Al-Risala July 2020

نچلے طبقے میں دعوتی کام

Al-Risala July 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - July 2020
  2. ابتغاء رضوان اللہ
  3. نماز کے بغیر نجات نہیں
  4. فرقان کیا ہے
  5. قرآن میں تدبر کی اہمیت
  6. ذکر اور دعاء
  7. سب سے بڑی خوشی
  8. ایک قانونِ فطرت
  9. فتح ، فتحِ مبین
  10. متواضع آغاز، پُر فخر آغاز
  11. ہجرت برائے دعوت
  12. نچلے طبقے میں دعوتی کام
  13. وہ آنے والا
  14. امت کا زوال
  15. امن، امن، امن
  16. مسلمانوں کی علاحدہ سیاسی پارٹی
  17. اللہ کا فیصلہ یا اجتہادی خطا
  18. غیر اسلامی روش
  19. ذہین وجود
  20. بااصول زندگی
  21. زندگی کی تعمیر
  22. غیر ضروری کلام سے بچئے
  23. تھرڈ آپشن سے بے خبر
  24. سوال وجواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز — 203
  26. Al-Quran Mission

نچلے طبقے میں دعوتی کام

کچھ لوگ دعوت کاکام کررہے ہیں۔ لیکن وہ اپنا دعوتی کام نچلے طبقے کے لوگوں میں انجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی دعوت کا صحیح اسلوب ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں وہ قرآن کی ایک آیت پیش کرتے ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: فقال الملأ الذین کفروا من قومہ مانراک إلاّ بشراً مثلنا، وما نراک اتبعک إلا الذین ہم أراذلنا بادی الرأی (ہود: 27 ) اِس آیت میں ’أراذلنا‘ کا لفظ پیغمبر کی زبان سے نہیں ہے، یعنی پیغمبر نے یہ نہیں کہا کہ اراذل (نچلے طبقے کے لوگ) میرے مخاطبین ہیں۔ یہ لفظ دراصل پیغمبر کے مخالفین نے بطور استہزا استعمال کیا ہے۔ خود اس آیت سے یہ ثابت ہے کہ پیغمبر نے اصلاً خواص کو یعنی قوم کے سربرآوردہ افراد کو خطاب کیا تھا۔ اِسی کے ساتھ فطری طورپر عوام بھی اس کے مخاطب بن گئے۔original + quote

اِس سلسلے میں دوسرا حوالہ حدیث سے دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ملنے کے بعد ہرقل اور ابوسفیان کے درمیان جو مکالمہ ہوا تھا، اس کا ایک حصہ یہ تھا: قال: فأشراف الناس یتبعونہ أم ضعفائہم۔ قلتُ: بل ضعفائہم(صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی) اِس روایت میں ’ضعفاء‘ کا لفظ متبعین کو بتانے کے لیے آیا ہے، نہ کہ مخاطبین کو بتانے کے لیے۔ اِس لیے یہ دلیل بھی مذکورہ دعوے کا ثبوت نہیں بن سکتی۔ اِس دعوے کا علمی تجزیہ اس کو سرتاسر غلط ثابت کرتاہے۔original + quote

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کا خطاب اصلاً قوم کے خواص سے ہوتا ہے۔ ہر پیغمبر کے براہِ راست مخاطب قوم کے خواص تھے، لیکن خواص کے طبقے کے اکثر لوگ اپنے دنیوی مفادات کی بنا پر پیغمبر کی دعوت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ قرآن کے بیان کے مطابق، پیغمبر کی دعوت کی صداقت کو اُن کا دل مان لیتا ہے، لیکن ظلم اور علو کی بنا پر وہ اس کے منکر بن جاتے ہیں (النمل:14 )۔پیغمبر اسلام ﷺنے ہرقل (شاہِ روم) کو دعوتی مکتوب بھیجا، تو اس میں یہ درج تھا کہ اگر تم نے میری دعوت قبول نہ کی، تو تمھاری رعایا کا گناہ تمھارے اوپر ہوگا (فإن تولیتَ فإنّ علیک إثم الأریسییّن)۔ اِس میں یہی دعوتی اصول مضمر تھا۔original + quote