Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
خدا کا تصور
سیکولر فکر رکھنے والے متعدد اہلِ علم نے یہ بات کہی ہے کہ خدا کا کوئی حقیقی وجود نہیں، وہ انسانی ذہن کی تخلیق ہے — خدا، انسان کی ایک عظیم ایجاد ہے:other source
God is a great invention by man
یہ صرف ایک ورڈ پلے (word play) ہے- زیادہ درست بات یہ ہے کہ اِس طرح کہاجائے کہ — انسان، خدا کی ایک عظیم تخلیق ہے:
Man is a great creation by God
خدا کے وجود کے بارے میں میں علمی غوروفکر سب سے پہلے فلسفہ میں شروع ہوا- فلسفہ اِس معاملے میں کسی حتمی انجام تک نہ پہنچ سکا- گلیلیو اور نیوٹن کے بعد غوروفکر کا سائنسی انداز شروع ہوا- سائنس کا موضوع اگرچہ خالق نہیں تھا، بلکہ اس کے اپنے الفاظ میں، نیچر(nature) تھا- مگر نیچر کیا ہے- نیچر تخلیق کا دوسرا نام ہے- گویا سائنس کا موضوع ہے — خالق کے حوالے کے بغیر مخلوق کا مطالعہ کرنا- سائنسی مطالعے میں پہلے، نیوٹن کے زمانے میں، یہ مان لیا گیا تھا کہ دنیا ایک میکانکل ڈزائن (mechanical design) ہے- اس کے بعد ردر فورڈ (Ernest Rutherford) کے زمانے میں معلوم ہوا کہ دنیا ایک میننگ فل ڈزائن (meaningful design)ہے- اِس کے بعد فریڈ ہائل (Fred Hoyle) کا زمانہ آیا، جب کہ یہ دریافت ہواکہ دنیا ایک انٹیلجنٹ ڈزائن (intelligent design) ہے-unverified
اِن دریافتوں کو سامنے رکھ کر غور کیاجائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا کا وجود علمی طورپر دریافت ہوچکا ہے- اب سارا معاملہ صرف تسمیہ (nomenclature) کا ہے، یعنی یہ کہ اِس دریافت شدہ حقیقت کا نام کیا ہو- فلسفیوں نے اِ س حقیقت کو ورلڈ اسپرٹ (world spirit) کہا تھا- سائنس اِس کو انٹیلجنٹ ڈزائن کہہ رہی ہے- اہلِ مذہب کی زبان میں اِسی حقیقت کا نام خدا (God) ہے-سائنس نے صرف تخلیق کو دریافت کیا، لیکن تخلیق کے دریافت کے ساتھ ہی خالق اپنے آپ دریافت ہوجاتا ہے-original + quote