← back to shukr · Al-Risala March 2011

مطالباتی سیاست کا نقصان

Al-Risala March 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - March 2011
  2. اللہ سے محبت
  3. جنت کا استحقاق
  4. ہدایت اورضلالت
  5. سب سے بڑی یقین دہانی
  6. گروہی ہدایت
  7. تدبر قرآن
  8. مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ
  9. قومی مذہب
  10. قرآن فاتحِ عالم
  11. جہاد کیا ہے
  12. ابنِ تیمیہ کا موقف
  13. احیاءِ اسلام
  14. مسلم تاریخ کے تین دور
  15. امتِ محمدی کی ذمے داری
  16. دعوت، دعا
  17. مطالباتی سیاست کا نقصان
  18. غیر ِ خدا میں جینا
  19. رزرویشن کے بغیر
  20. ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ
  21. اتباعِ یہود کا کیس
  22. حق کی تلاش
  23. افرادِ کار کی تیاری
  24. شتمِ رسول کا مسئلہ
  25. تحفظِ نبوت، تحفظِ کارِ نبوت
  26. اعتماد کی اہمیت
  27. کھونے میں پانا
  28. صحیح مشورہ، غلط مشورہ
  29. ایک عام کمزوری
  30. سوال وجواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز — 209

مطالباتی سیاست کا نقصان

پچھلے سو سال کے درمیان مسلمانوں نے مختلف ملکوںمیں بہت سی سیاسی تحریکیں چلائیں۔ اِن تمام تحریکوں کو اگرایک نام دینا ہو تو وہ یہ ہوگا — مطالباتی سیاست، یعنی اپنے حقوق (rights) کو حاصل کرنے کے لیے مطالبہ (demand) اور احتجاج (protest) کی بنیاد پر عوامی تحریکیں چلانا، خواہ پر امن انداز میں یا تشدد کے انداز میں۔ اِن مطالباتی تحریکوں سے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو کوئی مثبت فائدہ نہیں ہوا، البتہ اِس کے نتیجے میں اُن کو ایسے نقصانات ہوئے جن کی تلافی بظاہر ممکن نہیں۔

مطالباتی سیاست، فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اِس دنیا میںکسی فرد یا قوم کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف استحقاق (deservation) کی بنیاد پر ملتا ہے۔ مطالبہ اور شکایت اور احتجاج جیسی تحریکوں کے ذریعے اِس دنیا میں کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ اِس قسم کی کوئی تحریک صرف اپنے نقصان میں اضافہ کے ہم معنی ہے، نہ کہ نقصان کو دور کرنے کے ہم معنیٰ۔

دوسرا اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ مطالباتی سیاست نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ایک عظیم نعمت سے محروم کردیا۔ یہ نعمت دعا ہے، یعنی حقیقی جذبۂ طلب کے تحت پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ سے مانگنا۔ مطالباتی سیاست اِس قسم کی دعا کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے(33: 4) ، اِس لیے جب آپ انسان کو نشانہ بنا کر اس کے مقابلے میں مطالباتی تحریک چلائیں تو فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ آپ کے اندر خدا سے مانگنے کی اسپرٹ پیدا نہیں ہوتی۔ ایسے انسان کے پاس خدا سے مانگنے کے لیے صرف رٹے ہوئے الفاظ باقی رہتے ہیں، اور رٹے ہوئے الفاظ کا نام دعا نہیں۔ دعا کی اسپرٹ (spirit)یہ ہے کہ— آدمی، خدا کو دینے والے (giver) کی حیثیت سے دریافت کرے اور پھر دل کی گہرائیوں کے ساتھ وہ خدا کے سامنے طالب بن جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اِس قسم کی حقیقی دعا سے محروم ہیں، اور اِس کا سب سے بڑا سبب یہی مطالباتی سیاست ہے۔original + quote