Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تخلیق میں ذہانت p. 144
شہد کی مکھی پھولوں کا رس چوس کر شہد تیار کرتی ہے۔ مگر شہد کی مکھی کا صرف اتنا ہی کام نہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اور بھی کئی اہم کام انجام دیتی ہے۔ انھیں میں سے ایک کام زرخیزی ہے۔ یعنی نر اور مادہ کے زیرہ کو ایک دوسرے پر پہنچانا تاکہ وہ زرخیز ہو سکیں۔ یہ کام اتنا اہم ہے کہ شہد کی مکھی کے ایک ماہر نے لکھا ہےکہ پھولوں کا رس وہ معاوضہ ہے جو پودا شہد کی مکھیوں کو زرخیز بنانے کے عمل کے لیے ادا کرتا ہے p. 144original + quote
Nectar is the fee paid by the plant for the fertilizing service of the insect (bees). p. 144
امریکا کے مشرقی حصہ میں پھولوں کے رس(nectar) کا نوے فیصد حصہ بے کار چلا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس علاقہ میں شہد کی مکھیاں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ اور اسی نسبت سے زرخیزی کا عمل بھی نسبتاً کم انجام پاتا ہے۔ p. 144
معلوم کیا گیا ہے کہ شہد کی مکھی جب کسی باغ یا کیاری میں پھولوں کا رس چوس رہی ہو تو وہ بیک وقت ہر قسم کے درختوں کے پھولوں کا رس نہیں چوستی۔ بلکہ وہ یہ کرتی ہے کہ جس پھول کا رس ایک بار لیا ہے، اسی کا رس بار بار لیتی ہے۔ وہ ایک وقت میں ایک ہی نسل کے پھولوں کے درمیان اڑ کر ایک کے بعد ایک کا رس لیتی رہتی ہے۔ p. 145
شہد کی مکھی کا یہ طریقہ زراعت اور باغبانی کے لیے بے حد اہم ہے۔ اس کی وجہ سے وہ ایک مخصوص پھول کے زیرہ کو اسی مخصوص درخت کے پھولوں تک پہنچاتی رہتی ہے۔ پھول چوسنے کے دوران پھول کا زیرہ اس کے جسم سے چپک جاتا ہے۔ جب وہ دوسرے پھول پر جا کر بیٹھتی ہے تو اس کا زیرہ اس پھول پر گر جاتا ہے، اس طرح نر اور مادہ کے درمیان زرخیزی کا عمل انجام پاتا ہے۔ اور ان میں تزویج کا عمل جاری رہتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو تقریباً ایک لاکھ قسم کے پودے زمین سے بالکل ختم ہو جائیں۔ p. 145
یہ واضح طور پر تخلیق کے نظام میں ذہانت ہونے کا ثبوت ہے۔ اس قسم کا بامعنی واقعہ لازمی طور پر ثابت کرتا ہے کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے۔ اگر خالق نہ ہو تو تخلیق کے نظام میں اس قسم کی معنویت ممکن نہیں۔ p. 145