Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
دفع احسن p. 198
وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ p. 198Qur'an
ایک شخص آپ کے ساتھ دشمنی کا معاملہ کرے اور آپ اس پر بھڑک کر اس کی مذمت کرنے لگیں تو اس کے اندر ضد پیدا ہو گی۔ اس کی دشمنی اور بڑھ جائے گی۔ آپ کا ایسا ردعمل آگ پر تیل ڈالنے کے ہم معنی ہو گا۔ جس دشمنی کی ابتدائی صورت آپ کے لئے ناخوشگوار ثابت ہوئی تھی، اب آپ کو اس دشمنی کی انتہائی صورت کا تلخ تر تجربہ برداشت کرنا پڑے گا۔ p. 198
اس کے برعکس اگر آپ ایسا کریں کہ جس آدمی نے آپ کے ساتھ دشمنی والا سلوک کیا ہے، اس کے ساتھ آپ اعراض برتیں۔ یا اس کے ساتھ نرمی اور حسن سلوک کا معاملہ کریں تو یہ آگ پر پانی ڈالنے کے ہم معنی ہو گا۔ آپ کا ایسا رویہ دشمن کو نفسیاتی شکست میں مبتلا کر دے گا۔ اس کے بعد اس کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ وہ اندرونی طور پر شرمندگی کے احساس میں مبتلا ہو جائے گا۔ وہ مزید دشمنی کرنے کے بجائے دشمنی کی تلافی کی بات سوچنے لگے گا۔ p. 198
اشتعال کے جواب میں مشتعل ہونا یا منفی ردعمل کا طریقہ اختیار کرنا دل کی بھڑاس نکالنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ مگر وہ کوئی مفید نتیجہ برآمد کرنے والا نہیں۔ یہ نادان آدمی کا کام ہے کہ وہ کوئی خلاف مزاج بات دیکھے تو فوراً بھڑک اٹھے۔ عقل مند وہ ہے جو اقدام سے پہلے نتیجہ کی بات سوچے۔ جو آخری نتیجہ کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کا نقشہ بنائے نہ کہ محض وقتی جذبہ کے تحت کارروائی کرنے لگے۔ p. 199
ہر آدمی اصلاً فطرت کا ایک ظاہرہ ہے۔ ہر ایک آپ ہی کی طرح کا ایک انسان ہے۔ بظاہر کوئی شخص آپ کا دشمن ہو تب بھی اس کو ایک انسان سمجھئے۔ اس کی برائی کو نظرانداز کرکے اس کے ساتھ اچھا سلوک کیجئے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کا قریبی دوست بن گیا۔ p. 199
صبر کی اہمیت p. 199
قرآن میں صبر کی غیر معمولی عظمت بیان ہوئی ہے۔ صبر کو اولوالعزم پیغمبروں کا طریقہ بتایا گیا ہے (الاحقاف ،46:35 ) صبر پر اعلیٰ ترین کامیابیوں کی بشارت ہے (7:137)صبر قیادت عالم کا زینہ ہے (السجدہ ، 32:24) صبر حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے (یوسف ،12:90 ) حتیٰ کہ صبر وہ چیز ہے جو آدمی کو بے حساب اجر کا مستحق بناتا ہے (39:10)۔ p. 199original + quote
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو صبر سے بہتر اور صبر سے بڑا عطیہ نہیں دیا گیا (وَمَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ) سنن أبي داود،حدیث نمبر 1644۔عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کا سب سے بہتر صبر کے ذریعہ پایا (وَجَدْنَا خَيْرَ عَيْشِنَا بِالصَّبِرِ) الزہد و الرقائق لابن المبارک: 997۔ ابن حجر العسقلانی نے صبر کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر تمام اچھے اخلاق کا جامع ہے (فالصبر جامع المکارم الاخلاق)فتح الباری 11/309-311 ) p. 199quoted source
صبر نہ بزدلی ہے اور نہ وہ بے عملی ہے۔ صبر ایک مثبت قدر ہے۔ صبر بلند ترین ذہنی حالت ہے۔ صبر سب سے بڑا عمل ہے۔ صبر انسانیت کا تکمیلی درجہ ہے۔ p. 200
آپ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں، کچھ لوگ آتے ہیں اور آپ کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ لگا دیتے ہیں۔ اب آپ کے لیے ردعمل کے دو مختلف طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ نعرہ کو سن کر بھڑک اٹھیں۔ آنے والوں کے ساتھ جھگڑنے لگیں۔ یہ بے صبر کا طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اشتعال انگیز نعرہ کو سنیں مگر آپ اس پر مشتعل نہ ہوں، آپ کا ذہن بدستور اعتدال کی حالت پر باقی رہے۔ آپ اپنے جذبات کو تھام کر یہ سوچیں کہ ایسے موقع پر آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ یہ دوسرا طریقہ صبر کا طریقہ ہے۔ p. 200
بے صبری بھی عمل ہے، اور صبر بھی عمل ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی بے عملی نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بے صبر آدمی فوری جذبات کے تحت اقدام کر بیٹھتا ہے، خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی نکلے۔ اس کے برعکس صبر والا آدمی سوچ سمجھ کر اور مشورہ کر کے اپنے اقدام کا فیصلہ کرتا ہے۔ p. 200
بے صبری کی روش تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور صبر کی روش کامیابی کی طرف۔ p. 200