Naar-e-Jahannam

زندگی کی حقیقت

Naar-e-Jahannam — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (46 chapters)
  1. Dibacha.
  2. زندگی کی حقیقت
  3. ایمانی انقلاب
  4. آزمائش
  5. جاننے کی بات
  6. اُس دن
  7. صرف کریڈٹ
  8. کل کو جانو
  9. وقت سے پہلے
  10. آدمی اگر جانے
  11. آہ، یہ انسان
  12. بے ٹھکانہ
  13. خوش فہمیاں
  14. فرشتہ یا شیطان
  15. جب خدا ظاہر ہوگا
  16. موت کا سبق
  17. جھوٹی بڑائی
  18. سب سے بڑی مجبوری
  19. زندگی کا سفر
  20. عجیب محرومی
  21. خدا کا سایہ
  22. قبر کا دروازہ
  23. بولنا بند ہو جائے گا
  24. آخری وقت
  25. آنے والا دن
  26. موت کی یاد
  27. کیسی عجیب غفلت
  28. آدمی اکیلا ہے
  29. آخرت کا طوفان
  30. یہ بے خبری
  31. قیامت کی چنگھاڑ
  32. فیصلے کا دن
  33. ایک ہی موقع
  34. اصلی ہار جیت
  35. سب سے بڑا بھونچال
  36. Jaisa bona waisa kaatna.
  37. بہت جلد
  38. خدا کی ترازو
  39. موت کے بعد
  40. عدالت میں پیشی
  41. سب سے بڑا حادثہ
  42. آخرت کا اعلان
  43. دعوتی ذمہ داری
  44. اُس وقت کیا ہوگا
  45. اسلام کی روح
  46. بھیڑ کے درمیان سناٹا

اس کائنات کا ایک خدا ہے، اسی نے تمام چیزوں کو بنایا ہے۔ وہ موت کے بعد تمام انسانوں کو جمع کر کے ان سے حساب لے گا، اور پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو ابدی جنت میں داخل کرے گا یا ابدی جہنم میں۔ یہ انجام ہر ایک کے سامنے آنے والا ہے، خواہ وہ کمزور ہو یا طاقتور۔ یہ سنگین حقیقت کسی کے دل میں اتر جائے تو اس کی زندگی کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔

وہ ان تمام چیزوں کے بارے میں بے حد حساس ہو جاتا ہے جو آدمی کو جہنم کی آگ میں پہنچانے والی ہیں، اور ان تمام چیزوں کا بے حد مشتاق ہو جاتا ہے جو آدمی کو جنت کے باغوں کا مستحق بنانے والی ہیں۔ وہ ہر چیز سے زیادہ اللہ سے ڈرنے لگتا ہے، اور ہر چیز سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے۔ خدا اور آخرت کے بارے میں اس کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کو بندوں کے بارے میں بھی انتہائی محتاط اور ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ ایک انسان سے برائی کرتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنے آپ کو جہنم کے غار میں گرا رہا ہے۔

بندوں کے ساتھ سرکشی کا سلوک کرتے ہوئے وہ اس طرح ڈرنے لگتا ہے جیسے کہ ہر آدمی اپنے ساتھ جہنم کے فرشتوں کی فوج لیے ہوئے ہے۔ اپنے صاحبِ معاملہ افراد سے بے انصافی کرنا اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس نے اپنے آپ کو آگ کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔ اب کوئی انسان اس کی نظر میں صرف ایک انسان نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ایسا وجود ہوتا ہے جس کے پیچھے خود خدا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہو۔ p. 4