← back to sabr · Al-Risala May 2022

صبر کا فائدہ

Al-Risala May 2022 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (29 chapters)
  1. الرسالہ - May 2022
  2. عید الاضحی اسپرٹ
  3. عمرہ کا سبق
  4. رَمی جمار کا سبق
  5. حج بدل کا مسئلہ
  6. آیتِ امید
  7. خدا امید کا خزانہ
  8. آدم اور ابلیس کا سبق
  9. وقت کا ضیاع
  10. وقت کی اہمیت
  11. کمزور پوائنٹ
  12. اچھی اولاد
  13. دور کو جانیے
  14. دور ِ مواقع
  15. صبر کا فائدہ
  16. پولیٹکل ایکٹوزم، دعوہ ایکٹوزم
  17. دورِ جدید
  18. آج کا نوجوان
  19. اظہارِ آیات کا دور
  20. دورِ حاضر کی تفسیر
  21. واضح تقریر یا تحریر
  22. حکمت کا طریقہ
  23. —————
  24. ڈائری 1986
  25. آغاز کے بغیر
  26. اسلام کا فکری انقلاب دیگر ادیان پر آج بھی غالب ہے
  27. جنت کا شوق
  28. بیماری معرفت کا ذریعہ
  29. خبرنامہ اسلامی مرکز- 276

صبر کا فائدہ

قرآن کی ایک آیت یہ ہےوَجَعَلۡنَا بَعۡضَکُمۡ لِبَعۡضٖ فِتۡنَةً أَتَصۡبِرُونَ(25:20)۔ یعنی، اور ہم نے تم کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرتے ہو۔دوسرے الفاظ میں، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ناپسندیدہ صورتِ حال پیش آنے پر اپنے جذبات پر کنٹرول رکھو تاکہ تمھارے لیےمواقع کواویل کرنا ممکن ہو ۔ جذبات سے مغلوب ہوکر عمل کرنے کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی ہوتا ہے، اور جذبات کو قابو میں رکھ کر عمل کرنے کا نتیجہ ہمیشہ کامیابی۔ ابن عباس نے اس آیت کی تفسیراس طرح کی ہے میں نے تم سب کو ایک دوسرے کےلیے آزمائش بنایا ہے تاکہ تم جو بھی ناپسندیدہ بات سنو،یا اختلاف دیکھو تو صبر کرو (لِتَصْبِرُوا عَلَى مَا تَسْمَعُونَ مِنْہُمْ وَتَرَوْنَ مِنْ خِلَافِہِمِ)، اور درست راستہ اختیار کرو ( تفسیر البغوی، جلد6، صفحہ77)۔original + quote

اصل یہ ہے کہ منصوبۂ تخلیق کے مطابق،موجودہ دنیا میں ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ اِس بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے مصالح کے تحت اقدامات کرتا ہے۔ یہ اقدام مکمل معنوں میں دوسروں کےمطابق نہیں رہتا۔ بظاہراس کا کچھ حصہ آپ خلاف ہوگا تو کچھ آپ کے موافق ہوگا۔ اِس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہی ہے کہ یہاں کسی شخص یا گروہ کو جزئی مواقع (partial opportunities) ملیں، کسی کو بھی یہاں کلّی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اِس لیے دانش مندی یہ ہے کہ ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے اور موافق پہلوؤں کو دریافت کرکے اُنھیں استعمال کیا جائے۔

یہ حقیقت ایک حدیثِ رسول سے مزید واضح ہوتی ہےإِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیُؤَیِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا ہمْ مِنْ أَہلِہِ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔یعنی اللہ اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔اِس حدیث میں بتایا گیا ہےکہ ایک انسان ، جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیےا قدام کرتا ہے۔ اِس اقدام کا مقصد اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنا ہوتاہے۔ لیکن اِسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ایک نئی صورت حال پیداہوتی ہے۔ یہ نئی صورت حال نئے مواقع کھولتی ہے۔ اگر اہل اسلام مذکورہ انسان کے مذہب اور فکر کو نظر انداز کریں تو وہ نئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے دین اور دنیا دونوں کی تائید کا کام لے سکتے ہیں۔original + quote