Al-Risala June 2013

اسلام کے نام پر سیاست

Al-Risala June 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - June 2013
  2. حامل ِ کتاب قوم
  3. موت کی یاد کا مثبت پہلو
  4. دین کے بدلے دنیا
  5. انقلابی اسپرٹ
  6. سچائی کی سیٹ
  7. قانونِ فطرت کو جانیے
  8. اللہ کے دشمن
  9. انگریزی تعلیم
  10. ربوبیت: کائنات میں ربانی تنظیم
  11. سادہ فارمولا
  12. پیرانوئیا کی نفسیات
  13. اسلام اور مسلمان
  14. اسلام کے نام پر سیاست
  15. قبولِ اسلام کا ایک واقعہ
  16. افرا د سازی کی اہمیت
  17. عبرت یا عذاب
  18. ناعاقبت اندیشانہ اقدام
  19. صلاحیت کی قدر دانی
  20. اقدام کی شرط
  21. سب سے بڑی قربانی
  22. الرسالہ مشن
  23. سوال وجواب

اسلام کے نام پر سیاست

موجودہ زمانے کے مسلمانوںمیں باربار ایک واقعہ پیش آیا ہے- ایک اسلام پسند جماعت (Islamist party) اٹھتی ہے- وہ اسلام کے نام پر سیاسی تحریک چلاتی ہے، یہاں تک کہ وہ موجودہ حکمرانوں ;کو ہٹا کر اپنی پارٹی کی حکومت بنالیتی ہے- اِس واقعے پر ساری دنیا کے مسلمان خوشی مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں ملک میں اسلام آگیا- مگر بہت جلد معلوم ہوتاہے کہ جو چیز آئی، وہ اسلام نہیں تھا، بلکہ صرف یہ تھا کہ حکومت کا ڈھانچہ بدل گیا، یعنی یہ معاملہ تبدیلی افراد کا معاملہ تھا، نہ کہ تبدیلی نظام کا-

ایساکیوں ہوتاہے- اِس کا سبب سیاسی بے بصیرتی ہے جو موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمانوں پر چھائی ہوئی ہے، خواہ وہ علما ہوں یا غیر علما- وہ سیاسی بے بصیرتی یہ ہے کہ لوگ صرف لفظی نعروں کو جانتے ہیں- اُن کو یہ خبر نہیں کہ ’’انقلاب‘‘ کے نام پر جو واقعہ پیش آیا ہے، وہ صرف سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کی بنا پر پیش آیا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلام کی بنا پر-

اصل یہ ہے کہ جب بھی کچھ لوگ اقتدار کی کرسی پر ہوں، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، خواہ وہ مخلص ہوں یا غیر مخلص، ہمیشہ عوام میں اُن کے خلاف شکایت کی فضا پیدا ہوجاتی ہے- اجتماعی نظام میں اِس عنصر کو اینٹی انکمبنسی فیکٹر (anti-incumbency factor) کہاجاتا ہے- سادہ لفظوں میں اس کو اینٹی اتھارٹی(anti-authority)ماحول کہہ سکتے ہیں-جمہوری نظام میں اپوزیشن پارٹیاں ہمیشہ یہی کرتی ہیں کہ وہ برسرِ اقتدار گروہ کے خلاف موجود شکایتوں کو استعمال (exploit) کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں-

جن مسلم ملکوں  میں یہ واقعہ پیش آرہا ہے کہ وہاں نہایت دھوم کے ساتھ ’’اسلام‘‘ آیا اور پھر جلد ہی معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز آئی تھی، وہ اسلام نہ تھا، بلکہ صرف اربابِ اقتدار کی تبدیلی (replacement) تھی، اس کے سوا اور کچھ نہیں- یہ صورتِ حال ہر اُس مسلم ملک میں پیش آئی جہاں نام نہاد اسلام پسند پارٹیاں سرگرم عمل ہیں-