Al-Risala October 2020

افضل ایمان

Al-Risala October 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (28 chapters)
  1. الرسالہ - October 2020
  2. افضل ایمان
  3. اعلیٰ حمد
  4. توبہ کی اہمیت
  5. ہوم اسکول
  6. قتل خویش
  7. بااصول انسان
  8. رسول سے تعلق
  9. اوَّلیات، تفردات
  10. نبی منتظَر
  11. عیب خوانی، قصیدہ خوانی
  12. تزئین ِشیطان
  13. پیرویٔ اسلام، تنفیذِ اسلام
  14. دجال کون
  15. اسلامی جہاد
  16. تعلیم، قدیم اور جدید
  17. اسپرٹ آف انکوائری
  18. دین کی عصری تفہیم
  19. ایک واقعہ
  20. عورت کا مقام
  21. فیس بک ایک اسٹڈی کلب
  22. مواقع اویل کرنا
  23. مسائل نہیں
  24. شکایت نہیں
  25. سازش کا مسئلہ
  26. ضمیر، ایگو
  27. ایک سینئر سیٹیزن کی زبانی
  28. خبرنامہ اسلامی مرکز- 273

افضل ایمان

عبد الرحمن ابن سابط (وفات 118ھ) تابعی ہیں۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہےعَنِ ابْنِ سَابِطٍ، رِوَایَةً قَالَ:أَفْضَلُکُمْ إِیمَانًا أَفْضَلُکُمْ مَعْرِفَةً(الایمان للعدنی، اثر نمبر70)۔ یعنی ابن سابط کہتے ہیں کہ تم میں سے جو ایمان میں افضل ہے، وہ تم میں سے معرفت میں افضل ہے۔ خدا کی معرفت اہل ایمان کے لیے سب سے اہم ہے۔ کیوں کہ معرفت سے انسان کی خدا کے ساتھ انسیت (nearness) بڑھتی ہے، اور خدا اور بندے کے درمیان اجنبیت کا خاتمہ ہوتا ہے۔خدا سے اجنبیت خدا سے دوری کا سبب ہوتی ہے، اور خدا کی معرفت خدا سے قربت کا سبب ہے۔original + quote

معرفت کسی انسان کے اندر کیسے آتی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کو براہ راست اس دنیا میں دیکھنا ممکن نہیں ۔ خدا کو بالواسطہ طور پر اس کی تخلیق کے ذریعے پہچانا جاسکتا ہے۔ معرفت کائناتی نشانیوں میں تدبر و تفکر کے ذریعے اندرونی پکار کا جواب پانے کا نام ہے۔ یعنی یہ کہ آپ کے ذہن میں وہ سوال پیدا ہو جو ہر انسان کے ذہن میں فطری طور پر پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً میں کون ہوں، میں اس دنیا میں کیوں آیا ہوں۔ مجھے اس دنیا میں کون لایا ہے۔ اس دنیا کو کون چلا رہا ہے۔ کون مجھے کسٹم میڈ طریقے سے ہر چیز مہیا کررہا ہے،وغیرہ۔ انسان کے ذہن میں پیدا ہونے والے اس قسم کے سوالات کا سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کون ہستی ہے، جو ہمیں اور اس کائنات کو چلارہی ہے۔ ہم اس کو کیسے جان سکتے ہیں۔ یعنی کون میرا خالق ہے، اور اس سے ہم کیسے مل سکتے ہیں۔

یہی معرفت کی پہلی سیڑھی ہے۔ قرآن میں سچائی کے متلاشی (seeker of truth)کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ کائنات میں تدبر و تفکر کرکے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں (آل عمران، 3:190-194)۔ سچے ایمان والے کے اندر پہلی چیز جو آتی ہے، وہ اللہ رب العالمین کی معرفت ہے۔ اس کے بعد معرفت کےنتیجے میں بہت سی دوسری چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے تقویٰ، سنجیدگی (sincerity)، تواضع(modesty)، وغیرہ۔original + quote