Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
عراق میں جب سے امریکہ کی فونی کارروائی شروع ہوئی ہے، میرے پاس اکثر لوگوں کے ٹیلی فون آتے رہتے ہیں۔ ملک کے اندر سے بھی اور ملک کے باہر سے بھی۔ وہ پوچھتے ہیں کہ صدام حسین کا کیاتصورتھا جس کی بناپر امریکہ نے اس کے اوپر فوجی حملہ کردیا اور ساری مسلم دنیا کو ذلت اور مصیبت کے غار میں ڈھکیل دیا۔
اس مسئلہ میں سوچنے کا آغاز صحیح نہیں۔ صحیح آغاز یہ ہے کہ اس سوچ کو قرآن سے شروع کیا جائے۔ قرآن میں باربار مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ تم ہی غالب رہوگے اگر تم ایمان والے ہو ( وانتم الاعلون ان کنتم مونین)۔ اس طرح فرمایا کہ الشنفکرون کو مومنین کے اوپر گرارہ دینے والا نہیں۔ ولن یجعل اللہ الکافرین عل المومنین سبیلا۔ اس طرح کی کثیر آیتیں جو قرآن میں ہیں ان کی روشنی میں غورکیا جائے تو یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ قسم کی صورت حال میں ہمارے سوچنے کا رخ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں غیر مسلم طاقت نے مسلمانوں کو کیوں ذلیل و مغلوب کیا۔ بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ خود مسلمانوں میں وہ کون سی کمزوری آگئی تھی جس کی بناپر غیر مسلم طاقتوں کو یہ موقع ملا کہ وہ مسلمانوں کو ذلت اور مغلوبیت سے دوچار کریں۔
اصل یہ ہے کہ صدام حسین کا یا ان کے حامیوں کا منصوبہ امریکہ کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ وہ خدا کی نسبت سے ہے۔ اس اعتبار سے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی فوجی کارروائی دراصل ان کے اوپر ایک خدائی آپریشن ہے۔ (بنی اسرائیل5)اس حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک خدائی تازیانہ ہے، نہ کہ محض ایک امریکی کارروائی۔
حقیقت یہ ہے کہ عراقی لیڈر اس برائی کی مصداق بن گئے ہیں جو اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس وقت ساری دنیا کے مسلمانوں نے صدام حسین کو اپنا ہیروبنالیا ہے۔ یہ گویا اس مسلم سیاست کا ایک انتہائی اظہار ہے جو پچھلے تقریباً دوسوسال سے مسلمانوں کے اندر چل رہی تھی۔ موجودہ زمانہ میں جب مغربی کولونیلزم کا مسئلہ پیدا ہوا تو ساری دنیا کے مسلمانوں میں ایسے لیڈر ابھرے جو کسی نہ کسی اعتبار سے عداوتی نعروں پر کھڑے ہوئے تھے۔ صرف نعرہ کے الفاظ مختلف تھے مگر سب کی اسپرٹ ایک تھی۔ یافی اسلائزم، عرب نیشنلزم، اسلامک فنڈامینٹلزم، مسلم ریوائیولزم، جہاد ایکٹوزم، اسلامک ریڈیکلزم، ٹوٹل اسلامزم وغیرہ سب اس کے مظاہر ہیں۔
یہ تحریکیں جو پچھلے دوسوسال کے اندر ساری مسلم دنیا میں پھیل گئیں۔ وہ مشترک طور پر عداوت پر مبنی سیاست کا نتیجہ تھیں۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ دعوت پر مبنی سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔ اس غیر اسلامی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے ساری دنیا کو اپنا دشمن فرض کرلیا اور تمام قوموں سے متفنر ہوکران کے خلاف نظری یا عملی طور پر منفی جہاد چھیڑدیا۔