Mazhab aur Jadeed Challenge

معاشرت

Mazhab aur Jadeed Challenge — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (22 chapters)
  1. ابتدائیہ
  2. تمہید
  3. مخالفین مذہب کامقدمہ
  4. تبصرہ
  5. استدلال کاطریقہ
  6. کائنات خداکی گواہی دیتی ہے
  7. دلیل اخرت
  8. امکان
  9. تقاضا
  10. تجرباتی شہادت
  11. اثبات رسالت
  12. قران— خداکی اواز
  13. فلکیات
  14. ارضیات
  15. غذائیات
  16. مذہب اورتمدنی مسائل
  17. معاشرت
  18. تعدد ازواج
  19. تمدن
  20. معیشت
  21. جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
  22. اخری بات

معاشرت p. 220

اسلام نے عورت اور مردکے درمیان فرق کیا ہے۔وہ دونوں صنفوں کے درمیان آزادانہ اختلاط کو ناپسندکرتا ہے،اوراس کوبندکرنے کاحکم دیاہے۔ اس کے بعدجب صنعتی دور شروع ہوا تو اس اصول کابہت مذاق اڑایاگیا،اوراس کودورجہالت کی یادگار قرار دیا گیا۔ بڑے زورشورسے یہ بات کہی گئی کہ عورت مرددونوں یکساں ہیں،ان کے میل جول کے درمیان کوئی دیوارکھڑی نہیں کی جاسکتی ۔ ساری دنیا میں اورخاص طورسے مغرب میں اس اصول پرایک نئی سوسائٹی ابھرنا شروع ہوئی ،مگرطویل تجربے نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ پیدائشی طورپردونوں یکساں نہیں ہیں، اس لیے دونوں کویکساں فرض کرکے جوسماج بنایا جائے وہ لازمی طورپربے شمار خرابیاں پیداکرنے کاباعث ہوگا( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب، خاتونِ اسلام، مطبوعہ نئی دہلی) ۔ p. 220original + quote

پہلی بات یہ کہ عورت اورمردمیں فطری صلاحیتوں کے زبردست نوعی اختلافات ہیں اس لیے دونوں کومساوی حیثیت دینااپنے اندرایک حیاتیاتی تضادرکھتاہے،ڈاکٹرالکسس کیرل عورت اور مردکے فعلیاتی (Physiological)فرق کوبتاتے ہوئے لکھتاہے p. 220original + quote

’’مرداورعورت کافرق محض جنسی اعضاکی خاص شکل ،رحم کی موجودگی،حمل یا طریقۂ تعلیم ہی کی وجہ سے نہیں ہے،بلکہ یہ اختلاف بنیادی قسم کے ہیں، خود نسیجوںکی بناوٹ اورپورے نظامِ جسمانی کے اندر خاص کیمیائی مادے جو خصیۃالرحم سے مترشح ہوتے رہتے ہیں،ان اختلافات کاحقیقی باعث ہیں، صنف نازک کے ترقی کے حامی ان بنیادی حقیقتوں سے ناواقف ہونے کی بنا پریہ سمجھتے ہیں کہ دونوں جنسوں کوایک ہی قسم کی تعلیم ،ایک ہی قسم کے اختیارات اورایک ہی قسم کی ذمہ داریاں ملنی چاہئیں،حقیقت یہ ہے کہ عورت،مردسے بالکل ہی مختلف ہے، اس کے جسم کے ہر ایک خلیے میں زنانہ پن کااثر موجود ہوتا ہے،اس کے اعضااورسب سے بڑھ کراس کے اعصابی نظام کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔فعلیاتی قوانین (Physiological Law) اتنے ہی اٹل ہیں،جتنے کہ فلکیات(Sidereal World) کے قوانین اٹل ہیں، انسانی آرزؤں سے ان کوبدلانہیں جاسکتا،ہم ان کواسی طرح ماننے پرمجبورہیں، جس طرح وہ پائے جاتے ہیں، عورتوں کوچاہیے کہ اپنی فطرت کے مطابق اپنی صلاحیتوں کی ترقی دیں اورمردوں کی نقالی کرنے کی کوشش نہ کریں۔‘‘ p. 221

Man, the Unknown, p. 93 p. 221

عملی تجربہ بھی اس فرق کی تصدیق کررہاہے۔ زندگی کے کسی شعبہ میں بھی اب تک عورت کو مرد کے برابردرجہ نہ مل سکا۔حتیٰ کہ وہ شعبے جوخاص طورپرعورتوں کے شعبے سمجھے جاتے ہیں، وہاں بھی مرد کو عورت کے اوپر فوقیت حاصل ہے۔ میری مرادفلمی ادارے سے ہے۔ نہ صرف یہ کہ فلمی اداروں کی تنظیم تمام ترمردوں کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اداکاری کے اعتبارسے بھی مردکی اہمیت عورت سے زیادہ ہے۔ آج (1962 ءمیں)ایک مشہورترین فلم ایکٹرایک فلم کے لیے چھ لاکھ روپے لیتاہے،جب کہ مشہور ترین فلم ایکٹرس کواسی فلم کے لیے صرف چارلاکھ ملتے ہیں۔ p. 221

مگربات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔اگرہم طبیعی اورفلکیاتی قوانین کوتسلیم نہ کریں اوران کے خلاف چلناشروع کردیں تویہ صرف ایک واقعہ کاانکارہی نہیں ہوگابلکہ ہمیں اس کی بڑی قیمت بھی دینی پڑے گی۔ عورت اورمردکی جداگانہ قابلیت کونظراندازکرکے انسان نے جونظام بنایا،اس نے تمدن کے اندربہت سی خرابیاں پیداکردی ہیں ۔مثال کے طورپراس غلط فلسفے کی وجہ سے دونوں صنفوں کے درمیان جوآزادانہ اختلاط پیداہواہے، اس نے جدیدسوسائٹی میں نہ صرف عصمت کا وجود باقی نہیں رکھا،بلکہ ساری نوجوان نسل کوطرح طرح کی اخلاقی اورنفسیاتی بیماریوں میں مبتلاکردیاہے۔ p. 221

آج مغربی زندگی میں یہ بات عام ہے کہ ایک غیر شادی شدہ لڑکی ڈاکٹرکے کمرہ میں داخل ہوتی ہے، اس کوسردرداوربے خوابی کی شکایت ہے،وہ کچھ دیراپنی ان تکلیفات پرگفتگوکرتی ہے،اس کے بعد ایک مردکا ذکر شروع کردیتی ہے ،جس سے ابھی وہ جلدہی ملی تھی،اتنے میںڈاکٹرمحسوس کرتاہے کہ وہ کچھ رک رہی ہے،تجربہ کارڈاکٹراس کی بات سمجھ کرآگے بات شروع کردیتاہے p. 221

Well, then he asked you to his flat. What did you say? p. 222

لڑکی جواب دیتی ہے p. 222

How did you know? I was just going to tell you that... p. 222

اس کے بعدلڑکی جوکچھ کہتی ہے، اس کوناظرین خودقیاس کرسکتے ہیں۔ چنانچہ علمائے جدید خود بھی اس تلخ تجربے کے اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ آزادانہ اختلاط کے بعد عصمت وعفت کاتحفظ ایک بے معنی بات ہے۔ اس کے خلاف کثرت سے مضامین اور کتابیں شائع کی جارہی ہیں۔ ایک مغربی ڈاکٹر کے الفاظ ہیں p. 222original + quote

There can come a moment between a man and a woman when control and judgment are impossible. p. 222

یعنی اجنبی مرداوراجنبی عورت جب باہم آزادانہ مل رہے ہوں توایک وقت ایسا آجاتا ہے، جب فیصلہ کرنااورقابورکھناناممکن ہوجاتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد کے آزادانہ اختلاط کی خرابیوں کومغرب کے دردمندافرادشدت سے محسوس کررہے ہیں۔ مگراس کے باوجود اس سے ا س قدر مرعوب ہیں کہ اصل بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ ایک نہایت قابل اور مشہور خاتون ڈاکٹرمیرین ہلیرڈ(Marrion Hiliard)نے آزادانہ اختلاط کے خلاف سخت مضمون لکھا ہے،وہ کہتی ہیں p. 222original + quote

As a doctor, I don’t believe there is such a thing as platonic relationship between a man and a woman who are alone together a good deal. p. 223

یعنی بحیثیت ڈاکٹرمیں اسے تسلیم نہیں کرسکتی کہ عورت اورمردکے درمیان بے ضرر تعلقات بھی ممکن ہیں، مگراس کے باوجودیہی خاتون ڈاکٹر لکھتی ہیں p. 223

’’میں اتنی غیرحقیقت پسندنہیں ہوسکتی کہ یہ مشورہ دوں کہ نوجوان لڑکے اورنوجوان لڑکیاں ایک دوسرے کابوسہ لیناچھوڑدیں،مگراکثرمائیں اپنی لڑکیوںکواس سے آگاہ نہیں کرتیں کہ بوسہ صرف اشتہاپیداکرتاہے، نہ کہ وہ جذبات کوتسکین دیتا ہے‘‘۔(ریڈرز ڈائجسٹ، دسمبر1957ء) p. 223other source

خاتون ڈاکٹریہ کہہ کربالواسطہ طورپرفطری قانون کوتسلیم کرتی ہے کہ آزادانہ اختلاط کے ابتدائی مظاہرجومغربی زندگی میں نہایت عام ہیں، وہ جذبات میں ٹھہراؤ پیدانہیں کرتے،بلکہ اشتہا کو بڑھا کر مزید تسکین نفس کی طرف ڈھکیلتے ہیں، اوربالآخرانتہائی جنسی جرائم تک پہنچادیتے ہیں۔ مگراس کے باوجوداس کی سمجھ میں نہیں آتاکہ ان محرکات کوکس طرح حرام قراردے۔ p. 223

یہاں میںاقوام متحدہ کے ڈیموگرافک سالنامہ1959ء کاحوالہ دوں گا۔ اس میں اعداد و شمار کے ذریعہ بتایاگیاہے کہ جدیددنیامیں جوصورتحال ہے ،وہ یہ کہ بچے’’اندرسے کم اور باہر سے زیادہ‘‘ پیدا ہو رہے ہیں۔ ڈیموگرافک سالنامہ کے مطابق کچھ ملکوں میں ناجائز بچوں کا تناسب ساٹھ فیصد ہے، اور بعض ممالک مثلاًپنامامیں توچاربچوں میں سے تین بچے پادریوں کی مداخلت یاسول میرج رجسٹری کے بغیرہی پیدا ہورہے ہیں،یعنی75فیصد ناجائز بچے ۔لاطینی امریکا میں اس قسم کے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ p. 223

اقوامِ متحدہ کے اس ڈیموگرافک سالنامہ سے معلوم ہوتاہے کہ مسلم ملکوں میں ناجائز بچوںکی پیدائش کاتناسب نفی کے برابرہے۔چنانچہ اس میں بتایاگیاہے کہ متحدہ عرب جمہوریہ(مصر) میں ناجائز بچوں کاتناسب ایک فی صدی سے بھی کم ہے،جب کہ متحدہ عرب جمہوریہ تمام مسلم ملکوں میں شاید سب سے زیادہ مغربی تہذیب سے متاثرہواہے۔مسلم ممالک دورجدیدکی اس عام وباسے محفوظ کیوں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم ممالک مغربی ممالک کے برخلاف عورت اورمرد کے درمیان آزادانہ اختلاط بہت کم ہے۔ اس لیے وہاںناجائزولادت کم ہیں۔ p. 224

(‘‘More Out Than In’’ مطبوعہ ہندستان ٹائمس،12ستمبر1960ء) p. 224