Al-Risala October 2020

نبی منتظَر

Al-Risala October 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2020
  2. افضل ایمان
  3. اعلیٰ حمد
  4. توبہ کی اہمیت
  5. ہوم اسکول
  6. قتل خویش
  7. بااصول انسان
  8. رسول سے تعلق
  9. اوَّلیات، تفردات
  10. نبی منتظَر
  11. عیب خوانی، قصیدہ خوانی
  12. تزئین ِشیطان
  13. پیرویٔ اسلام، تنفیذِ اسلام
  14. دجال کون
  15. اسلامی جہاد
  16. تعلیم، قدیم اور جدید
  17. اسپرٹ آف انکوائری
  18. دین کی عصری تفہیم
  19. ایک واقعہ
  20. عورت کا مقام
  21. فیس بک ایک اسٹڈی کلب
  22. مواقع اویل کرنا
  23. مسائل نہیں
  24. شکایت نہیں
  25. سازش کا مسئلہ
  26. ضمیر، ایگو
  27. ایک سینئر سیٹیزن کی زبانی
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز- 273

نبی منتظَر

یہود اپنی کتابوں کی بنیاد پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی منتظَر مانتے تھے، یعنی وہ نبی جو مستقبل میں آنے والا ہے۔ قرآن کی آیت : وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُون (2:89) کے تحت یہاں مفسرین کے حوالے نقل کیے جاتے ہیں۔وکانوا ینتظرون خروج النبیّ (بحر العلوم للسمرقندی، 1/49) کانوا ینتظرون نبیا (تفسیر المنار، 1/315)۔ یعنی وہ نبی کے ظاہر ہونے کا انتظار کررہے تھے۔دوسرے الفاظ میں، یہود کے لیے پیغمبر اسلام کی حیثیت نبی منتظر کی تھی۔ لیکن جب آپ آئے تو یہود نے آپ کو ماننے سے انکار کردیا:فَلَمَّا جَاءَہُمْ مَا عَرَفُوا کَفَرُوا بِہِ (2:89) ۔ یہ بات مخصوص طور پر قوم یہود کی نہیں ہے، بلکہ وہ عمومی معنی میں زوال یافتہ قوم کی نفسیات کو بتاتی ہے۔ اس معاملے میں یہود کا حوالہ ایک مثال کے طور پر ہے، نہ کہ اس معنی میں کہ اس قسم کا واقعہ صرف یہود کے ساتھ پیش آیا، کسی اور کے ساتھ ایسا پیش آنےوالا نہیں۔original + quote

خود مسلمانوں کے بارے میں یہ عین ممکن ہے کہ اپنے دورِ زوال میں وہ اُسی کے منکر ہوجائیں، جس کا وہ انتظار کرر ہے تھے، اور ان کو اس بات کا شعور بھی نہ ہو کہ ان کا یہ انکار قومِ یہود کی اتباع کے ہم معنی ہے۔ اصل یہ ہے کہ زوال یافتہ قوم ہمیشہ فرضی فخر (false pride) میں جینے والی بن جاتی ہے۔ ایسی قوم کے لیے اپنے گروہ کا آدمی تو قابل فہم ہوتا ہے، لیکن آدمی کا تعلق اگر دوسرے گروہ سے ہو تو وہ اپنی پُر فخر قومی نفسیات کی بنا پر اس کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، اور اس بنا پر وہ اس کے منکر بن جاتے ہیں۔ زوال یافتہ قوم چیزوں کو میرٹ (merit) کی نسبت سے نہیں دیکھتی، بلکہ وہ اس کو خود اپنی نسبت سے دیکھتی ہے۔’’اپنی قوم‘‘ کا آدمی چوں کہ ان کے قومی فخر کی تصدیق کرنے والا دکھائی دیتا ہے، اس لیے وہ اس کو مان لیتے ہیں۔ لیکن دوسرے گروہ کا آدمی ان کو” غیر قوم“ کا آدمی دکھائی دیتاہے، جو ان کی قومی فخر کی تصدیق نہیں کرتا ۔ اس لیے وہ اس کا انکار کردیتے ہیں۔ اس طرح اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر وہ لوگوںکو دو گروہوں میں بانٹ دیتے ہیں— غیر قوم کا آدمی اور اپنی قوم کا آدمی۔