Al-Risala April 2003

اسوۂ رسول

Al-Risala April 2003 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (19 chapters)
  1. الرسالہ - April 2003
  2. موت کے قریب
  3. گمراہ نہ ہونا
  4. معاشی کامیابی کا اصول
  5. گھرایک تربیت گاہ
  6. ایمان کے ذائقے
  7. اسوۂ رسول
  8. اخلاص کی اہمیت
  9. دعا عبادت ہے
  10. ایمان کی شاخیں
  11. خدا کا تجربہ
  12. تعبیر کا مسئلہ
  13. سب سے زیادہ خطرناک
  14. اعتدال کا طریقہ
  15. طلبہ کے نام
  16. کامیاب زندگی کا اصول
  17. سوال وجواب
  18. ایک اخباری انٹرویو
  19. خبر نامہ اسلامی مرکز ۱۵۷

اسوۂ رسول

قرآن میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ اللہ کے رسول میںتمہارے لیے بہترین نمونہ (اسوۂ حسنہ) ہے، اس کے لیے جو اللہ کی اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے (الاحزاب ۲۱)۔رسول سے نمونہ اخذ کرنے کے معاملہ کو اس پر کیوں منحصر کیا گیا ہے کہ آدمی اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والا ہو اور وہ آخرت میں اللہ کے فضل کا امید وار ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نمونہ اخذ کرنے کا معاملہ کوئی مشین جیسا معاملہ نہیں ہے کہ ایک سوئچ دبایا اور مطلوب نتیجہ اپنے آپ نکل آیا۔ بلکہ اس میں بہت زیادہ دخل اس انسانی ذہن کا ہوجاتا ہے جس کو رسول اللہ کی زندگی سے اپنے لئے نمونہ حاصل کرنا ہے۔original + quote

انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آزادانہ طورپر سوچنے اور آزادانہ رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب چونکہ رسول اللہ کے ہر قول یا عمل میں تاویل(interpretation) کی گنجائش رہتی ہے۔ اس لئے آدمی کے لئے ہمیشہ موقع رہتا ہے کہ وہ جس انداز پر چاہے اس کی تشریح کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا ذاتی رجحان کام آتا ہے۔ اگر وہ سنجیدہ ہے تو وہ احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی تشریح کرے گا۔ اور اگر وہ سنجیدہ نہیں ہے تو غیر ذمہ دارانہ طورپر کوئی بھی ایسی تشریح اختیار کرلے گا جو اس کی پسند سے مطابقت رکھتی ہو۔آخرت کی فکر اور اللہ کا خوف آدمی کے اندر جواب دہی کا احساس ابھارتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخری حد تک سنجیدہ انسان بن جاتا ہے۔ وہ جب رسول اللہ کے قول و عمل کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اپنے ذاتی رجحان کو بالکل الگ رکھ دیتاہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ معاملہ کی اصل تہہ تک پہنچے، وہ آپ کے قول یا عمل کو عین اسی مفہوم میں لے جو کہ فی الواقع اس کا مفہوم ہے۔

جہنم کا اندیشہ اور آخرت کی فکر آدمی کو سنجیدہ بنا تے ہیں اور ایک سنجیدہ آدمی ہی سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی معاملہ کو سمجھنے میں کوئی انحراف نہ کرے۔ وہ رسول کی بات کو خود رسول کے مفہوم میں لے، نہ کہ اپنے ذاتی مفہوم میں۔