Al-Risala November 2014

امن پر مبنی ایمپائر

Al-Risala November 2014 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - November 2014
  2. اِزدیادِ ایمان
  3. کشمیر بیداری
  4. تسخیری عبادت، عارفانہ عبادت
  5. جنت اور انسان
  6. ایک حدیث
  7. وِلاء — بَراء
  8. سبیل ُ اللہ سے انحراف
  9. جہاد وقتال
  10. قرآن سے تعلق
  11. دنیا، آخرت
  12. عمر بن عبد العزیز
  13. دعوت کا ایک موقع
  14. مغرب کا ایجنڈا
  15. دورِ جدید کا مسئلہ
  16. صحبت ِ رسول
  17. فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت
  18. پیغمبرانہ ماڈل، تاریخی ماڈل
  19. امن پر مبنی ایمپائر
  20. مساوات
  21. صبر کیا ہے
  22. کامل انسان
  23. مسلمانوں کے قومی تقاضے
  24. دعوت الی اللہ
  25. مذہبی انتہا پسندی
  26. سارا جہاں ہمارا
  27. پروموشن کی خبر
  28. ذہنی ارتقا
  29. تلوار بطور تمثیل
  30. شکایت بے جا
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز— 229

امن پر مبنی ایمپائر

قدیم زمانے میں ایمپائر کی ایک ہی معلوم قسم تھی، اور وہ سیاسی ایمپائر (political empire) ہے- موجودہ زمانے میں سیاست کا ڈی سنٹرلائزیشن (decentralization) ہوا ہے- موجودہ زمانے میں ایسے نئے مواقع کھل گئے ہیں جنھوں نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ غیر سیاسی میدانوں میں بڑے بڑے ایمپائر قائم کئے جاسکیں- مثلاً ایجوکیشن کا میدان، صنعت کا میدان، دعوت کا میدان، وغیرہ-

عجیب بات ہے کہ بظاہر اِن نئے مواقع سے مذہبی لوگ بھی بے خبر ہیں اور سیکولر لوگ بھی- اِسی بے خبری کا یہ نتیجہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سیکولر گروپ بھی تشدد میں مشغول ہے، اور مذہبی گروپ بھی- اگر یہ لوگ جانتے کہ موجودہ زمانے میں تشدد صرف تباہی کا ذریعہ ہے، اب تشدد کے ذریعہ کوئی تعمیری نتیجہ پیدا نہیں کیا جاسکتا، اگر وہ ایسا جانتے تو یقینی طورپر ان کی منصوبہ بندی مختلف ہوتی- وہ پرامن طریقے کو اختیار کرکے ایسی کامیابی حاصل کرلیتے جو تشدد کے ذریعے ہرگز ممکن نہیں-

یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ تشدد کے ذریعے صرف منفی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں، نہ کہ مثبت نتائج- تشدد کے ذریعے تخریب ہوسکتی ہے، مگر تشدد کے ذریعے کسی بھی تعمیری کام کو انجام نہیں دیا جاسکتا- موجودہ زمانے کے مسلمان لمبی مدت سے مختلف ملکوں میں پُرتشدد تحریکیں چلارہے ہیں، مگر یہ متشددانہ تحریکیں مسلمانوں کو کسی مثبت انجام تک نہ پہنچا سکیں-

حقیقت یہ ہے کہ تشدد کا طریقہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے- انسانی سماج سے باہر فطرت کی جو دنیا ہے، اس میں وسیع پیمانے پر سرگرمیاں جاری ہیں، مگر فطرت کے عالمی نظام میں کہیں بھی تشدد نظر نہیں آتا- تشدد صرف انسانی دنیا میں ہے، وہ فطرت کی دنیا میں موجود نہیں- انسان پر لازم ہے کہ وہ تشدد کا طریقہ چھوڑ دے، کیوںکہ فطرت کی دنیا میں صرف فطرت کا اختیار کیا ہوا پرامن طریقہ ہی نتیجہ خیز ہوسکتاہے- فطرت کے خلاف جو طریقہ اختیار کیا جائے، اس کے لیے اِس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں-