← back to shukr · Al-Risala September 2017

ایکٹنگ، اَن فولڈنگ

Al-Risala September 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - September 2017
  2. آدم کی سنت
  3. سائنس قرآن کی تفسیر
  4. اللہ کی رؤیت
  5. اسفل سافلین
  6. اجتماعی صبر
  7. قرآن کا مقصد ِنزول
  8. اللہ سے امید
  9. شخصیتِ انسانی
  10. اسلامی حکومت
  11. موت کا ظاہرہ
  12. جنت کا سماج
  13. مادی کائنات، انسانی تاریخ
  14. مشن کی اہمیت
  15. قبولیت میں تاخیر
  16. اللہ کی مدد
  17. مصیبت کا مثبت پہلو
  18. نا انصافی کا مسئلہ
  19. قتال فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ
  20. عمومی تائید کا دور
  21. پیغمبر اسلام کا مشن
  22. قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت
  23. قتل گاہ یا صحت گاہ
  24. انجام کو دیکھ کر
  25. ایکٹنگ، اَن فولڈنگ
  26. خبرنامہ اسلامی مرکز — 253

ایکٹنگ، اَن فولڈنگ

موجودہ زمانہ پروفیشنلزم کا زمانہ ہے۔ دنیا میں بہت سے مواقع کھلے ہوئے ہیں جہاں آدمی اپنے آپ کو اہل ثابت کرکے کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ چناں چہ ہر آدمی اپنی زندگی کے آغاز میں اپنے لیے کوئی پروفیشن طے کرتا ہے، اور اس کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔ اسی کے مطابق تعلیم، اوراسی کے مطابق تربیت، اسی کے مطابق وہ اپنے کیریکٹر کو بناتا ہے۔ تاکہ وہ جب اپنے مطلوب میدان میں داخل ہو تو وہاں اس کو زیادہ سے زیادہ قیمت مل سکے۔

چناں چہ موجودہ زمانےمیں ہر چیز ایک پروفیشن بن چکی ہے۔ ہر ایک کا ایک میدانِ عمل (workplace) ہے، اب اسی کے مطابق ہر آدمی اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔ مثلا لیڈر کا ورک پلیس ووٹر کمیونٹی ہے۔ ایجوکیٹر کا ورک پلیس ایجوکیشنل ادارے ہیں۔ بزنس مین کا ورک پلیس اس کے کسٹمر ہیں، وغیرہ۔ ہر آدمی اپنے آپ کو اپنے منتخب ورک پلیس کے مطابق تیار کرتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مطمئن کرکے اپنے آپ کو کامیاب بناسکے۔

اس پروفیشنل کلچر نے ہر آدمی کو عملاً گویا ایکٹر بنادیا ہے۔ ہر آدمی اپنے آپ کو کسی دوسرے کے لیےتیار کررہا ہے۔ خود اپنی فطری شخصیت کی اَن فولڈنگ (unfolding)ہر ایک کا اصل کام تھا، مگر کوئی نہ اس کام کو جانتا ہے، اور نہ اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرتا ہے۔ خالق نے ہر فرد کو فطری طور پر کچھ صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا پہلا کام یہ ہےکہ وہ اپنے اس فطری امکان (natural potential) کو دریافت کرے، اور اس فطری امکان کو واقعہ بنائے۔

اس اعتبار سے دنیا میں ہر عورت اور مرد کا اصل کام اپنی انفولڈنگ ہے۔ یعنی اپنی فطرت میں چھپے ہوئے امکانات کو واقعہ (actual) بنانا۔آدمی ایکٹر دوسروں کی نسبت سے بنتا ہے، جب کہ انفولڈنگ خود اپنی فطرت کے تقاضے کے مطابق ہوتی ہے۔ اسی لیے پروفیشنلزم کے ذریعہ آدمی دنیوی ترقی کرسکتا ہے، لیکن وہ یقین اور اعتماد کا سرمایہ حاصل نہیں کرسکتا۔