Shukr All cross-references →
Qur'an 33:21
Qur'an 33:21

لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِي رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةٞ لِّمَن كَانَ يَرۡجُواْ ٱللَّهَ وَٱلۡيَوۡمَ ٱلۡأٓخِرَ وَذَكَرَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا

There has certainly been for you in the Messenger of Allah an excellent pattern for anyone whose hope is in Allah and the Last Day and [who] remembers Allah often

Explained in 12 book passages and 31 lecture moments.

In the books & Al-Risala

Badges mark quoted material. Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Al-Risala June 2020 A original + quote

…تعلق صرف انفرادی کردار سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی کردار سے بھی ہے۔ یہی اصول ایک خاندان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ یہی اصول ایک سماج کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہی اصول ایک قوم کو اپنی قومی پالیسی کے لیے بھی رہ نمااصول کی حیثیت سے اپنانا ہے۔

قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ماڈل کی حیثیت دی گئی ہے (الأحزاب، 33:21)۔ یہ بات ہر اعتبار سے درست ہے، اور وہ سارے انسانوں کے لیے ہے۔ تمام انسانوں کی یہ ایک ضرورت ہے کہ ان کے پاس سچائی کے لیے ایک عملی ماڈل ہو۔ پیغمبر اسلام کی زندگی اِس اعتبار سے ایک تاریخی ماڈل کی حیثیت ر کھتی ہے۔ جوآدمی بھی یہ چاہتاہو کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے پسندیدہ طریقِ حیات کو اختیار کرے، اُس کو چاہیے کہ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے۔ وہ آپ کی زندگی سے خدا کے پسندیدہ نمونے کو جانے اور اپنی پوری زندگی میںاس کی پیروی کرے۔

Al-Risala January 2019 A original + quote

اسوہ رسول

قرآن میں بتایا گیا ہے :لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21)۔ یعنی اللہ کے رسول میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اِس آیت میں ’اسوہ‘ کسی محدود معنی میں نہیں ہے، وہ پیغمبر کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے۔ پیغمبر اپنی پوری زندگی کے اعتبار سے، اہلِ ایمان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس عموم میں استثنا صرف کسی ایسی چیز کا ہوسکتا ہے جس کو صراحتاً پیغمبر کے ساتھ خاص کیاگیا ہو۔ مثلاً ازدواج کے معاملے میں بعض پہلوؤں سے آپ کے ساتھ استثنا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: خَالِصَةً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ(33:50)۔ یعنی یہ خاص تمہارے لیے ہے، سب مسلمانوں کے لیے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول کا ہر قول اورہر فعل امت کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہوگا، الا یہ کہ رسول کے کسی فعل کو صراحتاً رسول کی ذات کے ساتھ خاص کیاگیا ہو۔

Al-Risala December 2015 A original + quote

…کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ اگر آپ نے اس غلطی کی اصلاح نہیں کی تو میں اس معاملہ کو مسلم علماء اور مسلم میڈیا کے سامنے پیش کروں گا۔اس لیے آپ اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں، اور مجھے اس سے مطلع فرمائیں۔ (شیخ آصف، بلڈانہ، مہاراشٹر)

عربی زبان میں’’کا نَـ‘‘ کا لفظ وسیع معنی میں آتا ہے۔ کبھی ماضی کے معنی میں، جیسے وَکَانَ فِی الْمَدِینَةِ تِسْعَةُ رَہْطٍ (27:48)، اور کبھی حال کے معنی میں، جیسے کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(3:110)، اور کبھی مستقبل کے معنی میں، جیسے مَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَہَا (27:60)۔ تاہم ترجمہ کے اس فرق سے معنی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن کے اردو مترجمین نے دونوں ترجمے کیے ہیں۔ ہے کا ترجمہ بھی، اور تھا کا ترجمہ بھی۔ مثلا قرآن کی آیت لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللَّہَ کَثِیرًا (33:21) میں دونوں قسم کے ترجمے کیے گیے ہیں۔ شاہ رفیع الدین صاحب نے اس آیت میں’’کا نَ‘‘ کا ترجمہ’’ہےـ‘‘ کے ساتھ کیا ہے اور شاہ عبد القادر صاحب اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نےاس آیت میں ’’کا نَـ‘‘ کا ترجمہ’’ـ تھا ‘‘ کے ساتھ کیا ہے۔

آپ سے گزارش ہے کہ اس طرح کا سوال کرنے میں کبھی جلدی نہ کریں کیوں کہ حدیث میں آیا ہے : العجلۃ من الشیطان ۔ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر4058) اس معاملے میں آپ کو چاہیے تھا کہ آپ پہلے لغات اور تراجم کو دیکھ کر تحقیق کرتے۔ پھر اس کے بعد…

Al-Risala December 2013 A original + quote

…نو جائزہ لیا، اور پھر وہ مجموعۂ قرآن مرتب کیا جو مصحفِ عثمانی کے نام سے مشہور ہے- اِسی طرح محدث الالبانی نے تمام حدیثوں کا جائزہ لے کر دوبارہ مستند اور غیرمستند حدیثوں کو الگ کردیا- اِس کام میں انھوں نے اپنی تقریباً پوری عمر صرف کردی-

قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21)- اِس آیت میں اُسوہ کے معنی ماڈل (model) کے ہیں- قرآن کی اِس آیت سے حدیث کی اہمیت معلوم ہوتی ہے- حدیث، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ریکارڈ ہے- حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا نقشہ حیات (life style) کیا تھا- حدیث یا نقشہ حیات کے ریکارڈ کا کام اس لیے ممکن ہوسکا کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ قابلِ لحاظ تعداد میں ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی- انھوں نے پیغمبر کے شب وروز کو دیکھا اور اس کو بعد کی نسلوں تک محفوظ طورپر پہنچایا- اصحابِ رسول کی یہ ٹیم اگر موجود نہ ہوتی تو پیغمبر اور بعد کی نسلوں کے درمیان ایک بُعد (gap)پیدا ہوجاتا اور بعد کے لوگوں کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن نہ ہوتا کہ پیغمبر اسلام کا نقشہ حیات کیا تھا-

حدیث سادہ طورپر صرف احکام کو معلوم کرنے کا ذریعہ نہیں ، بلکہ یہ حدیث کا ذخیرہ ہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نقشہ حیات کیا تھا- اِسی کا نام ماڈل ہے- حدیث کو الگ کرنے کے بعد یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ باقی…

Al-Risala December 2013 A original + quote

حدیث اسوۂ رسول

قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (33:21) یعنی تمھارے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے، اُس شخص کے لیے جو اللہ کا اور وہ آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے-

قرآن کی یہ آیت غزوہ احزاب (5 ہجری) کے بعد اتری- اِس اعتبار سے، اُس کا ایک انطباق وہ ہے جو اِس غزوہ کے دوران ظاہر ہوا- لیکن اِسی کے ساتھ اُس کا ایک وسیع تر انطباق بھی ہے- اِس اعتبار سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اہلِ…

Al-Risala April 2013 A original + quote

(The Life of Muhammad from Original Sources, p. xxiii)

قرآن کے بعد، خدا کے نورِ ہدایت کا دوسرا جز وہ ہے جس کو قرآن میں پیغمبر خدا کا اسوہ حسنہ (33:21) کہاگیا ہے، یعنی عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا مستند نمونہ - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک پُرازواقعات زندگی (eventful life) تھی- آپ کی زندگی میں ہر طرح کے حالات پیش آئے-آپ نے ہر صورت حال میں خدا پرستانہ زندگی کا عملی نمونہ قائم کیا- آپ کے اِس اعلی نمونے کو قرآن میں خلقِ عظیم (68:4) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے- پیغمبراسلام کی زندگی کے یہ نمونے حدیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں-

اسلام کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا ہے- اس کی ایک مثال برٹش اسکالر ڈیوڈ جارج ہاگرتھ(David George Hogarth) ہے، جس کی وفات 1927 میں ہوئی- اس نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کے بارے میں…

Al-Risala April 2013 A original + quote

حدیبیہ اور اسوہ رسول

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21) یعنی اللہ کے رسول میں تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے- اِس آیت میں ’اسوہ‘ کسی محدود معنی میں نہیں ہے، وہ پیغمبر کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے- پیغمبر اپنی پوری زندگی کے اعتبار سے، اہلِ ایمان کے لیے ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے- اِس عموم میں استثنا صرف کسی ایسی چیز کا ہوسکتا ہے جس کو صراحتاً پیغمبر کے ساتھ خاص کیاگیا ہو- مثلاً ازدواج کے معاملے میں بعض پہلوؤں سے آپ کے ساتھ استثنا کا معاملہ، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: خَالِصَةً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ(33:50)-

حقیقت یہ ہے کہ رسول کا ہر قول اورہر فعل امت کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ ہوگا، الا یہ کہ رسول کے کسی فعل کو صراحتاً رسول کی ذات کے ساتھ خاص کیاگیا ہو-اِس اصول کی روشنی میں معاہدہٴ حدیبیہ کا معاملہ بلا شبہہ ایک قابلِ تقلید اسوہ رسول کی…

Al-Risala March 2013 A original + quote

پیغمبر کا نمونہ

قرآن کی سورہ الاحزاب میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (33:21) یعنی تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اُس شخص کے لیے جو اللہ کا، اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرے-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں انسانی زندگی کے لیے بہترین نمونہ (good example) ہے- جو شخص پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے اور آپ کے نمونوں کو اپنی زندگی میں اپنائے، وہ یقیناً اللہ کی رحمت کا مستحق بن جائے گا- اس کو دنیا…

Al-Risala February 2013 A original + quote

اسوۂ رسول

اسلامی تعلیم کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک کامل پیغمبر ہیں- آپ کی سیرت میں انسان کی زندگی کے لیے بہترین نمونہ موجود ہے- ایک انسان اپنی زندگی کے تمام معاملات میں پیغمبراسلام سے مستند ربانی ہدایت حاصل کرسکتاہے- پیغمبر اسلام بلاشبہہ ایک رول ماڈل (role model)کی حیثیت رکھتے ہیں- اِسی کو قرآن میں اسوہ حسنہ (33:21) کہا گیا ہے-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کامل اسوہ بہ اعتبار فہرست (in terms of list) نہیں ہے، بلکہ وہ بہ اعتبارِ انطباق (in terms of application) ہے- یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے معلوم ہوتی ہے- اس کے مطابق،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب…

…نیویارک کے ائر پورٹ سے واپس کردیا گیا تھا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سفرنامہ، جلد اول، صفحہ 470)۔ لیکن میں نے اس واقعے سے منفی تاثر نہیں لیا، بلکہ یہ دعا کیکہ آخرت میں اگر ایسا ہو کہ جنت کے گیٹ سے مجھے واپس کردیا جائے تو میرا کیا حال ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسوۂ حسنہ کی آیت (33: 21)کو کچھ لوگوں نے بے معنی بحث کا موضوع بنالیا ہے، حالاں کہ اس میں ایک سادہ حقیقت بتائی گئی ہے، یعنی یہ کہ دین کی نظری تعلیم (آئڈیالوجی) قرآن سے لو اور اس کا پریکٹکل ماڈل رسول کی زندگی سے اخذ کرو۔

25 جون 2011کی صبح کو میں ڈاکٹر وقار عالم کے گھر میں بیسمنٹ (basement) میں بیٹھا ہوا تھا، یہاںتک کہ دھوپ اندر آنے لگی۔میں نے پوچھا کہ میں تو بیسمنٹ میں بیٹھا ہوں، اتنی زیادہ دھوپ کہاں سے آرہی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہاں دو قسم کے بیسمنٹ…

Al-Risala June 2020 A original + quote

…تعلق صرف انفرادی کردار سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی کردار سے بھی ہے۔ یہی اصول ایک خاندان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ یہی اصول ایک سماج کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہی اصول ایک قوم کو اپنی قومی پالیسی کے لیے بھی رہ نمااصول کی حیثیت سے اپنانا ہے۔

قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ماڈل کی حیثیت دی گئی ہے (الأحزاب، 33:21)۔ یہ بات ہر اعتبار سے درست ہے، اور وہ سارے انسانوں کے لیے ہے۔ تمام انسانوں کی یہ ایک ضرورت ہے کہ ان کے پاس سچائی کے لیے ایک عملی ماڈل ہو۔ پیغمبر اسلام کی زندگی اِس اعتبار سے ایک تاریخی ماڈل کی حیثیت ر کھتی ہے۔ جوآدمی بھی یہ چاہتاہو کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے پسندیدہ طریقِ حیات کو اختیار کرے، اُس کو چاہیے کہ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے۔ وہ آپ کی زندگی سے خدا کے پسندیدہ نمونے کو جانے اور اپنی پوری زندگی میںاس کی پیروی کرے۔

Al-Risala June 2020 A original + quote

…تعلق صرف انفرادی کردار سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی کردار سے بھی ہے۔ یہی اصول ایک خاندان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ یہی اصول ایک سماج کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہی اصول ایک قوم کو اپنی قومی پالیسی کے لیے بھی رہ نمااصول کی حیثیت سے اپنانا ہے۔

قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ماڈل کی حیثیت دی گئی ہے (الأحزاب، 33:21)۔ یہ بات ہر اعتبار سے درست ہے، اور وہ سارے انسانوں کے لیے ہے۔ تمام انسانوں کی یہ ایک ضرورت ہے کہ ان کے پاس سچائی کے لیے ایک عملی ماڈل ہو۔ پیغمبر اسلام کی زندگی اِس اعتبار سے ایک تاریخی ماڈل کی حیثیت ر کھتی ہے۔ جوآدمی بھی یہ چاہتاہو کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے پسندیدہ طریقِ حیات کو اختیار کرے، اُس کو چاہیے کہ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے۔ وہ آپ کی زندگی سے خدا کے پسندیدہ نمونے کو جانے اور اپنی پوری زندگی میںاس کی پیروی کرے۔

In the lectures

Cited at 63s — opens the lecture at this moment.

Cited at 284s — opens the lecture at this moment.

Cited at 419s — opens the lecture at this moment.

Cited at 731s — opens the lecture at this moment.

Cited at 993s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1047s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1276s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1911s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2063s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3066s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3111s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3808s — opens the lecture at this moment.

Cited at 76s — opens the lecture at this moment.

Cited at 210s — opens the lecture at this moment.

Cited at 318s — opens the lecture at this moment.

Cited at 479s — opens the lecture at this moment.

Cited at 693s — opens the lecture at this moment.

Cited at 781s — opens the lecture at this moment.

Cited at 839s — opens the lecture at this moment.

Cited at 996s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1005s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1228s — opens the lecture at this moment.

Cited at 1287s — opens the lecture at this moment.

Cited at 2297s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3085s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3203s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3648s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3822s — opens the lecture at this moment.

Cited at 3830s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5579s — opens the lecture at this moment.

Cited at 5608s — opens the lecture at this moment.

Also discussed — related by meaning

Semantic matches (BGE-M3) — passages about the same subject, found by meaning across languages. Related, not a verified citation. Badges mark quoted material; unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 347) Qur'an

…کرتے ہیں کہ اپنا مطلوب لفظ حروف تہجی کی ترتیب سے نکال کر دیکھ لیتے ہیں۔ اسی طرح سیرت کا مطالعہ اس طرح نہیں کیا جا سکتا کہ حدیث اور سیرت کی مروجہ کتابوں میں متعلق ابواب کو کھول کر دیکھ لیا جائے۔ ایسا مطالعہ سیرت کا کامل مطالعہ نہیں ہو سکتا۔

قرآن میں ہے کہ: تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے(23:21)۔

رسول کی زندگی میں بلاشبہ حیات بشری کے لیے کامل نمونہ ہے۔ مگر اس نمونہ کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ سمجھنے کے لیے وہ شخصیت درکار ہے جس کی معرفت اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ ایک خدا ہی اس کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔ وہ زندگی کی حقیقت سے اتنا زیادہ…

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 406) original + quote

سنجیدگی شرط ہے

لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً (33:21)۔اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے۔

قرآن کی اس آیت میں اللہ کے رسولؐ کو لوگوں کے لیے بہترین نمونہ بتایا گیا ہے۔ بظاہر یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت کی کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے رسول میں اس شخص کو اپنے لیے نمونہ ملے گا جو قرآن و حدیث…

قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتےہوئے کہا گیا ہے

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا(33:21)۔ يعني تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امید وار ہو اوراللہ کو بہت زیادہ یا د کرے۔

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہر انسان کے لیے مکمل نمونہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ارشادہوا ہے کہ یہ نمونہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والا ہو، جو اللہ اور آخرت کا امید وار…

semantic Paiqhambar-e-Inqilab (p. 60) original + quote

…حَسَنَۃٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللہَ كَثِيْرًا(33:21)۔ يعني تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امید وار ہو اوراللہ کو بہت زیادہ یا د کرے۔

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہر انسان کے لیے مکمل نمونہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ارشادہوا ہے کہ یہ نمونہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والا ہو، جو اللہ اور آخرت کا امید وار بن چکا ہو۔

گو یا رسول کی زندگی کا نمونہ، پوری طرح موجود ہو نے کے باوجود، اپنے آپ ہر آدمی کے لیے نمونہ نہیں بن جائے گا۔ وہ صرف اس بندۂ خدا کے لیے نمونہ بنے گا جس نے اللہ کو اتنی گہرائی کے ساتھ پایا ہو کہ وہ اس کی یا دوں میں سما جائے۔ اللہ جس کی…

semantic Al-Risala April 2003 original + quote

اسوۂ رسول

قرآن میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول میںتمہارے لیے بہترین نمونہ (اسوۂ حسنہ) ہے، اس کے لیے جو اللہ کی اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے (الاحزاب ۲۱)۔رسول سے نمونہ اخذ کرنے کے معاملہ کو اس پر کیوں منحصر کیا گیا ہے کہ آدمی اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والا ہو اور وہ آخرت میں اللہ کے فضل کا امید وار ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نمونہ اخذ کرنے کا معاملہ کوئی مشین جیسا معاملہ نہیں ہے کہ ایک سوئچ دبایا اور مطلوب نتیجہ اپنے آپ نکل آیا۔ بلکہ اس میں بہت زیادہ دخل اس انسانی ذہن کا ہوجاتا ہے جس کو رسول اللہ کی زندگی سے اپنے لئے نمونہ حاصل کرنا ہے۔

انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آزادانہ طورپر سوچنے اور آزادانہ رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب چونکہ رسول اللہ کے ہر قول یا عمل میں تاویل(interpretation) کی گنجائش رہتی ہے۔ اس لئے آدمی کے لئے ہمیشہ موقع رہتا ہے کہ وہ جس انداز پر…

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 406) original + quote

…أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً (33:21)۔اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے۔

قرآن کی اس آیت میں اللہ کے رسولؐ کو لوگوں کے لیے بہترین نمونہ بتایا گیا ہے۔ بظاہر یہ نمونہ قرآن اور حدیث اور سیرت کی کتابوں میں لکھا ہوا موجود ہے۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کے رسول میں اس شخص کو اپنے لیے نمونہ ملے گا جو قرآن و حدیث اور سیرت کی کتابوں کو پڑھے بلکہ یہ فرمایا کہ یہ نمونہ جو پورے معنوں میں بہترین نمونہ ہے، وہ صرف اس شخص کو ملے گا جو اللہ سے ڈرے، جو آخرت کے لیے فکر مند ہو، جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔

ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کا نمونہ جو کتابوں میں لکھا ہوا ہے وہ کوئی ریاضیاتی نوعیت کی چیز نہیں ہے۔ مثلاً کسی کتاب میں لکھا ہوا ہو کہ دو اور دو مل کر چار ہوتے ہیں، تو جو آدمی بھی اس کو کتاب میں پڑھے گا وہ اس کاایک ہی مطلب…

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 156) original + quote

بلند کرداری

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کا اخلاق تمام امت کے لیے نمونہ ہے۔ آپ کا اخلاق کیا تھا، اس کی بابت قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بیشک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو (وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ)68:4۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امت کو اسی بلند اخلاقی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ ‌وَطِّنُوا ‌أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ…

semantic Deen-e-Insaniayat (p. 77) original + quote

اعلیٰ اخلاق

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جس اخلاق کی تعلیم دی تھی اور جس کو آپ نے اپنی زندگی میں پوری طرح اپنا لیا، اس کا تذکرہ قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے___ اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو ( وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ) 68:4۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نہ صرف اخلاق پر تھے بلکہ وہ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ تھے، اخلاق اگر سادہ قسم کے اخلاق کا نام ہے تو اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی…

…پر پیدا کیا۔ اس حدیث میں آدم سے مراد انسان ہے، اور صورت (image)کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر اس مثبت (positive) صفات کا ایک شمہ (very little part)رکھ دیا گیا ہے، جو اللہ رب العالمین کے اندر کامل معنوں میں موجود ہے، مثلاً رحم و شفقت ۔

یہ حدیث رسول ایک امید (hope) کی حدیث ہے۔ یہ حدیث آپ کو موقع دیتی ہے کہ آپ اللہ سے امید قائم کریں ۔ وہ یہ کہ اللہ نے جب انسان کے اندر رحمت کا یہ جذبہ رکھا ہے کہ غصہ آنے پر وہ کسی کو معاف کردے توخود اللہ کے اندر یہ صفت یقیناً بے حساب گنا زیادہ درجے میں ہوگی۔ اس لیے انسان کو کبھی اللہ کے عطیے کےبارے میں مایوسی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

یہ سوچتے ہوئے مجھے ایک واقعہ یاد آیا، جس کو میں نے خود ذاتی طور پر دیکھا ہے۔ یہ برٹش انڈیا کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں نوجوانی کی عمر میں تھا، اور اعظم گڑھ کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک زمیندار (landlord) نے گاؤں کے…

…حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا (33:21) یعنی تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اُس شخص کے لیے جو اللہ کا، اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرے-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں انسانی زندگی کے لیے بہترین نمونہ (good example) ہے- جو شخص پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے اور آپ کے نمونوں کو اپنی زندگی میں اپنائے، وہ یقیناً اللہ کی رحمت کا مستحق بن جائے گا- اس کو دنیا کی سعادت بھی حاصل ہوگی اور آخرت کی سعادت بھی-

تاہم نمونے کا موجود ہونا اور کسی انسان کی زندگی میں اس کا واقعہ بننا دو الگ الگ چیزیں ہیں- پیغمبر اسلام کا نمونہ عملاً کسی شخص کی زندگی میں صرف اُس وقت شامل ہوگا، جب کہ و ہ شخص سنجیدہ ہو اور حقیقی معنوں میں پیغمبر کا پیرو بننا چاہے-