Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ہماری اصل زندگی کا آغاز ہے۔ موت دراصل کسی انسان کا وہ وقت ہے جب وہ مالکِ کائنات کی عدالت میں آخری فیصلے کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔ موت سے پہلے آدمی کو بہت سے کام نظر آتے ہیں، مگر موت کے بعد آدمی کے سامنے صرف ایک ہی کام ہوگا: یہ کہ خدا کے غضب سے وہ کس طرح بچے۔ جب آدمی کے پاس بہت زیادہ وقت ہو تو وہ بہت سے کام چھیڑ دیتا ہے، مگر جس شخص کو وقت کے صرف چند لمحے حاصل ہوں، وہ صرف وہی کام کرتا ہے جو انتہائی ضروری ہے۔
فیصلہ کن لمحات میں کوئی شخص غیر متعلق یا غیر اہم کام میں مصروف ہونے کی حماقت نہیں کرتا۔ موت کے معاملے کی نزاکت اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں؛ وہ کسی بھی وقت، کسی بھی شخص کے لیے آ سکتی ہے۔ ایسی حالت میں ایک بتانے والے کے پاس سب سے پہلی اور سب سے بڑی بات جو لوگوں کو بتانے کے لیے ہونی چاہیے، وہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو موت کے خطرے سے آگاہ کرے۔ وہ کل سے پہلے لوگوں کو کل کے بارے میں خبردار کر دے۔
اسلام کی دعوت کیا ہے؟ آخرت کی چتاونی۔ یہ قبر کے اس پار کے معاملات سے قبر کے اس پار والوں کو باخبر کرنا ہے۔ اسلام کا داعی موت اور زندگی کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔
اس کو موت سے پہلے مر جانا پڑتا ہے تاکہ وہ دوسری طرف کی دنیا کو دیکھے اور مردوں کے احوال سے زندوں کو باخبر کر سکے۔ p. 42