Tazkiya-e-Nafs

تزکیہ اور محاسبہ

Tazkiya-e-Nafs — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (45 chapters)
  1. تزکیہ اسلام
  2. تزکیہ کی حقیقت
  3. تزکیہ کی اہمیت
  4. جنت مزکّہ شخصیت کے لیے
  5. حدیث تزکیہ کا ذریعہ
  6. تزکیہ ایک مسلسل عمل
  7. ڈی کنڈیشننگ کا عمل
  8. تزکیہ روحانی خوراک
  9. عبادت میں اجتہاد نہیں
  10. تزکیہ ہر وقت
  11. غلطی کے بعد محاسبہ
  12. مبنی بر قلب، مبنی بر دماغ
  13. رہنما کی ضرورت
  14. تزکیے کے لیے ربط کی اہمیت
  15. واسطے کے بغیر
  16. تزکیے سے پہلے
  17. تزکیہ اور محاسبہ
  18. تزکیہ اور تواضع
  19. مسنون اذکار
  20. تزکیہ اور دعا
  21. تزکیہ کا ظاہری فارم
  22. ضمیر رہبرِ تزکیہ
  23. تزکیے کا طریقہ
  24. تزکیے کا زیادہ مؤثر طریقہ
  25. تزکیے کا وسیلہ
  26. تزکیہ، ذہنی ارتقاء
  27. تزکیہ اور علم
  28. ڈسٹریکشن سے بچیے
  29. تزکیہ اور آخری تقاضا
  30. تزکیہ کی شرط
  31. اعترافِ حقیقت
  32. تزکیہ اور قربانی
  33. تزکیۂ نفسیاتی عمل
  34. مثبت نفسیات کی اہمیت
  35. تزکیہ کی اصل محاسبہ
  36. محاسبہ کیسے
  37. پرچہ آؤٹ
  38. تزکیہ اور ترکِ دنیا
  39. تزکیہ کا محرک
  40. تزکیہ تیاری کا عمل
  41. تزکیہ کا ایٹم تلاش کرنا
  42. تزکیہ: ذریعہِ قربت
  43. تزکیہ اور موت کی یاد
  44. تزکیہ کا مقصد
  45. تزکیے کا معیار

تزکیہ کوئی ایک بار کا عمل نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک بار کوئی کورس کرے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے ایک مزکّہ انسان بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل، یعنی پراسیس، آدمی کی زندگی میں ساری عمر جاری رہتا ہے؛ موت سے پہلے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔

تزکیہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنا نگران بننا پڑتا ہے۔ جو آدمی تزکیہ کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنے قول و عمل کی نگرانی کرتا رہے۔ وہ انتہائی بے لاگ انداز میں بار بار اپنا جائزہ لیتا رہے۔

خود احتسابی کا یہ عمل صرف اس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جس کے اندر ندامت، یعنی ریپنٹنس، اور محاسبہ، یعنی انٹروسپیکشن کی صلاحیت پائی جائے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر لمحہ آدمی کے لیے آزمائش کی صورتیں پیش آئیں۔ بار بار وہ نفس کے تقاضوں سے متاثر ہو، شیطان کی ترغیبات اس کو کسی غیر مطلوب چیز میں ملوث کر دیں، ماحول کے اثر سے وہ کسی غلط چیز کا شکار ہو جائے، وغیرہ۔

اس قسم کی تمام چیزیں تزکیہ کی ضد ہیں۔ آدمی کو اتنا زیادہ حساس ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایسے موقع پر جاگ اٹھے۔ وہ ہر موقع پر اپنی تطہیر کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ ہر ایسی آلودگی کے موقع پر دوبارہ اپنے آپ کو پاکیزہ بنائے۔

یہی تزکیہ ہے۔ اس قسم کی خود احتسابی کے بغیر کوئی شخص مزکّہ شخصیت، یعنی پیوریفائیڈ پرسنالٹی، کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا۔ محاسبے سے ذہنی ارتقاء، یعنی انٹلیکچول ڈیولپمنٹ، حاصل ہوتا ہے۔ اور ذہنی ارتقاء اس بات کا ضامن ہے کہ تزکیہ کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر آدمی کے اندر جاری رہے۔ p. 24