Al-Risala September 2022

دور شکر

Al-Risala September 2022 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (34 chapters)
  1. الرسالہ - September 2022
  2. شکر کا عمل
  3. شکر ایک اعلیٰ عبادت
  4. شکر کی اہمیت
  5. شکر: ایک قربانی کا عمل
  6. شکر سے اضافہ
  7. صبر وشکر
  8. شکر کی تربیت
  9. انسان اور نظامِ ربوبیت
  10. سب کچھ خدا کا عطیہ
  11. شکر کے دو درجے
  12. جذباتِ شکر کی بیداری
  13. شکر کا احساس
  14. اعلیٰ شکر
  15. شکر ِقلیل، شکر ِکثیر
  16. شکر سب سے بڑی عبادت
  17. شکر میں جینا سیکھیے
  18. محرّک شکر
  19. فخر اور شکر
  20. انسان کا اعتراف
  21. دور شکر
  22. شکر، نہ کہ شکایت
  23. اضافۂ ایمان
  24. شکر کا ایک آئٹم
  25. بولنے کی صلاحیت
  26. شکر کی نفسیات میں جینا
  27. شکر اور ناشکری
  28. شکر یاسرکشی
  29. شکر اور سنجیدگی
  30. ناشکری نہیں
  31. دورِسائنس، دور شکر
  32. عالمی شکر
  33. ’’میں خداکا کتنا مقروض ہوں‘‘
  34. شکر کی حقیقت

دور شکر

نومبر 1992 میں میرا ایک سفر ناگپور کے لیے ہوا۔ 8نومبرکو میں نے فجرکی نماز نظام الدین کی سات سو سالہ قدیم کالی مسجد میں پڑھی تھی ۔ پھر ظہرکی نماز میں نے دہلی ایرپورٹ پرپڑھی ، اور عصر کی نماز ناگپور پہنچ کر ادا کی ۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا واقعہ ہے جو ہر روز بہت سے مسلمانوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر جب میں نے غور کیا تو مجھے اس چھوٹے سے واقعہ میں بہت بڑا سبق چھپا ہوا نظر آیا۔ اس کامطلب یہ تھا کہ میں دہلی میں بھی اسلامی عبادت کرنے کے لیے آزاد تھا۔ اسی طرح میں راجدھانی کے ایر پورٹ پر بھی اسلامی عبادت آزادانہ طور پر کر سکتا تھا۔ اور دہلی سے گیارہ سو کیلومیٹر دور ناگپور میں بھی یہ آزادی حاصل تھی کہ میں اطمینان کے ساتھ اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اللہ کی عبادت کروں ۔

پھر اس کا مقابلہ میں نے قدیم مکی دور سے کیا جب کہ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا۔ اس وقت پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کو یہ آزادی حاصل نہ تھی کہ کھلے طور پر وہ نماز ادا کرسکیں۔ حتی کہ نماز باجماعت ادا کرنے کے مواقع بھی اس وقت موجود نہ تھے مگر آج تمام مسلمانوں کو مکمل طور پر دینی آزادی حاصل ہے ۔

یہ واقعہ میرے لیے ایک علامت بن گیا جس میں مجھے اسلام کی تاریخ آگے کی طرف سفر کرتی ہوئی نظر آنے لگی ۔ مجھے دکھائی دیا کہ آج مسلمانوں کی حالت لائق شکر ہے، نہ کہ لائق شکایت ۔ آج ہم اسلام کے حوصلہ افزا مرحلہ میں ہیں، نہ کہ حوصلہ شکن مرحلہ میں ۔

میں نے سوچا کہ جدید تہذیب نے انسانوں (بشمول مسلمان)کے لیے ہر اعتبار سے کتنی زیادہ آسانیاں پیدا کر دی ہیں ۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔موجودہ زمانہ میں جو چیز سب سے زیادہ اٹھ گئی ہے وہ شکر ہے۔ سائنسی دریافت ،صنعتی انفجار، اور مذہبی آزادی کے اس دور میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ انسان ہمیشہ سے زیادہ شکر کرنے والا بن جائے ، مگربرعکس طور پر ایسا ہوا کہ وہ ہمیشہ سے زیادہ ناشکری کرنے و الا بن گیا۔ اس معاملہ میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کا کوئی فرق نہیں ہے۔