← back to shukr · Al-Risala September 2017

قبولیت میں تاخیر

Al-Risala September 2017 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - September 2017
  2. آدم کی سنت
  3. سائنس قرآن کی تفسیر
  4. اللہ کی رؤیت
  5. اسفل سافلین
  6. اجتماعی صبر
  7. قرآن کا مقصد ِنزول
  8. اللہ سے امید
  9. شخصیتِ انسانی
  10. اسلامی حکومت
  11. موت کا ظاہرہ
  12. جنت کا سماج
  13. مادی کائنات، انسانی تاریخ
  14. مشن کی اہمیت
  15. قبولیت میں تاخیر
  16. اللہ کی مدد
  17. مصیبت کا مثبت پہلو
  18. نا انصافی کا مسئلہ
  19. قتال فی سبیل اللہ، دعوت الی اللہ
  20. عمومی تائید کا دور
  21. پیغمبر اسلام کا مشن
  22. قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت
  23. قتل گاہ یا صحت گاہ
  24. انجام کو دیکھ کر
  25. ایکٹنگ، اَن فولڈنگ
  26. خبرنامہ اسلامی مرکز — 253

قبولیت میں تاخیر

دعا کی قبولیت میں اگر تاخیر ہو تو انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اس میں بڑی حکمت پوشیدہ ہوسکتی ہے۔ اس معاملے میں ایک حدیث قدسی ہے، جو ان الفاظ میں آئی ہے:انَّ العبد إذا دعا ربَّہ، وہو یحبہ قال:یا جبریل:لا تعجَل بقضاء حاجة عبدی، فإنی أحبُّ أن أسمع صوتہ(مسند الحارث)۔یعنی بندہ جب اپنے رب کو پکارے، اور وہ اس کو محبوب ہو، تو اللہ جبریل سے کہتا ہے، اے جبریل ،میرے بندے کی حاجت پورا کرنے میں جلدی نہ کر، کیوں کہ مجھے پسند ہے کہ میں اس کی آواز سنوں۔original + quote

اس سے مراد سادہ طور پر آواز سننا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت بندے میں جو روحانی عمل جاری ہوتا ہے، اللہ چاہتا ہے کہ وہ عمل بندے کے اندر دیر تک جاری رہے۔ اصل یہ ہے کہ تخلیق کے نقشہ (creation plan) کے مطابق، انسان کے اندر ذہنی اور روحانی ارتقا کا عمل معمول کے حالات میں جاری نہیں ہوتا۔ یہ عمل صرف اس وقت جاری ہوتا ہے جب کہ کوئی ایسا واقعہ پیش آئے، جوانسان کے اندرذہنی طوفان (brainstorming) کی حالت پیدا کردے۔جب ایسا ہوتا ہے تو انسانی ذہن کے تمام بند دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کو ایسے تجربات پیش آئیں جو عام حالات میں پیش نہیں آتے۔

یہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے ذہن کا جمود (stagnation) ٹوٹے، اور اس کے اندر تخلیقیت (creativity) کا عمل بیدار ہوجائے۔ وہ منفی سوچ سے باہر آئے، اور چیزوں کو مثبت نظر سے دیکھنے لگے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے، جب کہ اس کے اندر چھپے ہوئے امکانات (potentials) ظاہر ہوجائیں۔ اس کے اندر وہ سوچ پیدا ہوجائےجس کو بلند سوچ (high thinking) کہا جاتا ہے۔ اب تک اگر وہ مین ( man)تھا تو اب وہ سوپر مین (superman) بن جائے۔