Qur'an 41:34
Qur'an 41:34
وَلَا تَسۡتَوِي ٱلۡحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُۚ ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِي بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهُۥ عَدَٰوَةٞ كَأَنَّهُۥ وَلِيٌّ حَمِيمٞ
And not equal are the good deed and the bad. Repel [evil] by that [deed] which is better; and thereupon the one whom between you and him is enmity [will become] as though he was a devoted friend
Explained in 39 book passages
and 43 lecture moments.
Cite / permalink: quran/41:34
In the books & Al-Risala
Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
Friend in Foe
The Quran says that if a person sees you as his enemy, do not retaliate against him, rather, treat him well. (41:34) This unilateral behavior will result in turning your enemy into your friend. This teaching of Islam shows that enmity is not permanent. The fact is that there is a potential friend in every enemy. Make this possibility a reality with your unilateral good behavior, and you will turn your enemy into your friend.
Responding with kindness awakens a man’s conscience, and when this happens, he will leave enmity and become your friend.
…in a world in which there are friends all around. This is one of the universal concepts given in the Quran in the chapter Fussilat (Revelations Well Expounded). I would like to quote some relevant verses from the Quran on this subject:
Good and evil deeds are not equal. Repel evil with what is better; then you will see that one who was once your enemy has become your dearest friend. (41:34)
These Quranic verses have a background. When the Prophet of Islam was in ancient Makkah, people became hostile to him and to his mission. The Makkan people used to abuse him and sometimes try to cause him physical harm in their show of…
In the chapter Fussilat (Revelations Well Expounded) of the Quran there is mention of Paradise. The angels will tell the inhabitants of Paradise:
Therein you shall have all that your souls desire, and therein you shall have all that you ask for. (41:34)
Here, the Quran uses two words: ishtiha and iddi‘a. Ishtiha means to desire and iddi‘a means to demand. By ishtiha is meant material desire and by iddi‘a intellectual demand.
This event testifies to the veracity of Quranic teaching. The Quran says in the chapter Fussilat (Revelations Well Expounded):
Good and evil deeds are not equal. Do good deed in return for bad deed; then you will see that one who was once your enemy has become your dearest friend. (41:34).
The Quran tells us that every human being was created on al-fitrah, that is, divine nature. (30:30).
…قرآن کے مطابق، عام انسانوں کو تکلیف دینا سخت منع ہے، بلکہ عدو(enemy) اور مُقاتل (combatant) کے درمیان بھی فرق کرنا چاہیے۔ قرآن کا حکم یہ ہے کہ بظاہر اگر کوئی شخص یا گروہ تمہارا دشمن ہو تب بھی تم کواس کے ساتھ اچھا تعلق قائم رکھنا چاہیے۔
جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ ایک شخص اگر بظاہر تمہارا دشمن ہو تب بھی تم اس کے ساتھ احسن طریقے پر معاملہ کرو، عین ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا ۔
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ فریق مخالف کی طرف سے حملہ کا آغاز ہوچکا ہو۔ لیکن جو اس جنگ میں شامل نہیں ہیں، ان کو بالکل بھی تکلیف نہیں دی جائے گی، خواہ وہ دل میں دشمنی رکھتا ہو۔ بین اقوامی…
س:اہل ِپاکستان کے نام…محبت بھرا پیغام؟
جوہ قرآن کی اس آیت کواپنے لیے رہنما آیت کی حیثیت سے اختیار کرلیں:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
اس آیت کے مطابق، کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا ابدی دشمن نہیں ہے، پیدائشی طور پر ہر انسان امکانی دوست (potential friend) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں اہل پاکستا ن کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوۃ (potential) دوست کو ،…
…لوٹ کر آئیں، اور اپنی نئی زندگی شروع کریں۔ بد قسمتی سے اسرائیل کی یہ واپسی مثبت واپسی نہ بن سکی۔ اس واپسی کے ساتھ یہودیوں اور عربوں کے درمیان ایک خونی تصادم شروع ہوگیا، اور اس طرح وہ امکان واقعہ نہ بن سکا، جو اس معاملہ میں چھپا ہوا تھا۔
اگر مسلمان یہود کو دشمن سمجھنے کے بجائے مدعو سمجھتے، اور ان کے درمیان دعوتی کام کرتے تو عین ممکن تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی یا کلی طور پر وہی واقعہ پیش آتا، جو اس آیت میں مذکور ہے:وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:33-34)۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
اس کے برعکس، اس بات کو ماننے کے لیے کوئی بنیاد قرآن و حدیث میں نہیں ہے کہ یہود ابدی طور پر "ملعون" ہوچکے ہیں، اور اب ان کے لیے سچائی کے راستے پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سے یہودیوں نے اسلام…
…اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
اس کے برعکس، اس بات کو ماننے کے لیے کوئی بنیاد قرآن و حدیث میں نہیں ہے کہ یہود ابدی طور پر "ملعون" ہوچکے ہیں، اور اب ان کے لیے سچائی کے راستے پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سے یہودیوں نے اسلام قبول کیا، اور اب بھی قبول کر رہے ہیں۔ مثلا آسٹریا کے لیو پولڈ اسد (1900-1992)، اور امریکا کی مارگریٹ جمیلہ (1934-2012)۔ اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہود کے اوپر قرآن کی یہ آیت (41:33-34) منطبق (apply) نہیں ہوتی ہے۔
حظِّ عظیم
قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ۔ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ (41:33-35)۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے۔
قرآن کی ان آیتوں میں ایسے اہل اسلام کا ذکر ہے، جو بڑے نصیبے والے (truly fortunate) ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے برتاؤ سے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ دشمن بھی ان کا دوست بن جائے، جو بظاہر غیر بنا ہوا تھا، وہ بدل کر آپ کا اپنا بن جائے۔
…اب ہارنے والی پارٹی کو یہ کرنا ہوگا کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر بدلے۔ وہ غیریت کے بجائےاپنا پن کا طریقہ اختیار کرے، وہ نفرت کے بجائے انسانوں سے محبت کرنا سیکھے۔ وہ دوسرے کی شکایت کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے والی کمیونٹی بنے۔
وہ قرآن کی ان آیات کی حکمت کو سمجھے، اور ان کو دل سے اپنی زندگی میں اپنائے:(ترجمہ) اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ اور اگر شیطان تمہارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (41:34-36)
حظِّ عظیم
قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ۔ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ (41:33-35)۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔
قرآن کی ان آیتوں میں ایسے اہل ایمان کا ذکر ہے، جو بڑے نصیبے والے (truly fortunate) ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے برتاؤ سے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ دشمن بھی ان کا دوست بن جائے، جو بظاہر غیر بنا ہوا تھا، وہ بدل کر آپ کا اپنا بن جائے۔
…(chain reaction)ہے، نہ کہ ری ایکشن کا خاتمہ۔ قدیم زمانے میں ٹرائبل ایج میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ لوگ برابر لڑتے رہتے تھے۔ اسلام نے یہ کیا کہ یک طرفہ طور پر امن کا طریقہ اختیار کرکے چین ری ایکشن کو ختم کردیا۔ اس کے بعد دنیا میں امن کا دور آیا۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا(41:34)۔ قرآن کی اس آیت میں جس طریقِ کا ر کا ذکر کیا گیا ہے، اس کو دوبارہ اختیار کیا جائے تو دوبارہ وہی نتیجہ حاصل ہوگا، جس کا مذکورہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے، یعنی جو بظاہر دشمن نظر آتا ہے ا س کا دوست بن جانا۔
لوگ اکثر اپنے حریف کی شکایت کرتے ہیں۔ لیکن غور کیجیے تو یہ ظلم نہیں ہوتا، بلکہ وہ چین ری ایکشن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے حریف کو پتھر مارا، اس کے بعد اس نے آپ کو بم مارا۔ آپ نے دوبارہ حریف کے خلاف کوئی کارروائی کی، اس کے جواب میں اس…
…کا حکم ختمِ فتنہ (الانفال ، 8:39) کے لیے تھا۔ اس کے برعکس، بعد کے زمانے میں جو قتال امت میں جاری ہوا، وہ مسلم رہنماؤں کے بیان کے مطابق ختم اعدا(to finish the enemies) کے لیے ہے۔ مگر ختم اعدا کے لیے جنگ کرنے کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ۔
قرآن کی صراحت کے مطابق، عداوت جنگ کا اشو نہیں ہے، بلکہ وہ دعوت کا اشو ہے۔ مسلمانوں کو اگر کوئی شخص یا گروہ بظاہر دشمن دکھائی دے تو اس سے وہ لڑائی نہیں چھیڑ سکتے۔ ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس پر پرامن انداز میں دعوت الی اللہ کا کام کریں۔یہ حکم قرآن کی ایک آیت سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
موجودہ زمانے میں مسلمان دشمنانِ اسلام کے نام سے جو مسلّح جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، وہ ہرگز قرآن یا اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کے اپنے خودساختہ جواز (self-styled justification) کی بنیاد پر ہے۔ یہ لوگ قرآن و حدیث کی غلط تشریح کے ذریعے…
2۔ احسن باعتبار کلام:وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (16:125)
3۔ احسن باعتبار اخلاق :ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ (41:34)
4۔ احسن باعتبار ہمسائگی:وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا (4:69)
…اگرچہ مسلمان اس سنتِ رسول کو سمجھ نہ سکے، اور وہ بعد کی تاریخ میں اس حکیمانہ پالیسی کو اختیار کرنے میں ناکام رہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی تاریخ میں یہ ایک انقلابی اصول تھا، جو پیغمبرِ اسلام نے پہلی بار تاریخِ انسانی کو عطا کیا۔
ڈی لنکنگ پالیسی کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی غیر ضروری ٹکراؤ سے اپنے آپ کو بچائے، اور موجود مواقع (opportunities) کوبھر پور طور پر استعمال کرے۔ ڈی لنکنگ پالیسی آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے حریف کو اپنا موید (supporter) بنالے، وہ اپنے عدو کوعملاً اپنے ولی حمیم (فصلت، 41:34) کا درجہ دے دے۔
…اس سنت سے بے خبر ہیں۔ اگر وہ اس حکیمانہ سنت کو جانیں، تو وہ آج بھی اس سنت کو زندہ کرسکتے ہیں، اور اس طرح یہ حیرت انگیز واقعہ پیش آسکتا ہے کہ جن لوگوں کو مسلمان اپنا دشمن سمجھے ہوئے ہیں، وہ دوبارہ ان کے موید (supporter) بن جائیں گے۔
یہ بھی غالباً اس مذکورہ حکمت کا ایک پہلو ہے، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔
کوئی دشمن نہیں
پیغمبر اسلام کو ایک دانش مندانہ طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔یعنی اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں میں جو تقسیم ہے، وہ دوست اور دشمن کی نہیں، بلکہ دوست اور بالقوۃ دوست (potential friend) کی ہے۔ یعنی دانش مند انسان وہ ہے جو دوست اور دشمن کی بنیاد پر اپنا منصوبہ نہ بنائے، بلکہ اس کا منصوبہ اس سوچ کے تحت…
…سے عداوت کا سامنا ہو تو عداوت کے مقابلے میں جوابی عداوت کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ عداوت کے جواب میں پر امن تدبیر کا طریقہ اختیار کرو۔ پر امن تدبیر تم کو اس قابل بنائے گی کہ تم کسی ٹکراؤ کے بغیر صرف پر امن تدبیر سے کامیابی حاصل کرلو۔
یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ یہ حسن تدبیر کی اثر انگیزی کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی پر اسرار فضلیت کا معاملہ۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی برابر نہیں، تم دور کرو اس سے جو بہتر ہو، تو تم دیکھو گے کہ تمھارے اور جن کے درمیان دشمنی ہے وہ گویا قریبی دوست بن گیا۔
چھوٹی برائی پر راضی ہونا
کوئی دشمن نہیں
پیغمبر اسلام کو ایک دانش مندانہ طریقہ قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا:وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔یعنی اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں میں جو تقسیم ہے، وہ دوست اور دشمن کی نہیں، بلکہ دوست اور بالقوۃ دوست (potential friend) کی ہے۔ یعنی دانش مند انسان وہ ہے جو دوست اور دشمن کی بنیاد پر اپنا منصوبہ نہ بنائے، بلکہ اس کا منصوبہ اس سوچ کے تحت…
…سے عداوت کا سامنا ہو تو عداوت کے مقابلے میں جوابی عداوت کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ عداوت کے جواب میں پر امن تدبیر کا طریقہ اختیار کرو۔ پر امن تدبیر تم کو اس قابل بنائے گی کہ تم کسی ٹکراؤ کے بغیر صرف پر امن تدبیر سے کامیابی حاصل کرلو۔
یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ یہ حسن تدبیر کی اثر انگیزی کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی پر اسرار فضلیت کا معاملہ۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی برابر نہیں، تم دور کرو اس سے جو بہتر ہو، تو تم دیکھو گے کہ تمھارے اور جن کے درمیان دشمنی ہے وہ گویا قریبی دوست بن گیا۔
چھوٹی برائی پر راضی ہونا
…توحید کا مشن عمومی مخالفت کے ماحول میں کرنا پڑا۔اس بنا پر اس مشن کو مطلوب نشانے کے مطابق کرنا بے حد مشکل ہوگیا۔ آخر کار اللہ کو یہ مطلوب ہوا کہ اس منفی صورت حال کو ختم کیا جائے۔ تاکہ دعوتِ توحید کا مطلوب عمل کسی رکاوٹ کے بغیر انجام پاسکے۔
اس موافق صورت حال کو ظہور میں لانے کے لیے اللہ نے تاریخ میں ایک انقلابی عمل جاری کیا۔ یہ عمل ساتویں صدی میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ شروع ہوا، اور بیسویں صدی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ ان پیدا شدہ مواقع (opportunities) کودعوت توحید کے لیے منصوبہ بند انداز میں پرامن طور پر استعمال کریں۔ اس عمل کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34) ۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کو انفرادی امکان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی عداوت کوئی مستقل حالت نہیں۔ انفرادی سطح پر تم آج بھی اس کا تجربہ کرسکتے ہو کہ ایک شخص جو بظاہر تم کو اپنا مخالف نظر آتا ہو، اس سے یک طرفہ (unilateral) حسن…
…مفاد کسٹمرسے، اور کسٹمرس کا مفاد بزنس مین سے، پولیٹکل لیڈروں کا مفاد ووٹرس سے اور ووٹرس کا مفاد پولیٹکل لیڈرس سے، وغیرہ۔ اس طرح دنیا میں پہلی بار وہ دور عمومی طور پر رائج ہوا جس کو حدیث میں تائید کا دور (age of mutual support) کہا گیا ہے۔
اس نئے دور کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
یہ تاریخ میں خدائی مینجمنٹ (divine management) کا معاملہ تھا۔ قدیم زمانے میں انسانی زندگی دوست اور دشمنی کی ثنائیت (dichotomy) پر قائم تھی۔ تاریخ میں اس نئے انقلاب کے بعد انسانی زندگی میں ایک اور ڈائیکاٹومی قائم ہوئی، جس میں دشمنی کا تصور…
فیصلہ کی بنیاد
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 10 ھ کو مدینہ میں ہوئی۔ وفات سے چند مہینہ پہلے 9 ھ میں آپ نے مکہ جاکر حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے اپنی امت کو آخری ہدایت دیتے ہوئے فرمایا تھا:ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللہ , وسنة نبیہ (موطا الامام مالک، حدیث نمبر1874) ۔یعنی میں نے تمھارے درمیان دو امر چھوڑے ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے، جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہوگے، اللہ کی کتاب اور اللہ کے نبی کی سنت۔
ملا علی قاری نے مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں امر کا مطلب بتایا ہے حَکَم (بیروت، 2002،1/269 )۔ حکم کا مطلب ہے فیصلہ کرنے والا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ امر سے مراد معیار (criterion) ہے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود موجود نہ ہوں گے، اس وقت امت کو یہ کرنا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ قرآن اور سنت میں اس مسئلے کا جواب تلاش کرے، اور جو جواب قرآن و سنت میں ملے ، اس کو کسی عذر کے بغیر قبول کرلے۔ مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب کوئی گروہ ان کو اپنا دشمن نظر آئے تو فوراً اس کے خلاف لڑنا شروع کردیں۔ بلکہ انھیں اس کا جواب قرآن و سنت میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کریں تو انھیں قرآن میں اس کی واضح رہنمائی ملے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
اس آیت کے مطابق، کوئی گروہ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے۔ اس کے برعکس، پیدائشی طور پر ہر گروہ مسلمانوں کے لیے امکانی دوست کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں مسلمانوں کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوۃ (potential) دوست کو بالفعل (actual) دوست بنائے۔
…جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود موجود نہ ہوں گے، اس وقت امت کو یہ کرنا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ قرآن اور سنت میں اس مسئلے کا جواب تلاش کرے، اور جو جواب قرآن و سنت میں ملے ، اس کو کسی عذر کے بغیر قبول کرلے۔
مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب کوئی گروہ ان کو اپنا دشمن نظر آئے تو فواً اس کے خلاف لڑنا شروع کردے۔ بلکہ انھیں اس کا جواب قرآن و سنت میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کریں تو انھیں قرآن میں اس کی واضح رہنمائی ملے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت کا ترجمہ یہ ہے: بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔
اس آیت کے مطابق، کوئی گروہ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے۔ اس کے برعکس، پیدائشی طور پر ہر گروہ مسلمانوں کے لیے امکانی دوست کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں مسلمانوں کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوۃ (potential) دوست کو بالفعل…
Love your enemy (Matthew 5:44)
انھوں نے کہا کہ آپ قرآن کی کوئی ایسی آیت بتا سکتے ہیں، جس میں اسی قسم کی مثبت تعلیم دی گئی ہو۔ میں نے کہا کہ ہاں ایسی آیت موجود ہے۔ پھر میں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ۔ (41:34) یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
میں نے کہا کہ دشمن سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان سے محبت کرو، خواہ بظاہر وہ تم کو اپنا دشمن نظر آتا ہو۔قرآن میں مزید یہ اضافہ ہے کہ دشمن سے اگر تم برا سلوک کرو تو اس کا نتیجہ منفی ردعمل کی صورت میں ظاہر ہوگا۔اس کے برعکس، اگر تم اپنے…
مثبت روش کا نتیجہ
اسلام کی ایک تعلیم قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیم (41:34)۔اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ،تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔قرآن کی اس آیت میں عام اجتماعی زندگی میں حسنِ اخلاق (good behaviour)کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ حسن اخلاق بلاشبہ ایک اہم اسلامی قدر (Islamic value) ہے۔ لیکن قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ عداوت کی نسبت سے ہے، نہ کہ نارمل تعلقات کی نسبت سے۔
اسلام ایک مشن ہے، پرامن دعوتی مشن۔ باعتبارِ حقیقت یہ مشن پوری طرح پرامن اور غیر سیاسی مشن ہے۔ لیکن کسی ماحول میں جب اس مشن کے لیے کام کیا جائے تو کچھ لوگ نظریاتی بنیاد پر اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ اس طرح داعی اور مدعو کے درمیان عملاً نزاع…
…نے اِسی پیٹرن کو معیاری پیٹرن کی حیثیت سے اختیار کرلیا- وہ اِسی انداز میں سوچنے لگے اور اِسی انداز پر کتابیں لکھنے لگے- یہ فقہی پیٹرن اتنا زیادہ عام ہوا کہ بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابوں میں شاید کوئی بھی کتاب اِس سے مستثنی نہیں-
مثلاً ابن تیمیہ (وفات: 1328ء) کی کتاب ’الصارم المسلول على شاتم الرسول ‘اِسی نہج کی ایک کتاب ہے- اِس کتاب میں ابن تیمیہ نے شاتمِ رسول کے لیے قتل کی سزا بتائی ہے۔ صرف اِس لیے کہ فقہا نے بعد کے زمانے میں یہ حکم وضع کیا کہ شاتم کو بطور سزا قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔ حالاں کہ قرآن میں اس حکم کی کوئی اصل موجود نہیں- ابن تیمیہ اگر کتبِ فقہ سے اوپر اٹھ کر اِس موضوع پر قرآن کی اسپرٹ کے مطابق، اِس مسئلے پر غور کرتے تو وہ لکھتے کہ شاتم کی حیثیت ایک مدعو کی ہے، شاتم کو دعوت دیناہے، نہ کہ قتل کرنا- شاتم بظاہر دشمن نظرآتا ہو ، تب بھی اپنی فطرت کے اعتبار سے، وہ ایک انسان ہے- اگر اس کے سامنے اسلام کا دین حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرے اور اس کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہوجائے(41:34)۔
اِس طرح کی ایک مثال شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: 1762ء) کی مشہور کتاب حجة اللہ البالغة ہے- اِس کتاب کا ٹائٹل بظاہر قرآن کی ایک آیت (6:149) سے ماخوذ ہے- مگر عملاً یہ کتاب قرآنی پیٹرن پر نہیں لکھی گئی ہے، بلکہ فقہی پیٹرن پر لکھی گئی ہے- یہی…
…دی جائے۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں غلط آئڈیالوجی کے شکار ہیں۔ اس کی اصلاح صرف اس طرح ہوسکتی ہے کہ ان کو قرآن و حدیث کی بنیاد پر درست آئڈیالوجی سے واقف کرایا جائے۔اس سے کم درجے کی کوئی چیز اس صورتِ حال کی اصلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
مثلاً ان لوگوں کو اس فطری حقیقت سے باخبر کرنا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ وَإِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ (41:34-36)۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں ، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ اور اگر شیطان تمھارے دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسانوں کے درمیان جو تفریق ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ کچھ لوگ ہمارے دوست ہیں اور کچھ لوگ ہمارے دشمن ۔ بلکہ صحیح تفریق یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمارے واقعی دوست (actual friends) ہیں، اور کچھ لوگ ہمارے امکانی دوست (potential…
دشمن میں دوست
قرآن کی سورہ فصلت میں زندگی کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ( 41:34) یعنی اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کرو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی قریبی دوست-
قرآن کی اس آیت کے مطابق کوئی انسان پیدائشی طورپر دوست یا دشمن نہیں ہوتا، بلکہ حالات کے تحت وہ کسی کا دوست اور کسی کا دشمن بن جاتاہے- دوستی اور دشمنی سب حالات پر منحصر ہے، اور حالات کو بنانے والا انسان ہے- کوئی آدمی اپنے گرد جیسے حالات…
…سے کوئی غلطی نہ پائی جاتی ہو- انسانیات کے مطالعے میں جو غلطیاں پائی جاتی ہیں، وہ اختلافِ رائے کی بنا پر ہیں، نہ کہ سازش یا بدنیتی کی بنا پر- یہی استشراق کا معاملہ ہے- استشراق کا کیس ایک طریقِ مطالعہ کا کیس ہے، نہ کہ سازش یا بدنیتی کاکیس-
اِس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مستشرقین کے اِس ذہن کو مدعو کے ذہن کے طورپر لیا جائے، نہ کہ کسی دشمن کے سازشی ذہن کے طورپر- ہر مدعو کی اپنی سوچ ہوتی ہے- اِس طرح مستشرقین کا کیس بھی مدعو کا کیس ہے اور ان کی بھی اپنی ایک سوچ ہے- اگر ہم مستشرقین کے کیس کو مدعو کے کیس کے طورپر لیں تو ہمارے دل میں اُن کے بارے میں وہی خیرخواہی پیدا ہوجائے گی جو ہر مدعو کے لیے ایک داعی کے دل میں ہوتی ہے- اِس طرح یہ ممکن ہوجائے گا کہ ہم مستشرقین کے ذہن کو غیرجانب دارانہ انداز میں سمجھیں اور اُن سے داعیانہ ذہن کے تحت ڈسکشن کریں اور اُن کو اسلام کا فطری پیغام پہنچائیں-مستشرقین بھی انسان ہیں- اُن کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر پائی جاتی ہے- اگر اُن کی فطرت ایڈریس ہوجائے تو اُن کے ساتھ وہی واقعہ پیش آسکتا ہے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ( 41:34)
تاریخ بتاتی ہے کہ مستشرقین کے معاملےمیں اِس طرح کے واقعات بار بار پیش آئے ہیں- بہت سے ایسے مستشرق ہیں جنھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا- وہ اسلام کی صداقت سے متاثر ہوئے اور انھوں نے اسلام کے بارے میں بہت سی اعلی کتابیں لکھیں- مثلاً ٹامس…
…بیان کیا گیا ہے، وہ مسئلہ درست نہیں، کیوں کہ اس میں بخاری کی مذکورہ روایت کو مطلق معنی میں لے لیا گیا ہے- اِس سلسلہ کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ وہ مطلق معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فقہا کی اصطلاح میں، ’’بیان جواز‘‘ کے معنی میں ہے-
قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ اہلِ ایمان کو ہمیشہ زیادہ بہتر انداز میں جواب دینا چاہیے- اِس معاملے میں یہود یا کسی دوسرے کا کوئی استثنا نہیں ہے- اعلی اخلاق (68:4)ایک عظیم سنتِ رسول ہے- وہ ہر حال میں اہلِ ایمان سے مطلوب ہے- اِس کے علاوہ، غیر مسلموں کے سلسلہ میں ایک خصوصی اصول وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب (9:60) کہاگیا ہے- تالیفِ قلب کے اصول کا تقاضا ہےکہ اہلِ ایمان اُس طرزِ سلوک کو اختیار کریں جس کا حکم قرآن میں اِن الفاظ میں دیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (41:34) یعنی بھلائی اوربرائی دونوں برابر نہیں،تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
صحیح البخاری کی مذکورہ روایت کی تشریح کے تحت صاحبِ فتح الباری نے لکھا ہے: وذہب جماعة من السلف إلى أنہ یجوز أن یقال فی الردّ علیہم ’’علیکم السلام‘‘ کما یردّ على المسلم- واحتج بعضہم بقولہ تعالى: فاصفح عنہم وقل سلام (43:89) یعنی علماءِ سلف…
…مسلموں کے سلام کے جواب میں اُسی طرح وعلیکم السلام کہاجائے جس طرح ایک مسلم کے جواب میں وعلیکم السلام کہا جاتاہے- اُن میں سے بعض نے اِس کی دلیل یہ دی ہے کہ خود قرآن میں کہاگیا ہے: ’’پس اُن سے درگزر کرو اور کہو کہ سلام ہے تم کو‘‘ -(47/11)
سلام جیسے معاملے میں مذکورہ قسم کی بحث اُس وقت پیداہوتی ہے، جب کہ اُس کو خالص فقہی اور قانونی نظریے سے دیکھا جائے- اس کے برعکس، اگر اِس معاملے کو دعوتی اخلاقیات کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ تالیفِ قلب کا مسئلہ بن جائے گا اور کہا جائے گا کہ اِس معاملے میں مسلم اور غیرمسلم کی تمیز مت کرو، بلکہ ہر ایک کو یکساں طورپر مدعو کی نظر سے دیکھو، حتی کہ اگر بالفرض فریقِ ثانی نے ’’السام علیکم‘‘ کہا ہے، تب بھی صفحِ جمیل ( 15:85 ) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے تم کو اس کے جواب میں السلام علیکم کہنا چاہئے، تاکہ وہ مثبت نتیجہ ظہور میں آئے جس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَةٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (41:34)-
آپ نے لکھا ہے کہ — کیا اِس کا اطلاق آج ہمارے پڑوسی مذہب کےہندوبھائیوں پر بھی ہوگا- جواب یہ ہے کہ یقیناً ہوگا- جو مثبت روش آپ کو دوسرے اہلِ کتاب کے بارے میں اختیار کرنا ہے، وہی مثبت روش آپ کو ہندو مذہب کے لوگوں کے بارے میں بھی اختیار…
The member of Hague municipal council and the former member of the right-wing Freedom Party, Ernaud Van Dorn, has announced his conversion to Islam through his account on Twitter.
قبولِ اسلام کے اِس طرح کے واقعات برابر میڈیا میں آتے رہتے ہیں - اِس طرح کے واقعات اِس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام فطرت کا دین ہے، جو انسان کی فطرت ہے، وہی اسلام ہے- اگر کوئی شخص بظاہر اسلام کا مخالف ہو تو اس کی مخالفت یقیناً غلط فہمی کی بنیاد پر ہوگی- آپ اس کی غلط فہمی کو دور کردیجئے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ، قرآن کے الفاظ میں، جو شخص اسلام کا دشمن بنا ہوا تھا، وہ اسلام کا دوست بن گیا ہے (41:34)-
انھوں نے کہا کہ کیا قرآن میں بھی اِس طرح کی کوئی تعلیم پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے قرآن کی سورہ حم السجدہ کی وہ آیت پڑھی جس کا ترجمہ یہ ہے:
Good and evil deeds are not equal. Repel evil with what is better; then you will see that one who was once your enemy has become your dearest friend. (41: 34)
اِس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن کی اِس آیت کے مطابق، کوئی دشمن ابدی دشمن نہیں ہے۔ ہر دشمن ایک امکانی دوست (potential friend) ہے۔ اِس لیے ہم کو چاہیے کہ ہم اِس امکان کو واقعہ بنائیں۔ ہم اپنے مثبت رویّے سے اپنے دشمن کو اپنا دوست…
…فطری صورتِ حال سمجھے اور رد عمل کا اظہار نہ کرے، بلکہ وہ اس کو اوائڈ کرتے ہوئے اپنی مطلوب زندگی گزارے۔ اِس صورت ِ حال کو بدلنا کسی انسان کے لیے ممکن نہیں، اس لیے اِس دنیا میں انسان کے لیے اعراض (avoidance) کے سوا کوئی اور چوائس بھی نہیں۔
اِس سماجی صورتِ حال کی آخری صورت وہ ہے جس کو دشمنی کہاجاتا ہے۔ دشمنی کی صورت ِ حال کے مقابلے کے لیے بھی قرآن اِسی مثبت رویّے کی تلقین کرتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ’’اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اُس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا‘‘ (41: 34)قرآن کی اس آیت کے مطابق،دشمنی کوئی ابدی چیز نہیں۔ ہر دشمن آپ کا امکانی دوست (potential friend) ہے۔ اِس لیے مومنینِ قرآن کو چاہیے کو وہ اِس امکان کو واقعہ بنائیں، وہ اپنے حسنِ عمل سے، دشمن کو دوستی میں تبدیل کردیں۔
سماج کا ایک ظاہرہ یہ بھی ہے کہ اُس کے اندر ہمیشہ مختلف افکار ونظریات کے لوگ رہتے ہیں، ایسے لوگ جن کا کلچر اور مذہب ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے۔ ایسے سماج میں پرامن طورپر رہنے کا فارمولا کیا ہے۔ ایسے سماج کے لیے پُرامن فارمولا قرآن میں اِس…
…لوٹ کر آئیں، اور اپنی نئی زندگی شروع کریں۔ بد قسمتی سے اسرائیل کی یہ واپسی مثبت واپسی نہ بن سکی۔ اس واپسی کے ساتھ یہودیوں اور عربوں کے درمیان ایک خونی تصادم شروع ہوگیا، اور اس طرح وہ امکان واقعہ نہ بن سکا، جو اس معاملہ میں چھپا ہوا تھا۔
اگر مسلمان یہود کو دشمن سمجھنے کے بجائے مدعو سمجھتے، اور ان کے درمیان دعوتی کام کرتے تو عین ممکن تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی یا کلی طور پر وہی واقعہ پیش آتا، جو اس آیت میں مذکور ہے:وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ (41:33-34)۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
اس کے برعکس، اس بات کو ماننے کے لیے کوئی بنیاد قرآن و حدیث میں نہیں ہے کہ یہود ابدی طور پر "ملعون" ہوچکے ہیں، اور اب ان کے لیے سچائی کے راستے پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سے یہودیوں نے اسلام…
…اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
اس کے برعکس، اس بات کو ماننے کے لیے کوئی بنیاد قرآن و حدیث میں نہیں ہے کہ یہود ابدی طور پر "ملعون" ہوچکے ہیں، اور اب ان کے لیے سچائی کے راستے پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سے یہودیوں نے اسلام قبول کیا، اور اب بھی قبول کر رہے ہیں۔ مثلا آسٹریا کے لیو پولڈ اسد (1900-1992)، اور امریکا کی مارگریٹ جمیلہ (1934-2012)۔ اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہود کے اوپر قرآن کی یہ آیت (41:33-34) منطبق (apply) نہیں ہوتی ہے۔
حظِّ عظیم
قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ۔ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ (41:33-35)۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے۔
قرآن کی ان آیتوں میں ایسے اہل اسلام کا ذکر ہے، جو بڑے نصیبے والے (truly fortunate) ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے برتاؤ سے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ دشمن بھی ان کا دوست بن جائے، جو بظاہر غیر بنا ہوا تھا، وہ بدل کر آپ کا اپنا بن جائے۔
حظِّ عظیم
قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ۔ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ (41:33-35)۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے۔
قرآن کی ان آیتوں میں ایسے اہل اسلام کا ذکر ہے، جو بڑے نصیبے والے (truly fortunate) ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے برتاؤ سے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ دشمن بھی ان کا دوست بن جائے، جو بظاہر غیر بنا ہوا تھا، وہ بدل کر آپ کا اپنا بن جائے۔
In the lectures
Cited at 763s — opens the lecture at this moment.
Cited at 779s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1075s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3334s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4098s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4176s — opens the lecture at this moment.
Cited at 611s — opens the lecture at this moment.
Cited at 711s — opens the lecture at this moment.
Cited at 799s — opens the lecture at this moment.
Cited at 828s — opens the lecture at this moment.
Cited at 837s — opens the lecture at this moment.
Cited at 899s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1047s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1096s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1167s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1341s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1637s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1803s — opens the lecture at this moment.
Cited at 1807s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2031s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2187s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2411s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2546s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2555s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2598s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2640s — opens the lecture at this moment.
Cited at 2738s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3297s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3298s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3451s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3514s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3537s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3660s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3734s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3747s — opens the lecture at this moment.
Cited at 3807s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4066s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4214s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4243s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4270s — opens the lecture at this moment.
Cited at 4361s — opens the lecture at this moment.
Cited at 5518s — opens the lecture at this moment.
Cited at 7219s — opens the lecture at this moment.
Also discussed — related by meaning
Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
…incurring risks. If offers of reconciliation are made, they should be accepted without delay, even if the fear of deception exists. We put our hopes in God taking the side of those who love peace, not the side of those who use deception.
And good and evil deeds are not alike. Repel evil with good, and he who is your enemy will become your dearest friend.
Another reality that emerges is that, in this world, peace can be established only by those who have great courage. Problems inevitably arise between different groups of people, because no human situation is ever absolutely ideal. Everyone…
The same teaching is echoed in the Quran:
And good deeds and evil deeds are not alike. Repel evil with good and he who is your enemy will become your dearest friend. (THE QURAN 41: 34)
This is a practical code of conduct for us, showing us the way to live in peace and harmony.
Believers do not have the right to wage wars against enemies. They have only a duty — to peacefully convey the message of Islam. The Quran is clear on this, saying:
And good and evil deeds are not alike. Repel evil with good, and he who is your enemy will become your dearest friend. THE QURAN 41: 34
The Quran says:
انھوں نے کہا کہ آپ کا یہ نظریہ بظاہر اچھا لگتا ہے، مگر اس نظریہ کی بنیاد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ نظریہ دراصل فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ اس اصول کو قرآن کی ایک آیت میں بتایا گیا ہے، اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:
اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (حٰم السجدہ ۳۴)
اصل یہ ہے کہ کوئی بھی آدمی پیدائش کے اعتبار سے مسٹر دشمن نہیں۔ پیدائشی طور پر ہر آدمی مسٹر دوست ہی ہے۔ کیوں کہ ہر آدمی کے اندر وہی فطرت ہے جو دوسرے آدمی کے اندر ہے۔ دشمنی دراصل ایک اوپری چیز ہے جو وقتی جذبہ کے تحت کسی کے دل میں مصنوعی…
۲۔ اِس سلسلے میں دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے
’’اور بھلائی اور بُرائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اُس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی،وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا‘‘۔ (حم السجدہ ۳۴)
قرآن کی اِس آیت میںبتایا گیا ہے کہ کوئی آدمی مسٹر دشمن نہیں۔ ہر آدمی امکانی طور پر مسٹر دوست ہے۔ اس لیے کہ ہر آدمی ایک ہی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے، کئی فطرت پر نہیں۔ اِس قر آنی اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈائلاگ کا آغاز اِس طرح نہیں…
The greatest hero is he who makes his enemy his friend.
یہ وہی بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو ، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی قریبی دوست (حم السجده 34)
3 ستمبر 1983
Yet another pertinent verse from the Quran—
“Good deeds and bad deeds are not alike. Do good deeds in return for bad deeds. And you will see that your enemy has become your dearest friend.” THE QURAN, 41: 34
This is indeed a very revolutionary kind of teaching. It means that human beings are not like stones. They are always subject to change. Thus the difference between friends and enemies is quite relative. In fact, your enemy is potentially…
…کر دے تو اس وقت ایک ناگزیر برائی(necessary evil) کے طورپر دفاع کی ضرورت کے تحت جنگ کی جائے گی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اُذنَ للذین یقاتلون بأنھم ظلموا (الحج ۳۹) یعنی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔
مگر جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، ان کے خلاف محض دشمنی کی بنا پر جنگی کارروائی کی اجازت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت اہل اسلام کو ایک واضح ہدایت دیتی ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (فصّلت ۳۴)۔
اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تم کو دشمن نظر آئے تو اس کو اپنا ابدی دشمن نہ سمجھ لو۔ ہر دشمن انسان کے اندر تمہارا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو اور اس امکان (potential) کو واقعہ (actual) بناؤ، اس…
…ایک ناگزیر برائی(necessary evil) کے طورپر دفاع کی ضرورت کے تحت جنگ کی جائے گی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہےأُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (22:39) یعنی جنگ کرنے کی اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔
مگر جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، ان کے خلاف محض دشمنی کی بنا پر جنگی کارروائی کی اجازت نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت اہل اسلام کو ایک واضح ہدایت دیتی ہے اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔
اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی شخص تم کو دشمن نظر آئے تو اس کو اپنا ابدی دشمن نہ سمجھ لو۔ ہر دشمن انسان کے اندر تمہارا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو اور اس امکان (potential) کو واقعہ (actual) بناؤ، اس…
دفع احسن
وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
ایک شخص آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے اور آپ اس پر بھڑک کر اس کی مذمت کرنے لگیں تو اس کے اندر ضد پیدا ہو گی۔ اس کی دشمنی اور بڑھ جائے گی۔ آپ کا ایسا ردعمل آگ پر تیل ڈالنے کے ہم معنی ہو گا۔ جس دشمنی کی ابتدائی صورت آپ کے لئے ناخوشگوار ثابت…