← back to sabr · Al-Risala March 2022

برائی اور بھلائی

Al-Risala March 2022 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (41 chapters)
  1. الرسالہ - March 2022
  2. روزہ اللہ کے لیے
  3. روزہ اسپرٹ
  4. قرآن کا مطالعہ
  5. قرآن فہمی کی کلید
  6. قرآن کا آسان ہونا
  7. اسٹریس مینجمنٹ
  8. اکثریت پر اقلیت کاغلبہ
  9. برائی اور بھلائی
  10. یقین واعتماد
  11. سبق لینے والے
  12. سازش بے اثر
  13. حالات یکساں نہیں رہتے
  14. رمضان کا روزہ
  15. کائنات معرفت کاخزانہ
  16. خواہش کے خلاف
  17. دوررس کلام
  18. ٹائم مینجمنٹ
  19. صلح بہتر ہے
  20. انتہاپسندی نہیں
  21. سچائی کی دریافت
  22. عید مبارک
  23. زمین میں فساد نہیں
  24. اعراض کاطریقہ
  25. انتظار کی پالیسی
  26. قوموں کاعروج وزوال
  27. استحکام کاراز
  28. شکر سے اضافہ
  29. فضول خرچی نہیں
  30. انسانی علم کی محدودیت
  31. ملاقات کا صحیح طریقہ
  32. ٹکرائو سے اعراض
  33. کامیاب قیادت کا راز
  34. غصہ پی جانا
  35. مشورہ مفید ہے
  36. دعوت یعنی انسانی خیر خواہی
  37. سی پی ایس کا مقصد
  38. اعتکاف
  39. آتش فشاں کا سبق
  40. ٹوئٹر کا سی ای او
  41. خبرنامہ اسلامی مرکز- 275

برائی اور بھلائی

قرآن میں زندگی کا ایک قانون بتایا گیا ہے ۔ اس قانون کا تعلق ہر فرد سے ہے، مرد سے بھی اور عورت سے بھی ۔ عام انسان سے بھی اور خاص انسان سے بھی ۔ا س سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہےإِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذَلِکَ ذِکْرَى لِلذَّاکِرِینَ ( 11:114) یعنی، بے شک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو۔ یہ یاددہانی ہے یاددہانی حاصل کرنے والوں کے لیے۔original + quote

انسان پتھرنہیں ہے ۔ انسان سے مختلف قسم کی غلطیاں پیش آتی ہیں۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک مرد یا ایک عورت سے ایک واقعہ سرزد ہوگیا۔ بعد کو انہیں احساس ہوا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس غلطی کی تلافی کس طرح کی جائے ۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں غلطی کی تلافی کے اسی اصول کو بتایا گیا ہے۔original + quote

آدمی جب کوئی غلطی کرتاہے تو اس کا سب سے پہلا اثریہ ہوتا ہے کہ اس کے دل کے اندر اچھے اور برے کے بارے میں حسّاسیت(sensitivity) کم ہوجاتی ہے ۔ اور اگر آدمی بار بار وہی برائی کرتا رہے تو اس کی حساسیت پوری طرح ختم ہوجائے گی ۔ جب کہ یہی حساسیت برائی کے خلاف سب سے بڑا چِک (check)ہے۔ ایسی حالت میں حساسیت کاختم ہونا انسان کا گویا حیوان بن جانا ہے۔ اس مسئلہ کاحل صرف یہ ہے کہ آدمی برائی کرنے کے بعد بھلائی کرے۔ وہ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرے۔ وہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ وہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ جو آدمی ایسا کرے وہ اپنے د ل کو دوبارہ پاک کرلے گا۔ اس کے دل کی حساسیت دوبارہ اس کی طرف لوٹ آئے گی۔

برائی کا دوسرااثر وہ ہے جس کا تعلق سماج سے ہے۔ سماج کے ایک فرد کا برائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے پر سکون پانی میں پتھر پھینکنا ۔ چنانچہ ایک فرد کا برائی کرنا پورے سماج کومتاثر کرنے کا سبب بن جاتا ہے ۔ا یسی حالت میں اپنی برائی کی تلافی کرنا گویا پورے سماج کو بگاڑ سے بچانا ہے۔ یہ فرد کے اوپر ایک سماجی فرض ہے کہ وہ اپنی برائی کے انجام سے سماج کو بچائے۔