Al-Risala November 2014

ذہنی ارتقا

Al-Risala November 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - November 2014
  2. اِزدیادِ ایمان
  3. کشمیر بیداری
  4. تسخیری عبادت، عارفانہ عبادت
  5. جنت اور انسان
  6. ایک حدیث
  7. وِلاء — بَراء
  8. سبیل ُ اللہ سے انحراف
  9. جہاد وقتال
  10. قرآن سے تعلق
  11. دنیا، آخرت
  12. عمر بن عبد العزیز
  13. دعوت کا ایک موقع
  14. مغرب کا ایجنڈا
  15. دورِ جدید کا مسئلہ
  16. صحبت ِ رسول
  17. فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت
  18. پیغمبرانہ ماڈل، تاریخی ماڈل
  19. امن پر مبنی ایمپائر
  20. مساوات
  21. صبر کیا ہے
  22. کامل انسان
  23. مسلمانوں کے قومی تقاضے
  24. دعوت الی اللہ
  25. مذہبی انتہا پسندی
  26. سارا جہاں ہمارا
  27. پروموشن کی خبر
  28. ذہنی ارتقا
  29. تلوار بطور تمثیل
  30. شکایت بے جا
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز— 229

ذہنی ارتقا

اسلام میں سب سے زیادہ مطلوب چیز فرد کا تزکیہ ہے، یعنی ربانی تصورِ حیات کے مطابق، ذہنی ارتقا۔ کسی صاحبِ عقیدہ کے اندر جو اعلی صفات مطلوب ہیں، اُن کا اصل ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ علمی اعتبار سے، ذہنی ارتقا کا ذریعہ قرآن وحدیث کا مطالعہ ہے۔ کوئی آدمی جتنا زیادہ مطالعہ کرے گا، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر وہ علمی بنیاد پائی جائے گی جو تزکیہ کے عمل کے لیے ضروری ہے-

لیکن تزکیہ یا ذہنی ارتقا کے لیے ایک اور چیز مطلوب ہے۔ اس کو نفسیاتی بنیاد کہاجاسکتا ہے۔ اِس نفسیاتی بنیاد کو علماء نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: الإیمان بین الرجاء والخوف - یعنی ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ مومن ہمیشہ ایک قسم کے شک (suspicion) کی حالت میں جیتا ہے۔ کبھی وہ اللہ کی رحمت کو یاد کرکے یقین کا تجربہ کرتا ہے اور کبھی وہ اپنی کوتاہیوں کو سوچ کر شبہہ کی حالت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ ایمانی کیفیت اتنی زیادہ عام ہے کہ صحابہ کا بھی اِس معاملے میں استثنا نہیں-original + quote

ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ فطرت کے نقشے کے مطابق، یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے آدمی کا ذہنی ارتقا مسلسل طورپر جاری رہے۔ شبہہ کی یہ حالت دراصل ایک قسم کا ذہنی شاک (intellectual shock) ہے، اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر ذہنی ترقی صرف شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کے ذریعہ ہوتی ہے-original + quote

اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) پر کھڑا ہو۔ اور خود دریافت کردہ حقیقت کے حصول کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان کے اندر مسلسل طورپر سوچ کا عمل (thinking process) جاری رہے۔ اعلىٰ علم و معرفت کے حصول کے لیے ’’میں نہیں جانتا‘‘ کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ ’’میں جانتا ہوں‘‘ کی نفسیات-