Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سائنس کی گواہی p. 207
ڈاکٹر ماریس بکائی(Dr Maurice Bucaille) فرانس کے ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے قرآن کے بارے میں ایک کتاب لکھی۔ وہ اولاً فرانسیسی زبان میں1976ء میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد دس زبانوں میں اس کے ترجمے چھپے۔ انگریزی میں اس کتاب کا نام یہ ہے p. 207
The Bible, the Quran and Science p. 207
اس کتاب میں ڈاکٹر ماریس بوکائی نے دکھایا ہے کہ علم سائنس کے بارے میں قرآن کے بیانات حیرت انگیز طور پر جدید تحقیقات کے مطابق ہیں۔ قرآن اگرچہ دور سائنس سے بہت پہلے پیش کیا گیا،مگر بعد کے زمانہ میں ظاہر ہونے والی علمی حقیقتوں کا اس میں بالکل صحیح بیان موجود ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن ایک برتر ذہن کی تخلیق ہے۔ وہ انسانی ذہن کی تصنیف نہیں(ملاحظہ ہو عظمت قرآن، اور اسلام اور عصر حاضر)۔ p. 208original + quote
ڈاکٹر ماریس بوکائی کی دوسری کتاب انسان کی پیدائش اور رحم مادر میں اس کے ارتقا کے بارے میں ہے جو کہ ڈاکٹر بکائی کا خاص موضوع ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے دکھایا ہے کہ انسان کی پیدائش کے بارے میں قرآن میں جو بیانات ہیں، وہ جدید تحقیقات کے عین مطابق ہیں، جبکہ ان تحقیقات کے نتائج صرف بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں انسان کو معلوم ہو سکے ہیں۔ p. 208original + quote
ڈاکٹر بوکائی کی اس دوسری کتاب کا فرانسیسی ایڈیشن1984 ءمیں پیرس سے شائع ہوا۔ 220 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے انگریزی ایڈیشن کانام یہ ہے p. 208
What is the Origin of Man? p. 208
Published by Seghers, 6 Place Saint-Sulpice, 75006 Paris p. 208
ڈاکٹر ماریس بکائی اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں کہ مجھے فرانس میں یہ بتایا گیا تھا کہ قرآن محمد کی کتاب ہے۔ انھوں نے اس کو بائبل سے کچھ گھٹا کر یا بڑھا کر تیار کر لیا ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر میںقدرتی طور پر یہ سمجھتا تھا کہ بائبل کے اندر جو علمی غلطیاں (scientific errors) ہیں، وہ لازماً قرآن کے اندر بھی ہونی چاہئیں(صفحہ157)۔ p. 209unverified
مزید یہ کہ محمد کے الہام کا زمانہ610ء سے لے کر632ء تک ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مشرق و مغرب میں ہر طرف علمی تاریک خیالی(scientific obscurantism) کا ذہن چھایا ہوا تھا۔ اس لحاظ سے یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس تاریک علمی دور کے اثرات ان کی کتاب میں پائے جا رہے ہوں۔ p. 209
مگر بعض تجربات کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ قرآن کے بیانات اور بائبل کے بیانات میں اگرچہ کئی باتیں مشترک ہیں مگر قرآن حیرت انگیز طور پر اس قسم کی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان علمی غلطیوں کو حذف کر دیتا ہے جو موجودہ بائبل میں پائی جاتی ہیں۔ اب ان کا تجسس بڑھا۔ یہاں تک کہ قرآن کو براہ راست اس کی اپنی زبان میں سمجھنے کے لیے انھوں نے پچاس سال کی عمر میں عربی زبان سیکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد جب انھوں نے قرآن کو براہ راست پڑھا تو انھوں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ بائبل ایک طرف علمی غلطیوں سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دوسری طرف قرآن کا حال یہ ہے کہ وہ علمی غلطیوں سے یکسر خالی ہے۔ p. 209
اگر قرآن محمد کی کتاب ہو اور انھوں نے اس کو بائبل اور وقت کی معلومات کی مدد سے مرتب کیا ہو تو کیا وجہ ہے کہ قرآن میں وہ تمام علمی غلطیاں حذف ہیں جو بائبل میں یا محمدکے زمانہ میں پائی جا رہی تھیں۔ مثلاً بائبل میں انسان کے ظہور کی جو تاریخ دی گئی ہے اس کے لحاظ سے 1981ء کے حساب کے مطابق زمین پر انسان کا ظہور پہلی بار5742 سال پہلے ہوا۔ مگر اس قسم کی بے معنی غلطیاں قرآن میں بالکل نہیں پائی جاتیں(صفحہ 15)۔ p. 209original + quote
بائبل میں کثرت سے علمی غلطیاں ہیں۔ وہ اتنی واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن نہیں۔ جین گوٹن (Jean Guitton) نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے بائبل کی علمی غلطیاں انسانی غلطیاں ہیں، کیوں کہ اس وقت انسان ایک بچہ کی مانند تھا اور وہ علمی حقائق سے بے خبر تھا p. 209original + quote
The scientific errors in the Bible are the errors of mankind, for long ago man was like a child, as yet ignorant of science (p.152). p. 210
ایسی حالت میں محمد کے لیے کیسے ممکن ہوا کہ وہ قرآن کو مرتب کرتے ہوے بائبل کی یا اپنے زمانہ کی غلطیوں کو قرآن سے حذف کر دیں۔ وہ ایسی کتاب تیار کریں جس میں استثنائی طور پر کوئی بھی علمی غلطی موجود نہ ہو(160)۔ مصنف یہ کہتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن محمد کی کتاب نہیں وہ ایک ماورائے انسانی ذہن کی تخلیق ہے۔ علم کی تاریخ ہم کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہے کہ قرآن میں اس قسم کی آیتوں کی موجودگی کی کوئی انسانی توجیہ ممکن نہیں p. 210original + quote
The history of science leads us to conclude that there can be no human explanation for the existence of these verses in Quran (p.188). p. 210
قرآن کا یہ استدلالی پہلو قرآن کی اس آیت کی تصدیق ہے جو چودہ سو سال پہلے قرآن میں شامل کی گئی تھی — ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود لوگوں کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ قرآن حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے(41:53)۔ p. 210original + quote
جو لوگ قرآن کو خدا کی کتاب ماننے کے لیے اس کی سائنسی دلیل چاہتے ہیں، ان کو ڈاکٹر ماریس بکائی کی مذکورہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ p. 210
قرآن فنی معنوں میں سائنس کی کتاب نہیں، مگر قرآن جن عقائد کو ماننے کی دعوت دیتا ہے، اس کے لیے وہ فطرت کی نشانیوں کو بطور دلیل پیش کرتا ہے۔ یہ فطرت کی نشانیاں کیا ہیں، یہ وہی نیچر ہے جس کا مطالعہ سائنس میں کیا جاتا ہے۔ p. 211original + quote
نیچر قرآن کا موضوع بھی ہے اور سائنس کا موضوع بھی۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ قرآن میں فطرت کے بعض پہلوئوں کا ذکر بطور دلیل آیا ہے۔ جب کہ سائنس میں فطرت کا مطالعہ مستقل فن کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ مگر قرآن میں جہاں کہیں بھی نیچر کا کوئی حوالہ ہے، وہ بعد کی سائنسی تحقیقات کے مطابق ہے۔ اس مطابقت کی کوئی بھی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکتی کہ قرآن کو اس خدا کی کتاب مانا جائے جو تمام کھلی اور چھپی باتوں کو جانتا ہے، جس کا علم بیک وقت ماضی، حال اور مستقبل کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ p. 211