← back to shukr · Al-Risala March 2011

جنت کا استحقاق

Al-Risala March 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (31 chapters)
  1. الرسالہ - March 2011
  2. اللہ سے محبت
  3. جنت کا استحقاق
  4. ہدایت اورضلالت
  5. سب سے بڑی یقین دہانی
  6. گروہی ہدایت
  7. تدبر قرآن
  8. مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ
  9. قومی مذہب
  10. قرآن فاتحِ عالم
  11. جہاد کیا ہے
  12. ابنِ تیمیہ کا موقف
  13. احیاءِ اسلام
  14. مسلم تاریخ کے تین دور
  15. امتِ محمدی کی ذمے داری
  16. دعوت، دعا
  17. مطالباتی سیاست کا نقصان
  18. غیر ِ خدا میں جینا
  19. رزرویشن کے بغیر
  20. ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ
  21. اتباعِ یہود کا کیس
  22. حق کی تلاش
  23. افرادِ کار کی تیاری
  24. شتمِ رسول کا مسئلہ
  25. تحفظِ نبوت، تحفظِ کارِ نبوت
  26. اعتماد کی اہمیت
  27. کھونے میں پانا
  28. صحیح مشورہ، غلط مشورہ
  29. ایک عام کمزوری
  30. سوال وجواب
  31. خبرنامہ اسلامی مرکز — 209

جنت کا استحقاق

قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے: لئن شکرتم لأزیدنکم (14: 7) یعنی اگر تم دنیا میں اللہ کے عطیات پر شکر کروگے تو تم کو آخرت میں خدا کے عطیات دئے جائیں گے۔original + quote

حقیقی شکر سب سے بڑا عمل ہے۔ شکر تمام عبادات کا خلاصہ ہے۔ جو آدمی دنیا کی زندگی میں حقیقی معنوں میں شکر گزاری کا ثبوت دے، وہ آخرت میں دوبارہ خدا کی نعمتوں سے سرفراز کیاجائے گا۔ حقیقی شکر کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے۔ جنت میں صرف اعلیٰ روحیں داخل کی جائیں گی، اور اعلیٰ روح وہ ہے جو حمد اور شکر کی کیفیات سے بنی ہو۔ اِس اعلیٰ روح کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت والے جب جنت میں داخل کر دئے جائیں گے تو وہ کہیں گے: الحمد للہ الذی أذہب عنا الحزَن(35: 34) یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے حزن کو ہم سے دو رکردیا۔original + quote

دنیا کی زندگی میں ہر آدمی کا ایک لمحۂ حزن یا زمانۂ حزَن ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اس حزن (sorrow)سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ جو آدمی اپنے اِس زمانہ حزن کو اور پھر زمانہ فرحت کو دریافت کرے اور پھر وہ یہ کہہ اٹھے کہ خدایا، تونے دنیا میں میرے حزن کو دور کردیا، اِسی طرح تو آخرت میں میرے حزن کو دور کردے۔ جوآدمی سچے احساس کے ساتھ یہ بات کہے تو یہ بات اس کے لیے ان شاء اللہ جنت میں داخلے کا ٹکٹ بن جائے گی۔ دنیا کی نعمتوں کا اعتراف اس کو آخرت کی نعمتوں کا مستحق بنادے گا۔

اِس قسم کا قول کوئی سادہ قول نہیں۔ اِس کے لیے گہری شعوری بیداری درکار ہے۔ جوآدمی اپنے اندر اِس قسم کی شعوری بیداری پیدا کرے، اُسی کے دل سے اِس قسم کے کلمات نکلتے ہیں جو اس کے لیے جنت میں داخلے کا استحقاق بن جائیں۔ گہری شعوری بیداری کے بغیر کسی شخص کو یہ توفیق ملنے والی نہیں۔