Al-Risala September 2022

شکر کا عمل

Al-Risala September 2022 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (34 chapters)
  1. الرسالہ - September 2022
  2. شکر کا عمل
  3. شکر ایک اعلیٰ عبادت
  4. شکر کی اہمیت
  5. شکر: ایک قربانی کا عمل
  6. شکر سے اضافہ
  7. صبر وشکر
  8. شکر کی تربیت
  9. انسان اور نظامِ ربوبیت
  10. سب کچھ خدا کا عطیہ
  11. شکر کے دو درجے
  12. جذباتِ شکر کی بیداری
  13. شکر کا احساس
  14. اعلیٰ شکر
  15. شکر ِقلیل، شکر ِکثیر
  16. شکر سب سے بڑی عبادت
  17. شکر میں جینا سیکھیے
  18. محرّک شکر
  19. فخر اور شکر
  20. انسان کا اعتراف
  21. دور شکر
  22. شکر، نہ کہ شکایت
  23. اضافۂ ایمان
  24. شکر کا ایک آئٹم
  25. بولنے کی صلاحیت
  26. شکر کی نفسیات میں جینا
  27. شکر اور ناشکری
  28. شکر یاسرکشی
  29. شکر اور سنجیدگی
  30. ناشکری نہیں
  31. دورِسائنس، دور شکر
  32. عالمی شکر
  33. ’’میں خداکا کتنا مقروض ہوں‘‘
  34. شکر کی حقیقت

شکر کا عمل

قرآن کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا ہے۔ بسم اللہ کے بعد سب سے پہلی آیت یہ ہےالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔یعنی، شکر ہے خداوندِ عالم کے لیے۔قرآن کی اِس آیت سے شکر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے تمام اعمال میںشکر ہی ایک ایسا عمل ہے، جس کو انسان اپنی نسبت سے اعلیٰ ترین صورت میں کرسکتاہے۔ دوسرے تمام اعمال، مثلاً عبادت اور اخلاق اور معاملات کی ادائیگی میں مختلف اسباب سے کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے۔ لیکن شکر کا تعلق دل اور دماغ سے ہے اور جس چیز کا تعلق دل اور دماغ سے ہو، اُس کے بارے میں یہ ممکن ہوتاہے کہ آدمی اُس کو کامل ترین صورت میں ادا کرسکے۔ یہاں وہ اپنے تمام جذبا ت اور اپنی ساری سوچ کو خدا کے سامنے پیش کرسکتا ہے۔ یہ خصوصیت صرف شکر کو حاصل ہے۔original + quote

شکر کیا ہے، شکر دراصل اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ انسانی معاملات میں جس چیز کو اعتراف کہاجاتاہے، اُسی کا نام خدائی معاملے میں شکر ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ ہر ملی ہوئی چیز اُس کو کامل معنوں میں خدا کا عطیہ دکھائی دے۔ وہ کامل جذبۂ اعتراف کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ خدایا، تیرا شکر ہے۔ خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کا کامل احساس کرکے یہ کہہ پڑنا کہ الحمد للہ ربّ العالمین، یہی شکر ہے اور یہ شکر بلا شبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔

موجودہ دنیا میں وہ چیز بہت بڑے پیمانے پر موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ہر چیز اِس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ کامل طورپر انسان کے لیے موافق اسباب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ انسان جب اِس دنیا میں چلے پھرے اور اس کو استعمال کرے تو وہ شکر اور اعتراف کے جذبے سے سرشار ہو۔ موجودہ دنیا کی تمام قیمتی چیزیں انسان کو سرتاسر مفت میں ملی ہوئی ہیں، سچا شکر ہی اِن چیزوں کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، اُس کی حیثیت اِس دنیا میں غاصب کی ہے، اور غاصب کے لیے بلا شبہ سزا ہے، نہ کہ انعام۔ شکر کے احساس کے بغیر اِس دنیا میں رہنا بلا شبہ ایک ناقابلِ معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔