقینی طور پر ظہور میں آنی چاہیے۔ اس لیے اب یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے…
…دے گی۔ یہ سادہ الفاظ میں صرف پیغمبر اسلام کی مصیبت کو یاد کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ سبق حاصل کرنا ہے کہ پیغمبر اسلام نے جس طرح مصیبت (مسائل) کو اگنور کرکے معرفت اور دعوت کا مشن انجام دیا، اسی طرح آج بھی معرفت اور دعوت کا مشن انجام دینا ہے۔
موجودہ زمانے میں معرفت اور دعوت کے ذرائع کا انفجار ہوچکا ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں بطور پیشین گوئی ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا تھا سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ اسی طرح قرآن میں ایک دوسرے مقام پر یہ آیا ہے وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ سَیُرِیکُمْ آیَاتِہِ فَتَعْرِفُونَہَا (27:93)۔ یعنی اور کہو کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ عنقریب تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان لو گے۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی بعثت کا مقصد آئڈیالاجیکل مواقع کا انفجار تھا۔ یعنی پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد ایک نئے پراسس کا آغاز تھا۔ یعنی آفاق و انفس کی آیات کے ذریعے دینِ حق کا اظہار۔ لیکن بعد کے مسلم اہل علم، سارے کے…
…کہ یہ حق ہے۔ اسی طرح قرآن میں ایک دوسرے مقام پر یہ آیا ہے وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّہِ سَیُرِیکُمْ آیَاتِہِ فَتَعْرِفُونَہَا (27:93)۔ یعنی اور کہو کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ عنقریب تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان لو گے۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی بعثت کا مقصد آئڈیالاجیکل مواقع کا انفجار تھا۔ یعنی پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد ایک نئے پراسس کا آغاز تھا۔ یعنی آفاق و انفس کی آیات کے ذریعے دینِ حق کا اظہار۔ لیکن بعد کے مسلم اہل علم، سارے کے سارے، مواقع کو فکری اعتبار سے اویل کرنے کے بجائے سیاسی تحفظ اور جہادبمعنی قتال جیسی باتوں میں لگ گئے۔ اس معاملے میں کسی عالم کا استثنا نہیں ہے۔ افغانستان میں طالبا ن کا سیاسی ظہور اسی سوچ کا ایک ظاہرہ ہے۔ یہ سب لوگ جہاد اور سیاست کی لائن سے سوچ رہے ہیں۔ اس کے بالمقابل اراءۃ آیات (نشانیوں کے ظہور)کی پیشین گوئی جو قرآن میں کی گئی تھی(فصلت، 41:53) ، اس پہلو سے وہ سوچ نہ سکے۔
تزئین یا ڈسٹریکشن
(1) سَیُرِیکُمْ آیَاتِہِ فَتَعْرِفُونَہَا (27:93)۔ یعنی عنقریب وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان لو گے۔
(2) سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ قرآن حق ہے۔
(3) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِہِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُہَا وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہَا وَغَرَابِیبُ سُودٌ ۔ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ…
…تھا کہ امت محمدی براہ راست طور پراس منصوبہ کے جاری رکھنے کی ذمے دار ہو۔ اسی کے ساتھ دنیا کی سیکولر قوموں کے لیے ایسے محرکات (incentives)پیدا کیے جائیں کہ وہ قرآن کے اس عالمی مشن کےلیے انفراسٹرکچرل سپورٹ (infrastructural support) بن جائیں۔
قرآن کی اس عالمی ذمے داری کا ذکر خود قرآن میں مختلف الفاظ میں آیا ہے۔ مثلاً قرآن کے متن کو محفوظ کرنا (الحجر، 15:9)، قرآن کو عالمی انذار کی کتاب بنانا (الفرقان، 25:1) ، آفاق و انفس کی ان آیات کو ظاہر کرنا، جو قرآن کی اعلیٰ تبیین کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر رکھ دیا تھا، وغیرہ وغیرہ (فصلت، 41:53)۔
قرآن ساتویں صدی عیسوی میں عرب میں اترا۔ اس کا متن عربی زبان میں ہے۔ اسکالرس کا اتفاق ہے کہ قرآن آج بھی اپنی اصل عربی متن کے ساتھ اسی طرح محفوظ ہے، جس طرح وہ ساتویں صدی عیسوی میں تھا۔ مثلاً سر ولیم میور (1819-1905) ایک اعلی تعلیم یافتہ…
عقیدۂ خدا اور سائنس
سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین اسی علم فطرت کا ظہور ہے، جس کی خبر پیشگی طورپر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے— (ترجمہ) ہم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اورانفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے (41:53)۔ سائنس کی جدیدتحقیقات کی روشنی میں کائنات کی جو نئی تصویر بنی ہے، وہ عین وہی ہے، جو قرآن میں پیشگی طورپر بتا دی گئی تھی۔ اس اعتبار سے جدید سائنسی دریافتیں گویا کتابِ الٰہی کے اشارات کی تفصیل ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کی دلیل بھی۔ یہاں مختصر طورپر ان کا ذکر کیاجاتاہے۔جدید دریافت کے مطابق، کائنات کی ابتدا تقریباً13.8 بلین سال پہلے ہوئی۔ اس کے بعد مختلف تدریجی انقلابات سے گزرتےہوئے وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی۔ اس پورے سفر کی روداد اس موضوع کی کتابوں میں پڑھ کر معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو محسوس طور پر کسی سائنسی پلینٹیریم (Planetarium) میں دیکھا جاسکتاہے۔ میں نے یہ پورا منظر واشنگٹن کے نیشنل پلینٹیریم میں دیکھا ہے۔
سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ13.8 بلین سال پہلے خلا میں ایک سپر ایٹم ظاہر ہوا۔ یہ ان تمام ذرات (particles) کا مجموعہ تھا ،جو موجودہ کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ گویا موجودہ پوری کائنات ایک بہت بڑے فٹ بال جیسے گولے کی صورت میں شدت کے ساتھ باہمی…
…کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ، خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرناہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چنانچہ قدیم زمانے میں معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔
موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اُسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی ردّ ِعمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔
قدیم زمانے کے انسان کے لیےسائنسی فریم ورک نہ ہو نے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے…
…کو سائنسی دور (scientific age) کہا جاتاہے ۔ سائنسی دور اگرچہ زیادہ تر مسیحی قوموں کی کوشش سے وجود میں آیا۔ لیکن پورے معنوں میں یہ موافق اسلام دور ہے۔ یہ امت کو اپنے دین کے لیے وہی تائید فراہم کرتا ہے ، جس کو اوپر حدیث میں بیان کیا گیاہے۔
انسانی تاریخ کے بعد کے زمانے میں پیش آنے والی اس شہادت اعظم کا ذکر خود قرآن میں بھی آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے الفاظ یہ ہیں:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر پوری طرح ظاہر ہوجائے کہ یہ حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جس چیز کو آفاق اور انفس کی آیات (signs) کہا گیا ہے، وہ موجودہ کائنات میں کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں، مگر قرآن میں ان کا ذکر اشارات کی زبان میں ہے۔ ان اشارات کو اکچول (actual) بنانے کا کام موجودہ زمانے میں انجام پایا…
تبیینِ حق کا دور
حدیث میں ایک دعوتی پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے:لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ معاملہ وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔اس پیشین گوئی کو لازماً پورا ہوناتھا۔ اس پیشین گوئی کی تکمیل اہل ایمان کے ذریعے ہوگی۔ اب آخر وقت آگیا ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو جانیں، اور اس کے لیے ضروری پلاننگ کریں۔ اگر اہل ایمان کا ایک گروہ اس کام کے لیے اٹھے، تو اللہ رب العالمین کی تائید ان پر ٹوٹ پڑے گی، اور فرشتے ہر طرف ان کی مدد کے لیے کھڑے ہوجائیں گے، اور عالمی دعوت کا یہ کام اس طرح انجام پائے گا، جیسے کہ اس سے زیادہ آسان کوئی کام نہیں تھا۔اکیسویں صدی میں امت محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے، جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیین حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباًاسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔
…ارادے اور اختیار سے عمل کی آزادی حاصل ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7095)دوسرے لفظوں میں، ہر انسان کو پرامن دائرے میں اپنا کام کرنے کا موقع مل جائے۔ تاکہ آخرت میں ہر انسان کے لیے اس کے اختیارانہ عمل کے مطابق، جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے۔
یہ آیت کسی محدود سیاسی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ تاریخی پراسس کے معنی میں ہے۔ وسیع تر معنی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا سے قدیم قبائلی طرز کا دور ختم ہو،جس میں اختلافات کافیصلہ تلوار سے کیا جاتا تھا، اور دنیا میں تہذیب کا دور (civilizational age) آئے۔تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری ہو، جس کا منتہیٰ (culmination) یہ ہو کہ نیچر میں چھپی ہوئی ٹکنالوجی دریافت ہو۔ دنیا میں ایج آف کمیونی کیشن آئے۔ آفاق و انفس میں جو موافقِ دین حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں، ان کی دریافت ہو۔ یہاں تک کہ مکمل معنوں میں دنیا میں تبیینِ حق کا دور آجائے(فصلت، 41:53)۔
یہ دراصل انبیاء کے مشن کی تکمیل ہے۔ انبیاء کا مشن یہ تھا کہ انسان جو غیر اللہ کی پرستش میں الجھا ہوا تھا، وہ ایک اللہ کی عبادت میں جینے لگے۔ فطرت کا نظام اس طرح کھل جائے کہ انسان خالق کی محبت میں اور خالق کی خشیت میں جینے لگے(البقرۃ،…
…پہچان کا معاملہ اتنا زیادہ آسان ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت کے تقاضے کے طور پر وہ اپنی قریب ترین مثال سے سمجھ سکتا ہے۔ خالق کی دریافت کے لیے کسی لائبریری میں جانے کی یا کسی دور کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ شرط یہ ہے کہ آدمی متلاشی (seeker)ہو۔
مثلاً ایک آدمی نے سوال کیا کہ ہم خدا کو کیسے پہچانیں۔ میں نے کہا آپ اپنے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کو دیکھیے۔ اگر ایسا ہوتا کہ ہاتھ کی انگلیاں چھوٹی چھوٹی ہوتی، اور پاؤں کی انگلیاں بڑی بڑی ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوجاتی۔ اتنی گہری پلاننگ صرف خلاق اور رزاق ہی کرسکتا ہے۔اگر آپ ایک ایسے خدا کو نہ مانیں، جو خلاق اور رزاق ہے، تو آپ ہر معلوم چیز کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔خدا کو پہچاننا اتنا ہی آسان ہے، جتنا کہ خود اپنے آپ کو پہچاننا۔اس قسم کی دریافت کو کامن سنس کی سطح پر خالق کی دریافت کہاجاتا ہے۔ لیکن دریافت کی ایک اور سطح ہے، جو جدید دور میں انسان نے ڈسکور کی ہے، اور وہ ہے سائنسی دلائل کے ذریعے خالق کی دریافت۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے (فصلت، 41:53)۔ آج انسان ان دلائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔
…عالمی پیغمبر تھے۔ لیکن اس کا ظہور یکبارگی نہیں ہوا، بلکہ تاریخی پراسس کی صورت میں لمبی مدت کے دوران ہوا۔ اس تاریخی پراسس میں صرف امتِ محمدی شامل نہیں تھی، بلکہ دوسری اقوام نے بھی اس تاریخی پراسس میں حصہ لیا۔ اس نکتے کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اکیسویں صدی میں امتِ محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیینِ حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباًاسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔
…بالفلسفة (علم الکلام اور فلسفہ سے نہیں)۔اس پر میرا سوال یہ ہے کہ عصرحاضر کا ایک داعی اسلوب عصر کو اپناتا ہے تو کیا اس کو فلسفہ کہا جائے گا، اور اس کو وحی سے إنذار نہ کرنے کا ہم معنی قرار دیا جائے گا؟ (حافظ سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو)
’’وحی کے ذریعہ یا وحی کے موافق انذار‘‘ کسی مخصوص مسلک کے مطابق انذار نہیں ہے۔ اس میں سارا قرآن شامل ہے ۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ اس آیت کے مطابق، آفاق و انفس کے مطالعے سے معلوم ہونے والی تمام نشانیاں اس میں شامل ہیں۔ آپ انفس اور آفاق کا مطالعہ کریں، اور اس سے حاصل کردہ معلومات کو اپنی دعوت میں استعمال کریں تو وہ سب انذار بالوحی میں شمار ہوگا۔ اگر آپ غور کیجیے تو آفاق و انفس کی نشانیوں میں سارے ثابت شدہ علوم شامل ہوجاتے ہیں۔ انذار بالوحی کسی فقہی مسلک پر مبنی انذار نہیں ہے، بلکہ سارے حقائق فطرت اس میں شامل ہیں۔
اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَمَا أَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ (42:30) ۔ اس آیت کے مطابق، اگر آپ ایسا کریں کہ مسلمانوں کو نصیحت کریں کہ دوسرے کے ظلم کی شکایت کرنا چھوڑیں ۔ہر ایسے…
نشانیوں کا ظہور
قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بعد کی تاریخ کے لیے ایک پیشین گوئی اِن الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقّ( 41:53)۔ یعنی مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، کائنات میں بھی اور انسان کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔
قدیم زمانے میں جو انبیا آئے، انھوںنے خرقِ عادت معجزے دکھائے۔ یہ معجزے اُن کے معاصرین کے لیے اُن کے پیغمبر ہونے کی دلیل تھے۔ حسّی معجزہ معاصرین کے لیے دلیل ہوتا ہے، بعد کے لوگوں کے لیے وہ دلیل نہیں ہوتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خدا…
…ریسرچ (objective research) ہونے لگی۔ مختلف اسباب کی بنا پر یہ کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا۔ یہ عمل گلیلیو اور نیوٹن کے زمانے میں شروع ہوا۔ اسی عمل (process) کا نقطۂ انتہا وہ ظاہرہ تھا، جس کو تہذیب (civilization) کہا جا تا ہے۔
مغربی تہذیب دراصل اللہ کے تخلیقی عجائب (wonders of creation) کا نام تھی۔ اس تہذیب کے تحت جو سائنس پیدا ہوئی، وہ در اصل وہی چیز تھی، جس کے ذریعے وہی کام انجام پایا جس کو قرآن میں تبیین ِحق (فصلت،41:53) کہا گیا ہے، یعنی خالق کی معرفت بذریعہ تخلیق۔ جیسا کہ حدیث میں پیشین گوئی کے طو رپر آیا ہے:إِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی اللہ اس دین کی مدد فاجر آدمی سے کرے گا۔
مگر معاملہ یہ پیش آیا کہ جس چیز پر مسلمان بھڑک گئے، وہ ان کا فاجر ہونا تھا۔حالاں کہ اس حدیث کا مطلب یہ تھا کہ کلچرل اعتبار سے اگرچہ وہ ایسی باتوں میں مبتلا ہوں گے، جوبرا ہوگا، مگر وہ جو کام انجام دیں گے، وہ اسلام کی تائید کا کام بن جائے…
…دعا میں مستقبل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا تھا: رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَى الَّذِینَ مِنْ قَبْلِنَا َ (2:286) ۔ یعنی اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جیسا بوجھ تو نے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔
دین کے اعتبار سے تہذیبی ترقیوں کے دو پہلو تھے۔ ایک، نظریاتی پہلو اور دوسرا، عملی پہلو۔ نظریاتی پہلو یہ تھا کہ تہذیب کے دور میں جو سائنسی دریافتیں ہوئیں، وہ نئی قوت کے ساتھ اسلام کی علمی تصدیق بن رہی تھیں۔ تہذیب کے اس پہلو کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں پیشگی طور پر کیا گیا تھا: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔
قرآن اللہ کے دین کا مستند اعلان ہے۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوا۔ قرآن میں دینِ خداوندی کے صداقت کے دلائل موجود تھے۔ مگر وہ بظاہر سادہ فطری اسلوب میں تھے۔ اللہ نے مادی دنیا کے اندر بہت سے امکانات قوانینِ فطرت (laws of nature) کی…
…کا بندہ اعلیٰ عقلی استدلال کے ذریعے دجال کی پر فریب باتوں کو غلط ثابت کرے گا۔ وقت کے مطابق یہ کام حجت (reason) کی سطح پر ہوگا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دورِ سائنس میں پیش آئے گا۔ جب کہ مبنی بر تعقل دلائل کا دور آچکا ہوگا۔
سائنسی دور سے پہلے دینِ حق کی گواہی عقلِ عام (common sense) کی سطح پر دی جاتی رہی ہے۔ اس کے بعد دنیا میں سائنسی دور آیا۔ اس دور کو قرآن میں آفاق و انفس کے دلائل کے ظہور (فصلت،41:53) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دجال اسی دور میں ظاہر ہوگا۔ وہ جس ہتھیار سے لوگوں کو فریب میں ڈالے گا، وہ عقلی ہتھیار ہوگا۔ اللہ کی توفیق سے اس زمانے میں ایک بندہ عقل کا زیادہ برتر استعمال کرکے دجال کے فریب کو ختم کردے گا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم (great witness) کہا گیا ہے۔
سائنسی دور عقلیاتی دور کے دلائل کے ظہور کا زمانہ ہوگا۔ اس زمانے میں دجال عقلی دلائل کو غلط طور پر اپنے حق میں استعمال کرے گا۔ اس وقت اللہ کی توفیق سے اللہ کا ایک باخبر بندہ اٹھے گا، وہ اس دجال کی دجالیت کا پردہ پھاڑ کر حق کی کامل تبیین کرے…
…ہوگا۔ وہ جس ہتھیار سے لوگوں کو فریب میں ڈالے گا، وہ عقلی ہتھیار ہوگا۔ اللہ کی توفیق سے اس زمانے میں ایک بندہ عقل کا زیادہ برتر استعمال کرکے دجال کے فریب کو ختم کردے گا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم (great witness) کہا گیا ہے۔
سائنسی دور عقلیاتی دور کے دلائل کے ظہور کا زمانہ ہوگا۔ اس زمانے میں دجال عقلی دلائل کو غلط طور پر اپنے حق میں استعمال کرے گا۔ اس وقت اللہ کی توفیق سے اللہ کا ایک باخبر بندہ اٹھے گا، وہ اس دجال کی دجالیت کا پردہ پھاڑ کر حق کی کامل تبیین کرے گا (فصلت،41:53)۔
دینِ خداوندی کے دو دور
ایک تاریخی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اورانفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔
یہ سورہ ایک مکی سورہ ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں کسی وقتی صورت حال کا ذکر نہیں ، بلکہ اس میں دینِ خدواندی کی پوری تاریخ کا ایک اجمالی بیان ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی دینی جدو جہد کسی وقتی نشانی کے لیے نہیں تھی،…
…دین پر غالب آگیا۔ رسول اوراصحابِ رسول کی جدو جہد سے شرک کے دین کا دبدبہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ اب اگر کہیں شرک کا دین باقی ہے تو وہ کچھ لوگوں کے اندر محض ذاتی عقیدے کی سطح پرباقی ہے۔ اجتماعی غلبے کی شکل میں کہیں بھی شرک کا دین باقی نہیں۔
لیکن بعد کے زمانے میں دینِ الحاد (atheism)وجود میں آیا۔ موجودہ زمانے میں یہی دینِ الحاد نظریاتی اعتبار سے ایک غالب دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی واقعہ ہے جس کی بنا پر قرآن کی مذکورہ آیت (فصلت، 41:53)میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی دینِ شرک کا خاتمہ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں ہوا، اور دینِ الحاد کا خاتمہ بعد کے زمانے میں ہوگا۔
قرآن میں اظہارِ دین (التوبۃ، 9:33)کو پیغمبر اسلام کا نشانہ بتایا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نشانے کی تکمیل کے دو دور ہیں۔ پہلا دور روایتی دور (traditional age) تھا،جس کا اتمام سائنسی انقلاب سے پہلے وقوع میں آیا۔ اس دور میں…
…ایک غالب دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی واقعہ ہے جس کی بنا پر قرآن کی مذکورہ آیت (فصلت، 41:53)میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی دینِ شرک کا خاتمہ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں ہوا، اور دینِ الحاد کا خاتمہ بعد کے زمانے میں ہوگا۔
قرآن میں اظہارِ دین (التوبۃ، 9:33)کو پیغمبر اسلام کا نشانہ بتایا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نشانے کی تکمیل کے دو دور ہیں۔ پہلا دور روایتی دور (traditional age) تھا،جس کا اتمام سائنسی انقلاب سے پہلے وقوع میں آیا۔ اس دور میں رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد سے ایسے حالات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا پراسس شروع ہوا، جو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ دوسرا دور آفاق و انفس کی نشانیوں کی دریافت (فصلت، 41:53) کے بعد کا دور ہے، جو پچھلے چار سوسال کے اندر سائنسی انقلاب کے ذریعے پیش آیا۔
اسی سائنسی انقلاب کو قرآن میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی لیے اس دوسرے دور کو قرآن (فصلت، 41:53) میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ گویا تبیینِ حق کے دودور ہیں۔ ایک ہے روایتی دور میں تبیینِ حق، اور دوسرا…
…ہوئے، جس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا پراسس شروع ہوا، جو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ دوسرا دور آفاق و انفس کی نشانیوں کی دریافت (فصلت، 41:53) کے بعد کا دور ہے، جو پچھلے چار سوسال کے اندر سائنسی انقلاب کے ذریعے پیش آیا۔
اسی سائنسی انقلاب کو قرآن میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی لیے اس دوسرے دور کو قرآن (فصلت، 41:53) میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ گویا تبیینِ حق کے دودور ہیں۔ ایک ہے روایتی دور میں تبیینِ حق، اور دوسرا ہے سائنسی دور میں تبیینِ حق۔ اس دوسرے دور میں وہ علمی فریم ورک (scientific framework)وجود میں آیا، جس کو استعمال کرکے اعلیٰ معرفت حاصل کی جائے، اور دینِ الحاد کا نظری طور پر خاتمہ کردیا جائے۔
تبیینِ حق کے یہ وسائل اکیسویں صدی میں آخری طور پر حاصل ہوچکے ہیں۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہوگیا ہے کہ ان نئے امکانات کو استعمال کرکے دینِ الحاد کا نظری خاتمہ کردیا جائے۔ یہی وہ دور ہےجس کی خبر حدیث میں شہادتِ اعظم کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ حدیث…
…دے۔ ہم تمہاری خطاؤں کو بخش دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو زیادہ بھی دیں گے۔ تو ظالموں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی، دوسری بات سے۔ اس پر ہم نے ان لوگوں کے اوپر جنھوں نے ظلم کیا، ان کی نافرمانی کے سبب سے، آسمان سے رِجز اتارا۔
یہی واقعہ بدلی ہوئی صورت میں امتِ مسلمہ کے ساتھ پیش آیا۔ موجودہ زمانہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک نئے دور میں داخل ہونے کا زمانہ تھا، وہ زمانہ جس میں مواقع (opportunities)کا انفجار تھا ،جہاں ان کے لیے ہر قسم کے مواقع اعلیٰ پیمانے پر موجود تھے۔ اس زمانے کی پیشین گوئی پیغمبر اسلام نے بہت پہلے کردی تھی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے کہ آفاق و انفس کی نشانیاں دینِ اسلام کی صداقت بن جائیں گی(سورۃ فصلت، 41:53)۔اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں غیر مسلم قومیں بھی اسلام کی موید (supporters)بن جائیں گی(مسند احمد، حدیث نمبر 20454) ۔ موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔لیکن مسلمان اپنے منفی نفسیات کی بنا پر ان مواقع کو پہچاننے میں ناکام ہوگئے۔ بجائے اس کے کہ وہ دور حاضر کے ان مواقع کو خدائی مشن ، دعوت الی اللہ، کے لیے استعمال کرتے، وہ دور حاضر کو دشمن سمجھ کر اس کے خلاف ہوگئے۔ یہ واقعہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ رب العالمین کے منصوبے کو سمجھنے میں ناکام رہے۔
…کے مسلمان رسول اللہ کی نعت خوانی کررہے ہیں، نثر میں بھی اور نظم میں بھی۔ قرآن میں جس چیز کو رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے، اس کو تمام دنیا کے مسلمان شخصی منقبت کے معنی میں لیے ہوئے ہیں۔ لیکن قرآن کی اس آیت میں ایک بہت بڑی حقیقت کا اعلان ہے۔
وہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے تاریخ میں ایک انقلاب برپا کیا۔ جس کا حوالہ قرآن میں اتمام نور (التوبۃ ، 9:32۔الصف، 61:8) کے الفاظ میں ملتا ہے۔ یہ اتمام نور کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے ذریعے تاریخ میں ایک عالمی انقلاب برپا کیا جائے گا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں ایک بہت بڑا واقعہ پیش آئے گا۔ وہ ہے آفاق و انفس کی آیات (فصلت، 41:53) کا منکشف کیا جانا۔ اس عمل (process) کے نقطۂ انتہا (culmination)پر وہ عظیم حقائق ظاہر ہوئے جن کو اللہ رب العالمین کی معرفت کا کائناتی خزانہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ انقلاب وہی تھا جس کو جدید سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار وہ سائنٹفک فریم ورک انسان کے علم میںآیا، جو اللہ رب العالمین کی اعلیٰ معرفت کا دفتر ہے۔
میں نے اپنے مطالعے کے ذریعے اس حقیقت کو دریافت کیا، اور سائنسی فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے، اللہ رب العالمین کی اعلیٰ معرفت تک پہنچا۔ یہ ربانی معرفت بلاشبہ میرا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اگر میں اس فریم ورک سے بے خبر ہوتا تو شاید میں ایک…
…کے اعتبار سے دین خداوندی کے لیےپوری طرح ایک موافق تہذیب ہے۔تاہم ہر دوسری چیز کی طرح اس تہذیب کے بھی مختلف پہلو ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس تہذیب کے غیر متعلق پہلو (irrelevant part) کو نظر انداز کرکے اس کے متعلق پہلو (relevant part) کو دیکھا جائے۔
اس مادی تہذیب کا بالواسطہ حوالہ قرآن کی ایک آیت میں ملتا ہے، وہ آیت یہ ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ ُ (41:53)۔یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ یہ حق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔ یہاں آیات سے مراد وہ قوانین فطرت ہیں جو تخلیقی طور پر اس دنیا میں ہمیشہ سے موجود تھے۔ ’’ہم نشانیاں دکھائیں گے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کچھ انسانوں کو توفیق دے گا کہ وہ فطرت کے مخفی قوانین (hidden laws of nature) کو دریافت کریں، اور اس طرح دین خداوندی کی تائید (support) کے لیے ایک عقلی بنیاد (rational base)فراہم ہو۔ اس تہذیب نے انسانی دنیا اور مادی دنیا میں چھپی ہوئی جن حقیقتوں کو دریافت کیا ہے، وہ سب بلاشبہ دینِ حق کی فکری تصدیق کرنے والی ہیں۔
موجودہ دنیا میں انسان کو آباد کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ معرفت (realization) کا سفر کرے، اور اپنی شخصیت کو اعلی ارتقاء کے درجے تک پہنچائے۔ اس تہذیب نے انسان کے لیے غور و فکر کا ایک نیا فریم ورک (framework) دیا۔ اس نے غورو فکر کے لیے…
…یک طرفہ عقیدہ کی بات نہیں ہے، بلکہ دو طرفہ طور پر ثابت شدہ یونیورسل فیکٹ کی بات ہے۔ آج سائنٹفک مطالعے نے یہ بتایا ہے کہ پوری یونیورس ایک ہی قانون کے تحت عمل کررہی ہے۔ اس کو ایک سائنسداں نے واحد ڈور کا نظریہ (single-string theory) کہا ہے۔
یہی وہ منصوبۂ الٰہی ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یہاں آفاق و انفس کی آیات سے مراد ایسے دلائل ہیں، جو دونوں فریقوں کے درمیان تسلیم شدہ ہوں۔کیوں کہ وہ عالمی قانون فطرت سے مستنبط ہیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری کیا ہے۔ وہ پراسس تھا، فطرت (nature) میں انکوائری کا عمل جاری کرنا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ صلیبی جنگوں کے بعد مغربی قوموں کو سائنسی دریافتوں کی طرف موڑ دیا۔اس طرح تاریخ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ تقریباً پانچ سو سال کے عمل کے بعد انسان نے فطرت میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو دریافت کیا۔ یہ دریافتیں مسلّمہ سائنسی دریافتیں تھیں، جوریاضیاتی اصولوں پر مبنی تھیں۔ اس بنا پر یہ دریافتیں ہر ایک کےلے ناقابل انکار حقیقتیں بن گئیں۔
اس طرح تاریخ میں پہلی بار فطرت کی ایسی عالمی حقیقتیں دریافت ہوئیں ، جو ہر انسان کے لیے ناقابل انکار بن گئیں۔ اس بنا پر پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دوطرفہ مسلّمات کی بنیاد پر لوگوں کو حق کا پیغام دیا جائے۔اس طرح کی سائنسی دریافتوں کے نتیجے میں…
…میں واضح طور پر اس دور کی طرف اشارہ ہے جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس، اور کمیونی کیشن آچکا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ دور آجائے تب امت محمدی پر اس دور کا استعمال برائے دعوت اسی طرح فرض ہوجائے گا جس طرح نماز اور روزہ ابدی طور پر فرض ہے۔
2 - قرآن میں اس نوعیت کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہاں آفاق سے مراد مادی دنیا(material world) اور انفس سے مراد انسانی دنیا (human world) ہے۔
قرآن کی اس آیت میں آنے والے سائنسی دور کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں امت محمدی کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ جب وہ سائنسی دور دنیا میں آجائے تو تم فور اًاس کو پہچان لینا، اور از سر نو سائنس کی دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اپنے دعوتی مشن کی…
…میں واضح طور پر اس دور کی طرف اشارہ ہے جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس، اور کمیونی کیشن آچکا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ دور آجائے تب امت محمدی پر اس دور کا استعمال برائے دعوت اسی طرح فرض ہوجائے گا جس طرح نماز اور روزہ ابدی طور پر فرض ہے۔
2 - قرآن میں اس نوعیت کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہاں آفاق سے مراد مادی دنیا(material world) اور انفس سے مراد انسانی دنیا (human world) ہے۔
قرآن کی اس آیت میں آنے والے سائنسی دور کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں امت محمدی کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ جب وہ سائنسی دور دنیا میں آجائے تو تم فور اًاس کو پہچان لینا، اور از سر نو سائنس کی دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اپنے دعوتی مشن کی…
…ہوتی ہے جس کو اُس نے کسی وجہ سے اپنا مخالف سمجھ لیا ہے۔ تنقیص صرف ایک غیر اخلاقی فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی کوئی علمی واقعہ نہیں۔ تنقید کا عمل اگر علمی اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے تو تنقیص کا عمل کسی شخص کے خلاف ذاتی سبّ وشتم کی بنیاد پر۔
تبیین حق سے مراد دعوت اعظم ہے۔ یعنی اعلیٰ ترین سطح پر دعوت حق کی ادائیگی۔ یہ وہی بات ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور ان کے انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو قرآن میں آفاق و انفس کی آیات کے ذریعےحق کی اعلیٰ تبیین کہا گیا ہے، اور حدیث میں اس کو شہادت اعظم کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
…ہم عصر فرعون (Merneptah) کی لاش مصر کے ایک اہرام میں دریافت ہوئی تو یہ سوال تھا کہ اس کی تاریخ کا تعین کیسے کیا جائے۔ یہاں یہ بات سائنس کے دریافت کردہ ایک طریقہ کار کاربن ڈیٹنگ (carbon dating) کے اپلیکیشن (application)کے ذریعہ معلوم ہوئی۔
علم سائنس کا یہ پہلو خود قرآن میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ(41:53) ۔ مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔
…کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ، خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرناہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چناں چہ قدیم زمانے میں معرفت اعلیٰ تک پہنچنے کے لئے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔
موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اُسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی رد عمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔
قدیم زمانے کے انسان کے لیےسائنسی فریم ورک نہ ہو نے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے…
…حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ عز وجل لیؤید الإسلام برجال ما ہم من أہلہ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14640)۔ بے شک اللہ عز و جل اسلام کی تائید ان لوگوں کے ذریعہ کرے گا جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔
اصل یہ ہے کہ اسلام کی تحریک پچھلے زمانے میں روایتی بنیاد پر چلتی تھی۔ لیکن فطرت (nature) کےاندر خالق نے اپنے عظیم کلمات چھپا دیے تھے۔ خالق کو مطلوب تھا کہ یہ کلمات دریافت کیے جائیں، اور ان کو کتابوں کی صورت میں مدون کیا جائے۔ تاکہ اسلام کی صداقت کو مبرہن کرنے کے لیے سائنٹفک فریم ورک (scientific framework) حاصل ہو، اور اعلیٰ سطح پر دین خداوندی کی معرفت ممکن ہوجائے۔ جدید تہذیب کے بعد اکیسویں صدی میں یہ امکان پوری طرح واقعہ بن چکا ہے۔یہی وہ واقعہ ہے جس کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میںکی گئی تھی: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ (41:53)۔ فطرت کے رازوں کی دریافت کے بعد یہ سب کچھ اب واقعہ بن چکا ہے۔
یہ دور امکانی طور پر ظہور اسلام کا دور ہے۔ یہ دور گلیلیو گلیلی (1564-1642)کی تحقیقات سے شروع ہوا، اور اب اسٹیفن ہاکنگ (پیدائش 1942:) کی تحقیقات کے ساتھ وہ اپنی تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دریافت کردہ حقائق کو لے کر خدا کے دین…
جدید سائنسی تحقیقات سے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں، وہ ہم کو ایک نیا فریم ورک (framework) دے رہی ہیں۔ اس فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے، یہ ممکن ہوگیا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو وقت کےمسلمہ علمی معیار پر ثابت شدہ بنایا جا سکے۔
جدید سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام کا علم کلام ہے۔ جدید سائنس نے وہ ڈیٹا (data) فراہم کردیا ہے جس کی بنیاد پر اسلام کی تعلیمات کو وقت کے مسلمہ معیار کی بنیاد پر پیش کیا جائے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جدید سائنسی دور قرآن کی ایک آیت کی پیشین گوئی کا واقعہ بننا ہے۔ وہ آیت یہ ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ (41:53) ۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے ظہور سے مراد یہ ہے کہ مستقبل میں سائنسی مطالعہ کے ذریعہ فطرت کے قوانین (laws of nature) دریافت ہوں گے، اور ان دریافتوں کے ذریعے یہ ممکن ہوجائے گا کہ اسلامی حقیقتوں کو اعلیٰ عقلی معیار پر ثابت…
…نے غیر معمولی جد و جہد کے ذریعہ ایک ایسا انقلاب برپا کیا، جس کے ذریعہ بعد کے زمانے میں ایک تاریخی عمل (historical process) جاری ہوگیا۔ اس تاریخی عمل نے وہ مواقع کھولے، جن کے ذریعہ دنیا میں تہذیبی انقلاب (civilizational revolution) آیا۔
موجودہ زمانے میں ہم اپنے آپ کوجس تہذیب کے دور میں پاتے ہیں اس تہذیب کو عام طور پرمغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک مادی تہذیب (material civilization) ہے۔ یہ مادی تہذیب خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ایک مقدرتہذیب تھی۔ اس مادی تہذیب کا پیشگی حوالہ قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ أَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ أَنَّہُ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ شَہِیدٌ ُ (41:53)۔یعنی مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔
یہاں آیات سے مراد وہ قوانین فطرت ہیں جو تخلیقی طور پر اس دنیا میں ہمیشہ سے موجود تھے۔ ’’ہم نشانیاں دکھائیں گے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کچھ انسانوں کو توفیق دے گا کہ وہ فطرت کے مخفی قوانین (hidden laws of nature) کو دریافت کریں، اور…
…مثلا قرآن کو محفوظ کرنا، حدیث کی جمع و تدوین، اسلامی فقہ کو مرتب کرنا، اور دوسرے ان غیر سیاسی کاموں کو انجام دینا، جس کے نتیجےمیں بعد کے زمانے میں امت مسلمہ کا ایک منظم دینی ڈھانچہ قائم ہوا۔ اور جو اب تک کسی نہ کسی صورت میں عملا موجود ہے۔
قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اجر عظیم ( great reward) سے مرادثوابِ عظیم نہیں ہے، بلکہ نتیجہ عظیم ہے، جو بعد کی تاریخ میں پیش آیا۔اس عظیم نتیجہ کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
صحابہ اور تابعین کی کوششوں سے اسلام کا مکمل اظہار ہوا۔ لیکن یہ اظہار روایتی دور (traditional age) کے اعتبار سے تھا۔ اسلام کا ایک اور اظہار ابھی باقی تھا۔ اور وہ تھا عقلی فریم ورک (rational framework) کے مطابق، اسلام کا اظہار۔ اس مقصد کے…
باہمی تعاون کا نظام
قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔ (41:53)
قرآن کی اس آیت میں سنریہمکا لفظ ہے۔ اس میں متکلم کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔یعنی ہم دکھائیں گے۔ لیکن یہ اسلوب کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے کچھ بندوں کو کھڑا کرے گا، وہ زمین و آسمان میں تحقیق کریں گے۔ پھر وہ تحقیق کے ذریعے ایسی…
…شروع کیا جائے۔ جو انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، مختلف مراحل سے گزرے۔ اور پھر وہ اپنے نقطۂ انتہا (culmination) تک پہنچے۔ یہ عمل عرب میں شروع ہوا۔ اور مغرب میں جدید تہذیب (modern civilization)کی صورت میں اپنی تکمیل تک پہنچا۔
اس انقلاب کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ تھا کہ علوم کی ترقی اس طرح ہو کہ تمام علمی اور سائنسی دلائل دینِ خداوندی کی تصدیق بن جائیں۔ یہ مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ تھا ، جس کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اس انقلاب کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ عملی اعتبار سے یہ اسباب دینِ خداوندی کے مویّد (supporter) بن جائیں۔ یہ انقلاب صرف اہل ایمان کے ذریعے نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کے لیے دوسری قوموں کو بھی اس عمل کا موید بنا دیا۔ یہ پیشین گوئی ایک حدیثِ رسول میں اس طرح ملتی ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر3062 ) ۔
اکیسویں صدی میں یہ تائیدات اپنی آخری صورت میں حاصل ہوچکی ہیں۔ مثلا موجودہ زمانے میں قول و عمل کی آزادی کا انسان کے لیے ایک ناقابلِ تنسیخ حق قرار پانا، ٹکنالوجی کی ترقی کے ذریعے ہر قسم کے امکانات کا اعلی سطح پر کھل جانا، پرامن طریقۂ کا ر…
…کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ، خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرناہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چناں چہ قدیم زمانے میں معرفت اعلیٰ تک پہنچنے کے لئے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔
موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اُسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی رد عمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔
قدیم زمانے کے انسان کے لیےسائنسی فریم ورک نہ ہو نے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے…
مستقبل کی آیتیں
پہلی قسم کی آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ( 41:53)یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی- یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے- قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیاہے- یعنی اس میں ایک ایسے واقعے کا ذکر ہے، جو قرآن کے نزول کے بعد آنے والے زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا-
اسی طرح قرآن میں حضرت موسی کے زمانے کے فرعون مصر کے تذکرے کے تحت یہ آیت آئی ہے: فَٱلْیَوْمَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَنْ خَلْفَکَ ءَایَةً ۚ وَإِنَّ کَثِیرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ عَنْ ءَایَٰتِنَا لَغَٰفِلُونَ.(10:92)یعنی پس آج ہم…
…قرآن کے متن کی یہ حفاظت اتنی کامل صورت میں ہوئی ہے کہ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ حفاظت اولاً حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوئی، اس کے بعد کاغذ پر کتاب کی صورت میںہوئی۔ اب یہ حفاظت مزید اضافہ کےساتھ انٹر نیٹ کے ذریعہ ہو رہی ہے۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو، یعنی ہدایت ربانی (دین حق) کا براہین و حجج کے ذریعہ آخری حد تک مدلل ہونا بھی اب ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اس واقعہ کی پیشگی اطلاع قرآن کی اس آیت میں دی گئی تھی: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ (41:53) یعنی ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں جس چیز کو اظہارِ دین کہا گیا ہے، اس سے مراد یہی اظہار ہے۔ یہاں اظہار ِ دین میں کسی پولٹیکل غلبہ کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس سے وہ غلبہ مراد ہے، جو آئڈیالوجی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یعنی حجج و براہین (عقلی دلائل) کے ذریعہ…
خدا کی نشانیاں
قرآن میں خالق کے ایک منصوبہ کو ان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ ۭ(41:53)یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خودان کے اندر بھی- یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے-
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں وسیع پیمانےپر خدائی صداقت کی نشانیاں (signs) موجود تھیں، لیکن وہ بالقوہ (potential) حالت میں پائی جاتی تھیں- خدا کو یہ مطلوب تھا کہ اِس بالقوہ کو بالفعل (actual) بنایا جائے- جب ایسا ہوگا تو…
…بارے میں مخالفانہ جذبات رکھتے ہوں، تب بھی ان کی حیثیت مدعو کی ہے- ہمارا فرض ہے کہ ہم مغربی قوموں کے مخالفانہ رویّے کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کو مثبت انداز میں اسلام کی دعوت پہنچائیں، اور انسانی خیر خواہی کے جذبے سے ان کی اصلاح کے طالب ہوں-
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمارے علما نے مغربی اقوام کو صرف نوآبادیاتی اقوام کے ہم معنی سمجھ لیا، حالاںکہ اِن اقوام کی ایک اور حیثیت تھی جو اِس سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی تھی، وہ یہ کہ اِن مغربی اقوام نے تاریخ میں پہلی بار اُس علم کو پیدا کیا جس کو جدید سائنس کہاجاتا ہے- جدید طبیعی سائنس اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز تھی جس کو قرآن میں آفاق وانفس (41:53) کی آیات کا ظہور بتایا گیا ہے- یہ آیتیں (signs) اسلامی دعوت کے حق میں عظیم تائید کے ہم معنی تھیں، مگر علما نے اِن آیتوں (نشانیوں) کو نہ تو سمجھا اور نہ ان کو اسلامی دعوت کے حق میں استعمال کیا-
پرنٹنگ پریس کے زمانے میں مسلم سیرت نگاروں نے کثرت سے سیرت پر کتابیں لکھیں ہیں- یہ کتابیں مختلف زبانوں میں شائع ہوئی ہیں- لیکن ان کا جائزہ لیجئے تو غالباً سیرت کے موضوع پر کوئی ایک قابلِ ذکر کتاب ایسی نہیں ہے جس میں پیغمبر کی داعیانہ حیثیت…
…تصدیق کردی- اسلام ایک دعوتی مشن ہے اور اسلام کے دعوتی مشن کی عالمی تکمیل کے لیے ضروری تھا کہ دنیا میں مذہبی آزادی کو ایک مسلّمہ بین اقوامی اصول کے طور پر مان لیا گیا ہو- یہ واقعہ پہلی بار مغربی تہذیب کے دور میں کامل طورپر انجام پایا ہے-
3- قدیم زمانے میں مذہب کی بنیاد صرف عقیدہ (belief) ہوا کرتا تھا- انسان ایک عقلی وجود (rational being) ہے- ضرورت تھی کہ انسان کو ایسا مذہب دیا جائے جو اس کے عقلی ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو- لیکن اِس مقصد کے لیے عقلی ڈیٹا (rational data) درکار تھا جو کہ قدیم زمانے میں دستیاب نہ تھا- مغربی تہذیب کے تحت پیدا ہونے والی سائنس نے فطرت (nature) میں تحقیق کے ذریعے یہ عقلی ڈیٹا فراہم کیا- اِس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ دینِ خداوندی کے عقائد کو عقلی بنیاد (rational ground) پر قابلِ فہم (understandable) بنایا جاسکے-اِس حقیقت کا اعلان قرآن مجید میں پیشگی طورپر اِن الفاظ میں کیا گیا تھا: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ(41:53)-
قرآن کی اِس آیت میں ’آفاق اور انفس‘ سے مراد تمام وہ مادی اور غیر مادی تخلیقات ہیں جو وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں- اِس پورے مجموعے کو فطرت (nature) کہاجاتا ہے- فطرت کی اِس دنیا میں بے شمار ربانی نشانیاں (signs of God)موجود تھیں- ضرورت…
…میں انجام پائے گا- غالباً اِس سے مراد انسانی تاریخ کے آخری زمانے کا ایک فائنل دعوتی رول ہے- اِس دعوتی رول کی صراحت اگر چہ حدیث میں موجود نہیں ہے، لیکن قرآن وحدیث میں ایسے اشارات موجود ہیں جن پر غور کرکے اِس رول کو متعین کیا جاسکتا ہے-
1- شہادتِ اعظم کے نظری پہلو کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اِس آیت سے رہنمائی ملتی ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَق (41:53)- قرآن کی اِس آیت میں ’آیات‘ سے مراد تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیاں ہیں- ان نشانیوں کو موجودہ زمانے میں مغربی سائنس دانوں نے غیر معمولی تحقیق کے ذریعے دریافت کیا- اِس طرح دینِ خداوندی کی تاریخ میں ایک نیا دور آگیا- قبل از سائنس دور (pre-scientific era)میں جو ایمان پیغمبروں کے بتائے ہوئے عقیدہ (belief) کی حیثیت رکھتا تھا، وہ بعد از سائنس دور(post-scientific era) میں خود انسان کے اپنے دریافت کردہ علوم کے تحت ایک ثابت شدہ حقیقت بن گیا-
اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں کائنات ایک پر اسرار ظاہرہ بنی ہوئی تھی-قدیم زمانے میں نہ عالمِ اکبر (macro world) کو دیکھنے کے لیے دور بین موجود تھی اور نہ عالمِ اصغر (micro world) کو دیکھنے کے لیے خورد بین دستیاب تھی- موجودہ…
تہذیب کے دو دور
تہذیب کے دو دور جن کا ذکر اوپر کیاگیا، اُن کا حوالہ قرآن میں صراحتاً موجود ہے- تہذیب کا پہلا دور جو قوانینِ فطرت کی جزئی دریافت کے ذریعے موجودہ دنیا میں ظہور میں آئے گا، اس کا ذکر قرآن کی سورہ حم السجدہ میں اِن الفاظ میں آیا ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ (41:53) یعنی عن قریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں (signs) دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح آشکارا ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے-
قرآن کی اِس آیت میں قوانینِ الہیہ پر مبنی تہذیب کے اُس دور کا ذکر ہے جو موجودہ دنیا میں پیش آنے والا تھا- قرآن کی یہ پیشین گوئی انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں سائنس کے ظہور کی صورت میں واقعہ بن چکی ہے- سائنس کی دریافتوں نے یہ کیا ہے کہ…
نشانیوں کا ظہور
قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بعد کی تاریخ کے لیے ایک پیشین گوئی اِن الفاظ میں آئی ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقّ( 41:53) یعنی مستقبل میں ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، کائنات میں بھی اور انسان کے اندر بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے-
قدیم زمانے میں جو انبیا آئے، انھوںنے خرقِ عادت معجزے دکھائے- یہ معجزے اُن کے معاصرین کے لیے اُن کے پیغمبر ہونے کی دلیل تھے- حسّی معجزہ معاصرین کے لیے دلیل ہوتا ہے، بعد کے لوگوں کے لیے وہ دلیل نہیں ہوتا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خدا…
…خلاف شکایت سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے کام کو مکمل کرو- جو آدمی شکایت کی زبان بولے، وہ صرف یہ اعلان کررہا ہے کہ اس نے اپنے لیے غلط نشانے کا انتخاب کیا تھا- یہ معاملہ خود اپنے نشانے کی غلطی کا معاملہ ہے، نہ کہ دوسروں کے ظلم یا دشمنی کا معاملہ-
مسلم دورِ سلطنت میں دوسرا جو بڑا کام ہوا، وہ یہ کہ فطرت کو پرستش کے موضوع سے ہٹا کر تحقیق کا موضوع بنا دیا گیا- یہ عمل بھی تدریجی طورپر جاری ہوا اور آخر کار اُس علمی انقلاب تک پہنچا جس کو سائنسی انقلاب (scientific revolution) کہاجاتا ہے- اِس سائنسی انقلاب نے اُس پیشین گوئی کو واقعہ بنادیا جس کی خبر قرآن میں اِن الفاظ میں دی گئی تھی: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ(41:53)- موجودہ زمانے میں جمہوری انقلاب اور سائنسی انقلاب کی صورت میں جو انقلابات ظہور میں آئے، وہ پوری طرح اسلام کے حق میں تھے-
یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید دور (modern age)پورے معنوں میں ایک موافقِ اسلام دور ہے- اِس دور کا آغاز مسلمانوں کے سیاسی عروج کے زمانے میں ہوا، لیکن اِس دور کی تکمیل تاریخ کے اُس تیسرے دور میں ہوئی جس کو اوپر کی تقسیم میں ’’سیکولر لوگوں کی…
…مغرب کے ذریعے انجام پائیں- اِس تاریخی عمل کا آغاز ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں امت مسلمہ کے ذریعے ہوا- اِس کے بعد اہلِ مغرب نے اِس معاملے میں تائیدی رول (supporting role) انجام دیا، جس کی تکمیل انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں ہوئی-
1- اِس معاملے میں اہلِ مغرب کے ذریعے جو کام انجام پایا، اس کے چار خاص پہلو ہیں اور اِن چاروں پہلوؤں کا اشارہ قرآن میں موجود ہے- اِن میں سے ایک کام وہ ہے جس کا ذکر بطور پیشین گوئی قرآن کی اِس آیت میں کیاگیا ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقّ(41:53)یعنی عنقریب ہم اُن کو آفاق میں اور انفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے، یہاں تک کہ اُن پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن حق ہے-
قرآن کی اِس آیت میں جس پیشین گوئی کا ذکر ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ اِس دنیا میں معرفت اور ایمانی رزق کے بے شمار آئٹم ہیں، جن کو قرآن میں آیات اور آلاء اللہ اور کلمات اللہ کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- اِس قسم کی چیزوں کا ذکر قرآن…
آیاتِ الہی کا ظہور
آیات اللہ یا آیاتِ معرفت کا ظہور پیشگی طورپر مقدر تھا- قرآن میں اِس کی پیشین گوئی اِن الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ(41:53)- قرآن کی اِس آیت میں جس چیز کو آفاق وانفس میں نشانیوں کا ظہور بتایا گیا ہے، وہ دراصل دورِ جدید میں نظریاتی سائنس کے ذریعے دریافت ہونے والے حقائقِ فطرت ہیں- اِن حقائق نے دورِ جدید میںمعرفتِ خداوندی کے نئے دروازے کھول دئے ہیں-اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ تخلیقاتِ الہیہ میں کمالاتِ الہیہ کو دیکھے اور معرفتِ خداوندی کا اعلی درجہ حاصل کرے- نیز اِسی کے ذریعے یہ بھی ممکن ہوگیا ہے کہ اِن حقائق فطرت کو دعوت الی اللہ کے عمل میں جدید دلائل کے طورپر استعمال کیا جائے- اِس طرح دعوت کے عمل کو خود انسان کے علمی مسلّمہ کے مطابق، ثابت شدہ بنادیا جائے-
اِس سائنسی انقلاب کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو موجودہ زمانے میں دورِ مواصلات (age of communication) کہاجاتا ہے- اِس دورِ مواصلات نے تاریخ میں پہلی بار اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ دعوت الی اللہ کے اُس عالمی نشانے کو پورا کیا جاسکے جس کی…
…ذہن (human-friendly mind) کہا جاسکتا ہے-پھر اِسی کے ساتھ اِس مدت میں ٹکنالوجی کو غیرمعمولی ترقی ہوئی، پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا، الیکٹرانک کلچر وجود میں آیا-پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے ایک نیا دور پیدا کیا جس کو دورِ مواصلات کہاجاتا ہے-
اِسی کے ساتھ ایک اور ترقی بہت بڑے پیمانے پر وجود میں آئی جس کو علم یا سائنس کی ترقی کہاجاتا ہے- اِس ترقی نے فطرت کے اندر چھپے ہوئے حقائق انسان کے سامنے کھول دئے- علم کے تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں ظہور میں آئیں- یہ تبدیلیاں جو موجودہ زمانے میں پیدا ہوئیں، وہ عین اسلام کے حق میں تھیں-اپنی حقیقت کے اعتبارسے، یہ اُس موافق دور کا ظہور تھا جس کی خبر پیشگی طورپر قرآن (41:53)میں دی گئی تھی-
موافقِ اسلام دور
…تائید کی حیثیت رکھتی تھیں- ایک قسم کی تائید وہ تھی جو اُس سائنس کے ذریعے حاصل ہوئی جس کو نظریاتی سائنس (theoretical science) کہاجاتا ہے- اور اسلام کے لیے دوسری تائید وہ تھی جس کو اصطلاحی طورپر انطباقی سائنس (applied science) کہاجاتا ہے-
نظریاتی سائنس نے یہ کیا کہ اس نے فطرت (nature) میں چھپے ہوئے وہ قوانین دریافت کیے جو اب تک غیر معلوم تھے- اِن قوانین کے بارے میں اشارات قرآن میں موجود تھے، لیکن قرآن میں ان کی تفصیل موجود نہ تھی- اہلِ ایمان کو ابھارا گیا کہ وہ زمین و آسمان میں غور کرکے اِن تفصیلات کو دریافت کریں، جو کہ ان کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ ہیں- لیکن بعد کے زمانے کے مسلمان یہ کام نہ کرسکے- آخر کار، اللہ تعالی نے اہلِ سائنس کے ذریعے یہ کام لیا- اللہ تعالی کا یہی منصوبہ ہے جس کو قرآن میں مستقبل کی پیشین گوئی کے طورپر اِس طرح بیان کیا گیا ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقّ(41:53)
اِس معاملے کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً مُّبٰرَکًا (50:9)یعنی ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا- قرآن کی اِس آیت میں اُس آفاقی تطہیر کا ذکر ہے جس کو موجودہ زمانے میں ازالہ نمک…
…متحقّق کی جاتی تھی، اب دعوت کی صداقت کو متحقق کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ یہ ذریعہ جدید سائنس ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس، قدیم معجزے کا بدل ہے ۔ آج سائنس ٹھیک وہی استدلالی رول انجام دے رہی ہے، جو قدیم زمانے میں معجزات کے ذریعے انجام پاتاتھا۔
مذہب کے حق میں استدلال کے یہ دونوں دَور قرآن میں واضح طورپر بتادئے گئے ہیں۔ پہلے دورِ استدلال کے بارے میں قرآن میں یہ آیت ہے: إنَّا أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ (57:25)یعنی ہم نے پیغمبروں کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے معجزے دئے۔ دوسرے دورِاستدلال کو قرآن میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سَنُرِیْہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میںہوا۔ آپ کے ظہور کے تقریباً ایک ہزار سال بعد جدید سائنس ظاہر ہوئی۔ جدید سائنس کا یہ ظہور محض اتفاقی نہ تھا، وہ پیغمبراسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک براہِ راست نتیجہ…
…کیں-جن مغربی قوموں کو انھوں نے مسلم دشمن قرار دیا ، انھیں کے اداروں میں جاب لینے کو وہ اپنے لئے قابلِ فخر سمجھنے لگے- اُن کے بزرگوں نے جن مغربی ملکوں سے ہجرت کا فتوی دیا تھا، انھیں ملکوں میں واپس جاکر وہ پُرفخر طورپر آباد ہونے لگے، وغیرہ-
اصل یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دو حصے تھے — ایک، اس کی سائنس اور دوسرے، اس کا کلچر- مغربی سائنس حقائقِ فطرت کے انکشاف پر مبنی تھی- اُس کے اندر ذاتی طورپر غلطی کا کوئی پہلو شامل نہ تھا- حقیقت یہ ہے کہ مغربی سائنس، قرآن کی اِس آیت کی انفولڈنگ تھی: وسخّرلکم ما فی السموات وما فی الأرض جمیعا منہ (45:13)- وہ قرآن کے الفاظ میں: وآتاکم من کل ما سألتموہ کا ٹکنالوجکل اظہار تھا- وہ آفاق وانفس کی آیات کی وہ تبیین تھی جس کی پیشگی اطلاع قرآن (41:53) میں دے دی گئی تھی-
مغربی تہذیب کا دوسرا پہلو اس کا کلچر تھا- یہ کلچر براہِ راست طورپر سائنس کی پیداوار نہ تھا، بلکہ وہ قومی اور سماجی عوامل کی پیداوار تھا- قومی اور سماجی دائرے میں خالق نے ہر انسان کو آزادی دی ہے- اِس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ…
…ابدی کتاب کی حیثیت سے اتارا گیا ہے، ا س لیے قرآن کے مذکورہ الفاظ میں یہ بات شامل ہے کہ نہ صرف روایتی دور میں، بلکہ بعد کو ظہور میں آنے والے سائنسی معیار کے مطابق بھی قرآن مسلّمہ طورپر اپنی ایک ثابت شدہ کلام کی حیثیت کو برقرار رکھے گا۔
اِس مصلحت کا تقاضا تھا کہ انسانی علم کا ارتقا ایسے نہج پر ہو جو قرآن کی صداقت کو بعد کے دورمیں بھی یکساں طورپر برقرار رکھے۔ یہی وہ مطلوب ہے جو بعد کے سائنسی دور میں حاصل ہوا۔ سائنس کی دریافتوں نے صرف یہ کیا کہ قرآن کے نظریات کو دوبارہ سائنس کے معیار پر ایک مسلّمہ معیار کی حیثیت دے دی۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی موافقِ قرآن واقعہ ہے جس کی پیشگی خبر ان الفاظ میں دی گئی تھی: سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفی أنفسہم حتی یتبین لہم أنہ الحق (41: 53) ۔
قرآن کی اِس آیت میں آفاق وانفس کی جن نشانیوں کا ذکر ہے، اُس سے مراد وہی چیز ہے جس کو جدید سائنس کی دریافتیں (scientific discoveries) کہا جاتا ہے۔ یہ دریافت دراصل فطرت میں قائم شدہ خدائی قانون کی دریافتیں ہیں۔ چوں کہ قرآن کو نازل کرنے…
5 - اس تاریخی عمل میں مغربی تہذیب کا ایک سپورٹنگ رول ہے۔ مغربی تہذیب کی حیثیت اِس تاریخی سفر میں ایک سیکولر مؤید (secular supporter) کی ہے۔
6 - دورِ جدید میں سائنس کی حیثیت اِ س تاریخی سفر میں ایک مؤید عنصر (supportive element) کی ہے۔ جدید سائنس نے نیچر کی انفولڈنگ کرکے اُن خدائی نشانیوں کو کھولا جن کو قرآن میںآیات (signs) کہاگیا ہے (41: 53)۔
7 - جدید دور کو ایج آف کمیونکیشن کہاجاتا ہے۔ یہ ایج دراصل موافقِ دعوت ایج ہے۔ گلوبل کمیونکیشن نے پہلی بار گلوبل دعوہ کو ممکن بنادیا ہے۔
…نے اہلِ مغرب کی اس منفی نفسیات کو محرک (incentive) کے طورپر استعمال کیا۔ اللہ نے اہلِ مغرب کو اِس کا ذریعہ بنایا کہ وہ نیچر میں چھپے ہوئے اسرار کو دریافت کریں اور ایک ایسی دنیا وجود میں لائیں جو اسلامی مشن کے لیے تائید کا ذریعہ ثابت ہو۔
اہلِ مغرب کے ذریعے یہ تائیدی واقعہ جو اپنی پوری صورت میں بیسویں صدی میں ظہور میں آیا، اس کی پیشگی خبر قرآن کی ایک آیت میں دی گئی تھی: سنریہم اٰیاتنا فی الاٰفاق وفی أنفسہم حتی یتبین لہم أنہ الحق (41: 53) یعنی مستقبل میں ہم اُن کو اپنی آیات دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاںتک کہ اُن کے اوپر یہ آشکارا ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔
اہلِ مغرب کے اِس رول کا تذکرہ حدیث میں بھی بطور پیشین گوئی موجود ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إن اللہ لیؤیّد ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062 ) یعنی اللہ اِس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔
…ہے۔ اِن آیتوں میں اشارۃً یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ کائنات میں چھپے ہوئے اِن کلمات کو دریافت کیا جائے اور ان کو ’’قلم‘‘ سے لکھا جائے، تاکہ انسان اللہ کی عظمتوں سے واقف ہو اور اعلیٰ درجۂ معرفت کے ساتھ الحمد للہ کہہ سکے۔
اللہ کے منصوبے کے مطابق، کلمات اللہ کی دریافت (discovery) اور ان کو قلم بند کرنے کا پراسس (process) موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور آخرت میں دوبارہ جاری رہ کر وہ تکمیل کے منازل طے کرتا ہے۔ موجودہ دنیا میں اِس عمل کے ذریعے ظہور میں آنے والے واقعے کا نام انسانی تہذیب (human civilization) ہے۔ جدید انسانی تہذیب اپنی نوعیت کے اعتبار سے، دراصل، فطرت (nature) میں چھپے ہوئے کلماتِ الٰہی کو دریافت کرنے ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہ عمل ابتدائی طورپر اِسی دنیا میں انجام پاچکا ہے اور اِسی کا نام جدید تہذیب ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن کی اِس آیت میں پیشگی طورپر کیا گیا ہے: سنریہم اٰیاتنا فی الاٰفاق وفی أنفسہم حتی یتبین لہم أنہ الحق (41: 53)۔
کلمات اللہ کے اِس دنیوی اظہار کا کام زیادہ تر سیکولر اہلِ علم نے کیا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر ایک حدیث رسول میںاِن الفاظ میں کیاگیا ہے: إن اللہ لیؤید ہذا الدین بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062)۔ اِس حدیث میں، ’’رجل…
I lived like hermit, and I produced my book on God.
جیسا کہ عرض کیاگیا، موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے فطرت کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، وہ گویا کہ خدائی نشانیاں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ آفاق اور انفس میںایاتِ الہی کے ظہور کے ہم معنیٰ ہیں (41: 53) ۔ اِس سلسلے میں اپنے مطالعے کے نتائج کو میںنے اپنی مختلف کتابوں میںتفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہاں مختصر طورپر چند مثالیں درج کی جاتی ہیں
1 - قدیم فلاسفہ اپنے فلسفیانہ فریم ورک کی بنا پر شخصی خدا (personal God) کے طورپر خدا کا ادراک نہیں کرپاتے تھے۔ چناں چہ انھوںنے خدا کو غیر شخصی خدا (impersonal God) بتایا۔ مگر غیر شخصی خدا صرف ایک خیالی خدا تھا، وہ (cosmic rays) یا…
…کار میں نے قرآن کی ایک آیت میںاپنا حوالہ پالیا۔ وہ قرآن کی سورہ حم السجدہ کی آیت نمبر 53 تھی۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ہم عنقریب اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں اور انفس میں، یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے کہ یہ (قرآن) حق ہے:
We shall show them Our signs in the universe and within themselves, until it becomes clear to them that this is the Truth. (41: 53)
جدید سائنس دراصل آیات ِ فطرت کا علم ہے۔ چناں چہ میں نے اِس پہلو سے دین کی خدمت کا فیصلہ کرلیا۔ میری تقریباً تمام کتابیں جدید علوم کی نسبت سے اسلام کی تشریح ہیں۔ ابتداء ً میں نے اِس پہلو سے چند پمفلٹ لکھے۔ مثلاً ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘…
…پایا۔ اُس زمانے میں قرآن اور قرآنی علوم کو حفاظت کے آخری درجے تک پہنچا دیاگیا۔ اِس زمانے میں حدیث کی تدوین کا کام بھی اعلیٰ سطح پر انجام دیاگیا، نیز دوسرے متعلق علوم پر اتنا زیادہ تحریری کام ہوا کہ اُن سے ایک پورا کتب خانہ تیار ہوگیا۔
3 - اِس سلسلے میں تیسرا کام وہ ہے جس کو قرآن میں تبیینِ حق (41: 53)کہا گیا ہے، یعنی آفاق اور انفس میں چھپی ہوئی خدائی نشانیوں کو کھولنا، تاکہ دینِ خداوندی کے حقائق خود علمِ انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بن جائیں۔ یہ کام ساتویں صدی اور آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم سائنس دانوں نے شروع کیا، پہلے بغداد میں اور پھر اندلس میں۔ اُس زمانے کے مسلم سائنس دانوں نے علومِ فطرت کی تحقیق میں کافی کام کیا، لیکن وہ اُس کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان مذہبی عقیدہ اور سائنسی تحقیق کو ایک دوسرے سے الگ نہ کرسکے۔ چناں چہ مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اور ان کے سائنسی علماء کے درمیان مسلسل نزاعات پیش آتے رہے، جس کی وجہ سے یہ کام زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اِس کی تفصیل درج ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے:
تاریخ اسلام، از: اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد سوم
…پایا۔ اُس زمانے میں قرآن اور قرآنی علوم کو حفاظت کے آخری درجے تک پہنچا دیاگیا۔ اِس زمانے میں حدیث کی تدوین کا کام بھی اعلیٰ سطح پر انجام دیاگیا، نیز دوسرے متعلق علوم پر اتنا زیادہ تحریری کام ہوا کہ اُن سے ایک پورا کتب خانہ تیار ہوگیا۔
3 - اِس سلسلے میں تیسرا کام وہ ہے جس کو قرآن میں تبیینِ حق (41: 53)کہا گیا ہے، یعنی آفاق اور انفس میں چھپی ہوئی خدائی نشانیوں کو کھولنا، تاکہ دینِ خداوندی کے حقائق خود علمِ انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بن جائیں۔ یہ کام ساتویں صدی اور آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم سائنس دانوں نے شروع کیا، پہلے بغداد میں اور پھر اندلس میں۔ اُس زمانے کے مسلم سائنس دانوں نے علومِ فطرت کی تحقیق میں کافی کام کیا، لیکن وہ اُس کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان مذہبی عقیدہ اور سائنسی تحقیق کو ایک دوسرے سے الگ نہ کرسکے۔ چناں چہ مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اور ان کے سائنسی علماء کے درمیان مسلسل نزاعات پیش آتے رہے، جس کی وجہ سے یہ کام زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اِس کی تفصیل درج ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے:
تاریخ اسلام، از: اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد سوم
عقیدۂ خدا اور سائنس
سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین اسی علم فطرت کا ظہور ہے، جس کی خبر پیشگی طورپر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے— (ترجمہ) ہم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اورانفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے (41:53)۔ سائنس کی جدیدتحقیقات کی روشنی میں کائنات کی جو نئی تصویر بنی ہے، وہ عین وہی ہے، جو قرآن میں پیشگی طورپر بتا دی گئی تھی۔ اس اعتبار سے جدید سائنسی دریافتیں گویا کتابِ الٰہی کے اشارات کی تفصیل ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کی دلیل بھی۔ یہاں مختصر طورپر ان کا ذکر کیاجاتاہے۔جدید دریافت کے مطابق، کائنات کی ابتدا تقریباً13.8 بلین سال پہلے ہوئی۔ اس کے بعد مختلف تدریجی انقلابات سے گزرتےہوئے وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی۔ اس پورے سفر کی روداد اس موضوع کی کتابوں میں پڑھ کر معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو محسوس طور پر کسی سائنسی پلینٹیریم (Planetarium) میں دیکھا جاسکتاہے۔ میں نے یہ پورا منظر واشنگٹن کے نیشنل پلینٹیریم میں دیکھا ہے۔
سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ13.8 بلین سال پہلے خلا میں ایک سپر ایٹم ظاہر ہوا۔ یہ ان تمام ذرات (particles) کا مجموعہ تھا ،جو موجودہ کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ گویا موجودہ پوری کائنات ایک بہت بڑے فٹ بال جیسے گولے کی صورت میں شدت کے ساتھ باہمی…
…کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ، خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرناہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چنانچہ قدیم زمانے میں معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔
موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اُسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی ردّ ِعمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔
قدیم زمانے کے انسان کے لیےسائنسی فریم ورک نہ ہو نے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے…
…کو سائنسی دور (scientific age) کہا جاتاہے ۔ سائنسی دور اگرچہ زیادہ تر مسیحی قوموں کی کوشش سے وجود میں آیا۔ لیکن پورے معنوں میں یہ موافق اسلام دور ہے۔ یہ امت کو اپنے دین کے لیے وہی تائید فراہم کرتا ہے ، جس کو اوپر حدیث میں بیان کیا گیاہے۔
انسانی تاریخ کے بعد کے زمانے میں پیش آنے والی اس شہادت اعظم کا ذکر خود قرآن میں بھی آیا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے الفاظ یہ ہیں:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر پوری طرح ظاہر ہوجائے کہ یہ حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں جس چیز کو آفاق اور انفس کی آیات (signs) کہا گیا ہے، وہ موجودہ کائنات میں کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں، مگر قرآن میں ان کا ذکر اشارات کی زبان میں ہے۔ ان اشارات کو اکچول (actual) بنانے کا کام موجودہ زمانے میں انجام پایا…
تبیینِ حق کا دور
حدیث میں ایک دعوتی پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے:لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ معاملہ وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔اس پیشین گوئی کو لازماً پورا ہوناتھا۔ اس پیشین گوئی کی تکمیل اہل ایمان کے ذریعے ہوگی۔ اب آخر وقت آگیا ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو جانیں، اور اس کے لیے ضروری پلاننگ کریں۔ اگر اہل ایمان کا ایک گروہ اس کام کے لیے اٹھے، تو اللہ رب العالمین کی تائید ان پر ٹوٹ پڑے گی، اور فرشتے ہر طرف ان کی مدد کے لیے کھڑے ہوجائیں گے، اور عالمی دعوت کا یہ کام اس طرح انجام پائے گا، جیسے کہ اس سے زیادہ آسان کوئی کام نہیں تھا۔اکیسویں صدی میں امت محمدی کو اپنا فائنل رول ادا کرنا ہے۔ یہ فائنل رول ان کے لیے فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ فائنل رول وہی ہے، جس کو قرآن میں اعلیٰ سطح پر تبیین حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، اور حدیث میں غالباًاسی دعوتی عمل کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کا درجہ دیا گیا ہے۔
…ارادے اور اختیار سے عمل کی آزادی حاصل ہو۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7095)دوسرے لفظوں میں، ہر انسان کو پرامن دائرے میں اپنا کام کرنے کا موقع مل جائے۔ تاکہ آخرت میں ہر انسان کے لیے اس کے اختیارانہ عمل کے مطابق، جزا و سزا کا فیصلہ کیا جائے۔
یہ آیت کسی محدود سیاسی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ تاریخی پراسس کے معنی میں ہے۔ وسیع تر معنی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا سے قدیم قبائلی طرز کا دور ختم ہو،جس میں اختلافات کافیصلہ تلوار سے کیا جاتا تھا، اور دنیا میں تہذیب کا دور (civilizational age) آئے۔تاریخ میں ایک نیا پراسس جاری ہو، جس کا منتہیٰ (culmination) یہ ہو کہ نیچر میں چھپی ہوئی ٹکنالوجی دریافت ہو۔ دنیا میں ایج آف کمیونی کیشن آئے۔ آفاق و انفس میں جو موافقِ دین حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں، ان کی دریافت ہو۔ یہاں تک کہ مکمل معنوں میں دنیا میں تبیینِ حق کا دور آجائے(فصلت، 41:53)۔
یہ دراصل انبیاء کے مشن کی تکمیل ہے۔ انبیاء کا مشن یہ تھا کہ انسان جو غیر اللہ کی پرستش میں الجھا ہوا تھا، وہ ایک اللہ کی عبادت میں جینے لگے۔ فطرت کا نظام اس طرح کھل جائے کہ انسان خالق کی محبت میں اور خالق کی خشیت میں جینے لگے(البقرۃ،…
عقیدۂ خدا اور سائنس
سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین اسی علم فطرت کا ظہور ہے، جس کی خبر پیشگی طورپر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے— (ترجمہ) ہم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اورانفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ حق ہے (41:53)۔ سائنس کی جدیدتحقیقات کی روشنی میں کائنات کی جو نئی تصویر بنی ہے، وہ عین وہی ہے، جو قرآن میں پیشگی طورپر بتا دی گئی تھی۔ اس اعتبار سے جدید سائنسی دریافتیں گویا کتابِ الٰہی کے اشارات کی تفصیل ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کی دلیل بھی۔ یہاں مختصر طورپر ان کا ذکر کیاجاتاہے۔جدید دریافت کے مطابق، کائنات کی ابتدا تقریباً13.8 بلین سال پہلے ہوئی۔ اس کے بعد مختلف تدریجی انقلابات سے گزرتےہوئے وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی۔ اس پورے سفر کی روداد اس موضوع کی کتابوں میں پڑھ کر معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو محسوس طور پر کسی سائنسی پلینٹیریم (Planetarium) میں دیکھا جاسکتاہے۔ میں نے یہ پورا منظر واشنگٹن کے نیشنل پلینٹیریم میں دیکھا ہے۔
سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ13.8 بلین سال پہلے خلا میں ایک سپر ایٹم ظاہر ہوا۔ یہ ان تمام ذرات (particles) کا مجموعہ تھا ،جو موجودہ کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ گویا موجودہ پوری کائنات ایک بہت بڑے فٹ بال جیسے گولے کی صورت میں شدت کے ساتھ باہمی…
…کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ، خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرناہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ چنانچہ قدیم زمانے میں معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔
موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا۔ جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے:سَنُرِیہِمْ آیَاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنْفُسِہِمْ حَتَّى یَتَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّہُ الْحَقُّ (41:53)۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اُسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی ردّ ِعمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔
قدیم زمانے کے انسان کے لیےسائنسی فریم ورک نہ ہو نے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے…
In the lectures
Cited at 209s — opens the lecture at this moment.
Cited at 599s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1111s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1173s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1981s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2160s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2837s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3265s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3923s — opens the lecture at this moment.
Cited at 239s — opens the lecture at this moment.
Cited at 261s — opens the lecture at this moment.
Cited at 285s — opens the lecture at this moment.
Cited at 421s — opens the lecture at this moment.
Cited at 630s — opens the lecture at this moment.
Cited at 653s — opens the lecture at this moment.
Cited at 726s — opens the lecture at this moment.
Cited at 835s — opens the lecture at this moment.
Cited at 861s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1098s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1144s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1166s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1171s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1209s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1228s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1303s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1322s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1511s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1539s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1601s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1734s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1913s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1998s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2052s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2181s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2486s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3005s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3294s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3304s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4981s — opens the lecture at this moment.
Cited at 6311s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…کے مطابق، بعد کے زمانے میں ظاہر ہونے والی تھی۔ اس لیے اس کو استقبال کے صیغے میں بیان کیا گیا۔ زمانۂ نزولِ قرآن کے لحاظ سے یہ ایک مستقبل کی بات تھی لیکن اب وہ حال کی بات ہوچکی ہے۔ یہ تاریخی حقیقت قرآن کے درج ذیل بیان سے واضح ہوتی ہے:
’’عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے‘‘۔ (حٰم السجدہ ۵۳)
قرآن کی اس آیت میں جس واقعے کا ذکر کیاگیا ہے اس کو دوسرے لفظوں میں تاریخِ دعوت کا دوسرا مرحلہ کہا جاسکتا ہے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوسرا مرحلہ وہی ہے جس کو عام طورپر سائنسی انقلاب (scientific revolution) کہاجاتا ہے۔ پہلے…
…یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ بعد کے دور میں فطرت کی چھپی ہوئی نشانیاں (signs) ظاہر ہوںگی، اور یہ ضرورت ہوگی کہ اِن نشانیوں کی روشنی میں دینِ خداوندی کو از سرِ نو مدلّل کیا جائے۔ یہ ضرورت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے
عن قریب مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر یہ پوری طرح کھُل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے (41: 53) ۔
آفاق اور انفس میں جن نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ واضح طورپر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میںسامنے آچکی ہیں۔ مثال کے طورپر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کا جسم خدا نے محفوظ کردیا ہے، اور…
…یہ پیشین گوئی موجود ہے کہ بعد کے دور میں فطرت کی چھپی ہوئی نشانیاں (signs) ظاہر ہوںگی، اور یہ ضرورت ہوگی کہ اِن نشانیوں کی روشنی میں دینِ خداوندی کو از سرِ نو مدلّل کیا جائے۔ یہ ضرورت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے
’’عنقریب مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر یہ پوری طرح کھُل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے‘‘ (41:53)۔
آفاق اور انفس میں جن نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ واضح طورپر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میںسامنے آچکی ہیں۔ مثال کے طورپر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کا جسم خدا نے محفوظ کردیا ہے، اور…
۲۔ آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پستم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔ (المائدہ ۳)
۳۔ عنقریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ (حٰم السجدہ ۵۳)
۴۔ اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تونے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ (البقرہ ۲۸۶)
2۔ آج منکر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ پس تم اُن سے نہ ڈرو، صرف مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو پورا کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔ (المائدہ، 5:3)
3۔ عنقریب ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ (حٰم السجدہ، 41:53)
4۔ اے ہمارے رب، ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تونے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر۔ (البقرہ، 2:286)
…پہنچایاہے ،دورجدیدکی ساری دریافتیں صرف اس بات کاعتراف ہیں کہ آج سے ڈیڑھ ہزاربرس پہلے اسلام کایہ دعویٰ کہ وہ آخری صداقت ہے اورآئندہ کی تمام انسانی معلومات اس کی صداقت کواورمبرہن کرتی چلی جائیں گی، بالکل صحیح تھا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں
سَنُرِیْھِمْ اٰیٰاتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَفِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنّہُ الْحَقُّ(41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم دکھائیں گے اپنی نشانیاں ان کوآفاق میں اورخودان کے اندر یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہوجائے کہ وہ حق ہے۔
جدید بے خدامفکرین کے نزدیک مذہب کوئی حقیقی چیزنہیں ہے، وہ انسان کی صرف اس خصوصیت کانتیجہ ہے کہ وہ کائنات کی توجیہ کرناچاہتاہے۔ توجیہ تلاش کرنے کاانسانی جذبہ بذاتِ خودغلط نہیں ہے مگرکم ترمعلومات نے ہمارے پرانے اجدادکوان غلط جوابات تک…
…It is a basic requirement to lead the Islamic life. The first principle of Islam is imaan (faith), but before imaan there is a preparatory step—marefat, or realization. Narrating the story of a group of believers, the Quran says:
When they listen to what has been sent down to the Messenger, you see their eyes overflowing with tears, because of the Truth they recognize. They say, ‘Our Lord, we believe, so count us among those who bear witness.’ (5:83)
This verse refers to a very important principle of Islam, that is, before belief (imaan), realization (marefat) is required. When an individual accepts Islam, he recites the kalimah of Islam but, before doing so, he must discover or…
In the chapter Al-Ma’idah (The Table) of the Quran, the story is told of a group who came to the Prophet and accepted him as a prophet:
When they listen to what has been sent down to the Messenger, you see their eyes overflowing with tears, because of the Truth they realized. They say, ‘Our Lord, we believe, so count us among those who bear witness. (5:83)
According to this verse, these people accepted the Prophet’s faith. But their acceptance was not of a simple kind: it was the outcome of marefat, that is, realization of the truth.
…کے بعد اب کسی سنجیدہ انسان کے لیے خدا کے وجود کا انکار کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ اس تحقیق کے بعداب انسان کے سامنے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ یا تو وہ خالق کے وجود کو مانے یا کائنات کے وجود کاانکار کردے اور خود اپنے وجود کا بھی۔
قرآن میں ایک پیشگی اطلاع یہ دی گئی تھی کہ —ہم اُن کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود اُن کے اندر بھی۔ یہاںتک کہ اُن پر ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن حق ہے(حٰم السجدہ ۵۳)
اس آیت میں بتایا گیاتھا کہ مستقبل میں خالص علمی تحقیق کے ذریعہ ایسی شہادتیں سامنے آئیں گی جو قرآن کی صداقت کا یقینی ثبوت ہوں۔ یہ شہادتیں یا نشانیاں اب پوری طرح ظاہر ہوچکی ہیں۔ اس موضوع پر مختلف زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان…
اس طرح کی مثالیں کثرت سے قرآن وحدیث میں موجودہیںاوریہ مثالیں اس بات کاقطعی ثبوت ہیں کہ يه غیرانسانی ذہن سے نکلاہواکلام ہے۔بعدکی معلومات نے حیرت انگیز طور پرقرآن کی اس پیشین گوئی کی تصدیق کی ہے،جس کوہم اوپرنقل کرچکے ہیں۔ یعنی
’’عنقریب ہم آفاق وانفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاںتک کہ ظاہر ہوجائے گاکہ یہ حق ہے۔‘‘(فصلت، 41:53)
اس باب کو میں ایک واقعہ پر ختم کروں گا،جس کے راوی علامہ عنایت اﷲمشرقی ہیں، اوراس واقعہ کاتعلق انگلستان سے ہے