Al-Risala February 2020

حظِّ عظیم

Al-Risala February 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - February 2020
  2. ایمان کی علامت
  3. حظِّ عظیم
  4. ہدایت کا قانون
  5. حدیث ، عارفانہ کلام
  6. حدیث کی تدوین
  7. رسول اللہ کی سنت
  8. اختلاف کو نظر انداز کیجیے
  9. حکمتِ رسول
  10. حکم اللہ کا
  11. حکومت الٰہیہ
  12. اصلاحی سیاست
  13. ائمۂ ہدایت
  14. فکری کنفیوژن
  15. اسلام میں جنگ
  16. اسلام میں جہاد
  17. ارتداد کا مسئلہ
  18. انتقام نہیں
  19. لو پروفائل، ہائی پروفائل
  20. اسلام اور سائنس
  21. زمانے کے مطابق عمل
  22. ہر مذہب سچا ہے
  23. ذاتی معاملات
  24. عقل کی بات
  25. جنون درکار ہے
  26. خبرنامہ اسلامی مرکز- 271

حظِّ عظیم

قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ ۔ وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَیْنَکَ وَبَیْنَہُ عَدَاوَةٌ کَأَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیمٌ ۔ وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یُلَقَّاہَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ (41:33-35)۔ یعنی اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبے والا ہے۔original + quote

قرآن کی ان آیتوں میں ایسے اہل اسلام کا ذکر ہے، جو بڑے نصیبے والے (truly fortunate) ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے برتاؤ سے یہ ممکن ہوجاتا ہے کہ دشمن بھی ان کا دوست بن جائے، جو بظاہر غیر بنا ہوا تھا، وہ بدل کر آپ کا اپنا بن جائے۔

اس انقلابی تبدیلی کا فارمولا کیا ہے۔ وہ صبر کا فارمولا ہے۔ صبر کا فارمولا کیا ہے۔ صبر کا فارمولاایک لفظ میںیک طرفہ اخلاقیات (unilateral ethics) کا نام ہے۔ یعنی جوابی ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرنا، بلکہ فریق ثانی کی روش سے اوپر اٹھ کر غیر جوابی انداز میں یا رد عمل کا طریقہ اختیار کیے بغیر یک طرفہ بنیاد پر حسن عمل کا سلوک کرنا۔

ایسے لوگوں کو ذو حظ عظیم (truly fortunate) ہونےکی بشارت دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صبر سب سے بڑا اسلامی عمل ہے۔ اس لیے کہ صبر کا طریقہ اختیار کرنے والا ذاتی سوچ پر اللہ کی سوچ کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ ذاتی تقاضے پر کنٹرول کرتے ہوئے اللہ کے حکم کو اختیار کرتا ہے۔وہ قربانی کی سطح پر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔