Al-Risala March 2013

مذہبی میک اپ

Al-Risala March 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (20 chapters)
  1. الرسالہ - March 2013
  2. پیغمبر کا نمونہ
  3. ایمان سپورٹ سسٹم
  4. ازدواجی زندگی
  5. دو اخلاقی معیار
  6. دورِ زوال کے عبادت خانے
  7. مذہبی میک اپ
  8. امتِ مسلمہ کی تاریخ
  9. کنزیومرازم کا دور
  10. غیر اسلامی طریقہ
  11. احیاءِ ملت
  12. معرفت کا سفر
  13. مسلم نوجوان
  14. فکر ِ مغرب
  15. کامیابی کا طریقہ
  16. شکایت کا سبب
  17. مصالحت کا فائدہ
  18. مانعِ جرم سزا کی ضرورت
  19. سوال وجواب
  20. خبرنامہ اسلامی مرکز— 221

مذہبی میک اپ

زوال کے زمانے میں یہود ونصاری کے درمیان جو نئی چیزیں پیداہوئیں، اُن میں سے ایک چیز وہ تھی جس کو مذہبی میک اپ (religious makeup) کہاجاسکتاہے- زوال کے زمانے میں اُن کے شیوخ اور علما نے اپنے لیے خصوصی لباس تیار کرائے، تاکہ وہ دوسروں سے ممتاز نظر آئیں-

زوال کے زمانے میں یہ شیوخ اور علما داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے خالی ہوچکے تھے، چناں چہ اب وہ خصوصی لباس کے ذریعے عوام کے سامنے آنے لگے- یہ گویا ظاہری اضافے کے ذریعے داخلی کمی کی تلافی کرنا تھا-

مذہبی میک اپ کا یہ معاملہ معروف معنوں میں، صرف قدیم یہود ونصاری کے ساتھ خاص نہیں- امتِ مسلمہ کے دورِ زوال میں امت کے مذہبی لوگوں کا حال بھی یہی ہوتاہے- وہ مذہبی لباس کے معاملے میں بھی یہود ونصاری کی مضاہاة (9:31) کرنے لگتے ہیں- وہ جب عوامی مجلس میں آتے ہیں تو وہ مذہبی میک اپ کے ذریعے اپنا ایسا بھیس بناتے ہیں کہ اندر سے کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی باہر سے وہ لوگوں کو بہت زیادہ دکھائی دیں-original + quote

اصل یہ ہے کہ کسی امت پر جب زوال آتا ہے تو وہ اُس وقت آتاہے جب کہ امت اپنی تعداد کے اعتبار سے اتنی بڑی ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ دنیوی اعتبار سے ایک پوری مارکیٹ بن جاتی ہے- اُس وقت یہ ممکن ہوجاتاہے کہ اگر امت کے شیوخ اور علما لوگوں کے سامنے مذہبی بھیس میںآئیں تو ان کو بہت بڑے بڑے دنیوی فائدے ہوسکتے ہیں- اُس وقت امت میں وہ چیز ظاہر ہوتی ہے جس کو مذہبی پروفیشنل ازم (religious professionalism) کہا جاسکتاہے- زوال کے اِس دور میں علما اور شیوخ کے درمیان ایک ایسا مذہبی کلچر وجود میں آتاہے جس کے ذریعے ہر قسم کے مادّی فائدے حاصل کیے جاسکیں- یہی وہ وقت ہوتاہے جب کہ اُن کے درمیان وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو ہم نے ’’مذہبی میک اپ‘‘ (religious makeup)کہا ہے-