Al-Risala October 2014

ہیرا

Al-Risala October 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - October 2014
  2. عید ِ اضحی کا پیغام
  3. حج: ایک انتباہ
  4. اللہ اکبر، اللہ اکبر
  5. اخلاص کیا ہے
  6. نشانی عقل والوں کے لیے
  7. خدا کا تصور
  8. اجماع، رائے جمہور
  9. کامیاب انسانوں کی ناکامی
  10. ہیرا
  11. فقہی معاملے میں توسع
  12. تخلیق آدم
  13. ڈسکوری، ری ڈسکوری
  14. پرمسرت زندگی کا راز
  15. جوہر شناسی
  16. زندگی اور موت
  17. تنبیہہِ خداوندی یاظلمِ انسانی
  18. بڑھاپے سے سبق لینا
  19. توبہ قریب
  20. روح القدس کا تصور
  21. اختلاف کا مسئلہ
  22. فیملی کلچر کا نقصان
  23. سکینہ، فتح
  24. قریش کلچر
  25. اپنی حد کو جانیے
  26. موت کا تجربہ
  27. خاندان کی اہمیت
  28. جانچ کا معیار
  29. چھ بینگ
  30. ایک انسانی کمزوری
  31. اسلامی تعلیمات کے دو حصے
  32. غصہ کا مثبت پہلو
  33. تکاثر سے قبر تک
  34. دلیل یا شوشہ
  35. ہلاکت کیا ہے
  36. تلاوت کا فائدہ
  37. فکری اعتدال
  38. توازن یا ترجیح
  39. تہذیب یا دعوت
  40. ایک اہم کتاب
  41. خبر نامہ اسلامی مرکز — 228

ہیرا

ہیرا (diamond) سب سے زیادہ قیمتی دھات ہے- ہیرا خالص کاربن ہوتا ہے- اس میں وہی بنیادی اجزا ہوتے ہیں جو کوئلے میں پائے جاتے ہیں- قدرتی ہیرا تیار ہونے میں کئی سو سال لگتے ہیں- ہیرا جب نکالا جاتا ہے تو وہ ایک کھردری معدنیات کے مشابہ ہوتا ہے- تراش خراش کے بعد وہ قیمتی ہیرے کی شکل میں بن کر تیار ہوتاہے- نگینہ بنانے میں عام طور پر 35 سے 60 فی صد حصہ صاف کرنے میں کاٹ دیا جاتا ہے- (روزنامہ منصف، حیدرآباد، دکن، 11 جون 2013)

جو ہیرے کامعاملہ ہے، وہی فطرت کے مطابق، انسان کا معاملہ بھی ہے- ہیرے کی طرح انسان بھی ایک پوٹنشل کے روپ میں پیدا ہوتا ہے- اِس پوٹنشل کو ایکچول بنانا انسان کا اپنا کام ہے۔ جو شخص اِس راز کو جانے اور اپنے امکان کو واقعہ بنانے کی کوشش کرے، وہی ’ہیرا انسان‘ ہے- اور جو آدمی ایسا نہ کرسکے، اس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ہیرے کے ٹکڑے کو کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے-

ہر انسان کے اندر ایک امکانی شخصیت ہوتی ہے- یہ شخصیت کسی انسان کو فطرت کی طرف سے عطا کی جاتی ہے- اِس شخصیت کا ارتقا اپنے آپ نہیں ہوسکتا- یہ کام آدمی کو خود کرنا ہے- یہی آدمی کا اصل امتحان ہے- بعض انسانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیلف میڈ مین (self-made man) تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان کا کیس یہی ہے-original + quote

ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اُس شخصیت (personality) کو دریافت کرے جو فطرت کی طرف سے اُس کو ملی ہے- یہ شخصیت گویا ایک ناتراشیدہ ہیرا ہے- ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اِس ناتراشیدہ انسان کو دریافت کرے اور پھر دانش مندانہ منصوبے کے ذریعے وہ اِس ناتراشیدہ ہیرے کو تراشیدہ ہیرا بنائے- جو شخص اِس عمل میں ناکام رہے، اس کے لیے نہ دنیا میں کوئی جگہ ہے اور نہ آخرت میں کوئی جگہ-