Al-Risala October 2015

بڑا کام

Al-Risala October 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (37 chapters)
  1. الرسالہ - October 2015
  2. عید اضحی کا پیغام
  3. تاریخ ساز قربانی
  4. حج بیت اللہ کے بعد
  5. قرآن کا ترجمہ
  6. اچانک موت
  7. جنت کی دنیا
  8. تفکیر، مفکر
  9. مصائب کی حکمت
  10. مثلِ قرآن ممکن نہیں
  11. صحیح مگر غلط
  12. کوئی چیز ملکیت نہیں
  13. ربط کے بغیر ملاقات
  14. سیاسی ظلم نہیں
  15. تاریخ کا نیا دور
  16. صبر کا انعام
  17. پاکستانی ڈائسپورا
  18. دنیا کی حقیقت
  19. اللہ کی انگلیوں کے درمیان
  20. بلا استحقاق عطیہ
  21. بڑا کام
  22. عدم اعتراف
  23. بیانیہ اسلوب، تجزیاتی اسلوب
  24. بلاشرط ساتھ دینا
  25. دین اور اسٹیٹ
  26. حکمت کا اصول
  27. حروفِ مقطعات
  28. شخصیت کی تعمیر
  29. جنت اورجہنم
  30. خبر کی تحقیق ضروری
  31. سوانح عمری
  32. خالق کی کاملیت
  33. سادگی کی اہمیت
  34. سوچنے کا طریقہ
  35. امیج بلڈنگ
  36. سوال و جواب
  37. خبرنامہ اسلامی مرکز— 238

بڑا کام

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تواضع للہ درجة رفعہ اللہ درجة، حتى یجعلہ فی علیین، ومن تکبر على اللہ درجة، وضعہ اللہ درجة، حتى یجعلہ فی أسفل السافلین (مسند احمد، حدیث نمبر11724)۔یعنی جس نے اللہ کے لیے تواضع اختیار کی ایک درجہ تو اللہ اس کو ایک درجہ بلند کرتاہے ، یہاں تک کہ اس کو علیین میں پہنچا دیتا ہے۔ اورجس نے اللہ کے مقابلے میں کبر کی روش اختیار کی ایک درجہ تو اس کو اللہ ایک درجہ نیچے کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیتا ہے۔original + quote

یہ کو ئی پر اسرار بات نہیں بلکہ وہ اس دنیا کے لیےاللہ کا ایک مقرر کردہ فطرت کا قانون ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص تواضع (modesty) کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر وہ اوصاف پیدا ہونے لگتے ہیں جو کہ بڑا کام کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی بڑا کام انجام دے۔ لیکن بڑا کام انجام دینے کے لیے ہمیشہ اعلی صفات درکار ہوتی ہیں۔ جس کو قرآن میں خُلْق عظیم (68:4) کہا گیاہے۔ خُلْق عظیم سے مراد اعلی اخلاق (sublime character)ہے۔اعلی اخلاق کے بغیر کوئی شخص کوئی بڑا کام نہیں کرسکتا۔original + quote

فطرت کے قانون کے مطابق ایسے انسان کو ہر قسم کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس کبر پسند انسان اللہ کا غیر مطلوب انسان ہے۔ایسے انسان کو اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ اس کا ساتھی شیطان بن جاتا ہے۔ اور جس انسان کا ساتھی شیطان بن جائےاس کے لیے خدا کی دنیا میں ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ اور مقدرنہیں۔لوگ عام طور پر اپنی ذات میں جیتے ہیں، ایسے لوگ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ بڑا کام کرنے والا وہ شخص ہے جو اپنی ذات کے باہر جینے والا بن گیا ہو، جو دینے والا بن کر جیے، نہ کہ صرف لینے والابن کر۔