Al-Risala July 2020

زندگی کی تعمیر

Al-Risala July 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - July 2020
  2. ابتغاء رضوان اللہ
  3. نماز کے بغیر نجات نہیں
  4. فرقان کیا ہے
  5. قرآن میں تدبر کی اہمیت
  6. ذکر اور دعاء
  7. سب سے بڑی خوشی
  8. ایک قانونِ فطرت
  9. فتح ، فتحِ مبین
  10. متواضع آغاز، پُر فخر آغاز
  11. ہجرت برائے دعوت
  12. نچلے طبقے میں دعوتی کام
  13. وہ آنے والا
  14. امت کا زوال
  15. امن، امن، امن
  16. مسلمانوں کی علاحدہ سیاسی پارٹی
  17. اللہ کا فیصلہ یا اجتہادی خطا
  18. غیر اسلامی روش
  19. ذہین وجود
  20. بااصول زندگی
  21. زندگی کی تعمیر
  22. غیر ضروری کلام سے بچئے
  23. تھرڈ آپشن سے بے خبر
  24. سوال وجواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز — 203
  26. Al-Quran Mission

زندگی کی تعمیر

ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ بظاہر وہ مایوسی کا شکار تھے۔انھوں نے کہا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے اور اپنی تعمیر کا منصوبہ ایک انسان کو کس طرح بنانا چاہیے۔

میںنے کہا کہ اِس معاملے میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ خود اپنی ذات کا مطالعہ کرکے اپنے فطری امکانات (potentials) کو دریافت کریں، اور اس کے بعد حقیقت پسندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے اس کو استعمال کریں۔

میں نے اپنے تجربے میں پایا ہے کہ بیش تر لوگ مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔ وہ مایوسی کے احساس میں جیتے ہیں اور مایوسی میں مرجاتے ہیں۔ اِس المیہ کا بنیادی سبب کیا ہے۔ وہ سبب یہی ہے کہ بیش تر لوگ اپنی زندگی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز نہیں پاتے، اور جب آپ صحیح نقطۂ آغاز کو نہ پائیں تو آپ کی تمام سرگرمیاں آپ کے مطلوب کے اعتبار سے بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔

احساسِ ناکامی کیا ہے، یہ دراصل اپنے کم تر استعمال (under-utilization) کا نتیجہ ہے، جو شعوری یا غیر شعوری طورپر ہر انسان کو لاحق رہتا ہے۔ جب آپ اپنی امکانیات کو استعمال نہ کرسکیں تو آپ کو برابر یہ احساس ستاتا رہے گا کہ آپ جس چیز کو پانا چاہتے تھے، اس کو آپ نہ پاسکے۔ اِسی کا نام احساسِ مایوسی ہے۔ اِس احساس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے آپ کو جانے بغیر زندگی میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ جو لوگ اِس غلطی کا شکار ہوں، اُن کودوبارہ درست نقطۂ آغاز صرف اُس وقت ملے گا جب کہ وہ یہ اعتراف کریں کہ میں غلطی پر تھا۔

زندگی کی تعمیر کا پہلا مرحلہ دریافت سے شروع ہوتا ہے۔ اور اگر آدمی دریافت میں ناکام ہوجائے تو اس کے بعد زندگی کا اگلا منصوبہ اپنی غلطی کے اعتراف سے شروع ہوگا۔ جوآدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، وہ کبھی اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی نہ کرسکے گا، اس کا ماضی بھی ناکام رہے گا اور اس کا مستقبل بھی ناکام۔