Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
توازن فطرت p. 140
قطب جنوبی(انٹارکٹکا) کے بارے میں روسی جغرافیہ سوسائٹی نے تحقیقات کی ہیں۔ انھوں نے اندازہ لگایا ہے کہ قطب جنوبی کے اوپر جو برف جمی ہوئی ہے وہ دنیا بھر کے تازہ پانی کا 85 فیصد حصہ ہے۔ اس کی مقدار ڈھائی کروڑ مکعب میٹر ہے۔ قطب جنوبی کی برف اس وقت صرف ڈیڑھ کروڑ مربع میٹر کے علاقہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ p. 140
اگر اس برف کو دنیا کے تمام خشک حصہ پر پھیلا دیا جائے تو موجودہ خشک زمین پر 50 میٹر برف جم جائے گی۔ اور اگر یہ برف اچانک پگھل جائے تو دنیا کے سمندروں کی سطح60 سے70 میٹر تک بلند ہو جائے گی۔ اور زمین کا دس فیصد حصہ زیر آب ہو جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا بھر کے تمام ساحلی شہر پانی کے نیچے ڈوب جائیں گے۔ حتیٰ کہ بہت سے ملک پورے کے پورے پانی کے نیچے چلے جائیں گے۔ قطب جنوبی کی تمام برف پگھلنے کی صورت میں سمندر کی اوسط حرارت دو ڈگری کم ہو جائے گی۔ اس کی وجہ سے زمین پر موسمی تباہی آ جائے گی۔ کیوں کہ سمندر میں ایک ڈگری کم ہو جائے گی۔ اس کی وجہ سے زمین پر موسمی تباہی آ جائے گی۔ کیوں کہ سمندر میں ایک ڈگری کے ہزارویں حصہ کی کمی بیشی فضا میں پوری ایک ڈگری کی حرارت کافرق پیدا کرتی ہے۔ p. 140
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین پر جو نظام ہے وہ کس قدر متوازن نظام ہے۔ یہاں بیک وقت مختلف تقاضوں کے درمیان اس طرح توازن قائم رکھا گیا ہے کہ ہر چیز صرف اپنافائدہ دے، وہ اپنے نقصان سے انسان کو بچائے رکھے۔ p. 140
یہ توازن فطرت زمین کے ہر معاملے میں نمایاں ہے۔ یہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس دنیا کے پیچھے ایک ذہن کار فرما ہے۔ اگر یہاں ذہن کی کارفرمائی نہ ہو تو موجودہ توازن کسی حال میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ p. 141
زمین کا مطالعہ کرتے ہوئے واضح طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا جس ہستی نے زمین کے موجودہ حالات کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ اس کو معلوم تھا کہ یہاں جاندار چیزیں (انسان، حیوان، نباتات) ہیں۔ چنانچہ یہاں کی ہر چیز جاندار اشیاء کی ضرورت کے عین مطابق بنائی گئی ہے۔ اگر یہ واقعہ آدمی کو خدا کا یقین نہ دلائے تو آخر وہ کیا چیز ہوگی جو آدمی کو اس کا یقین دلائے گی۔ p. 141