← back to shukr · Al-Risala july 2015

آل عمران ، رکوع آخر

Al-Risala july 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (37 chapters)
  1. الرسالہ - july 2015
  2. روزہ اور تقویٰ
  3. روزہ برائے ترک ممنوعات
  4. قرآن کتاب ِتدبر
  5. عجز اور دعا
  6. ذکرکیا ہے
  7. جنت کیا ہے
  8. قرآن کا مطالعہ
  9. آل عمران ، رکوع آخر
  10. موت کا ذکر کثیر
  11. زوال کی علامت
  12. ایک انقلابی اصول
  13. دیکھیں صبح کیسے ہوتی ہے
  14. مسِّ مصحف کے لیے وضو کی شرط
  15. اجتہاد یا فتویٰ
  16. فطرت کا نظام
  17. حمد اور کَبَد کے درمیان
  18. انسان کا امتحان
  19. شیطان سے حفاظت
  20. تیار ذہن کی اہمیت
  21. دو چہرے والا شخص
  22. ہجرت ایک تدبیر
  23. فرشتوں کی نگرانی
  24. توسط اور اعتدال
  25. راستہ بدلنا
  26. اسلامائزیشن آف نان اسلام
  27. شعور پر لاشعور غالب
  28. یتیم کی کفالت
  29. پیغمبر ِ اسلام کی سنت
  30. نظر کی خریداری
  31. حقیقت پسندانہ سوچ
  32. مزاحمت سے مقابلہ تک
  33. علم کی حد
  34. بے خبری کا نقصان
  35. مفید، بے مسئلہ
  36. شہد کی مکھی کا سبق
  37. خبر نامہ اسلامی مرکز— 235

آل عمران ، رکوع آخر

قرآن کی سورہ آل عمران کی آخری رکوع میں مومن کی تصویر بتائی گئی ہے۔اس رکوع میں کل گیارہ آیتیں ہیں۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:original + quote

آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں ۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بےمقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔اے ہمارے رب، تو نے جس کو آگ میں ڈالا، اس کو تو نے واقعی رسوا کردیا۔ اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں ۔ اے ہمارے رب، ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، پس ہم ایمان لائے۔ اے ہمارے رب، ہمارے گنا ہوں کو بخش دے اور ہماری برائیوں کو ہم سے دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔اے ہمارے رب، تو نے جو وعدے اپنے رسولوں کی معرفت ہم سے کئے ہیں، ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہم کو رسوائی میں نہ ڈال۔ بےشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔ ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں ستائے گئے اور وہ لڑے اور مارے گئے، میں ان کی خطائیں ضرور ان سے دور کر دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کا بدلہ ہے اللہ کے یہاں اور بہترین بدلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور ملک کے اندر منکروں کی سرگرمیاں تم کو دھوکے میں نہ ڈالیں ۔ یہ تھوڑا فائدہ ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اور وہ کیسابرا ٹھکانا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کی میزبانی ہوگی اور جو کچھ اللہ کے پاس نیک لوگوں کے لئے ہے، وہی سب سے بہتر ہے۔ اور بےشک اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب کو بھی مانتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی، وہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور وہ اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ نہیں دیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ جلدحساب لینے والا ہے۔ اے ایمان والو، صبر کرو اورصبر پر قائم رہو اور باہم مربوط رہو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم کامیاب ہوگے۔unverified

آیات 190-192 — ان آیتوں میں مومن کی فکری زندگی کو بتایا گیا ہے۔وہ صبح و شام، رات دن تخلیقِ خداوندی پر غور کرتا ہے۔ اس مسلسل غور و فکر سے اس کو زندگی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ پکار اٹھتا ہے، خدایا، مجھے آخرت کی ابدی دنیا میں ناکامی سے بچا۔original + quote

آیات 193-194 — تخلیقِ خداوندی میں غور وفکر کے نتیجہ میں وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ داعی حق کی بات کو کامل سنجیدگی کے ساتھ سنے۔ وہ تعصب کے تمام پردوں کو پھاڑ کر اس کو پہچان لے۔ وہ کسی تحفظ ذہنی کے بغیر داعی ٔ حق کی پکار پر، اس امید کے ساتھ لبیک کہتا ہے کہ اس کا ایسا کرنا اس کو اللہ کی نصرت کا مستحق بنائے گا۔original + quote

آیت 195 — یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک فکری سطح پر اس کا اعتراف کافی نہیں۔ اللہ کے نزدیک ضروری ہے کہ آدمی کا فکری اعتراف عمل کی سطح پر ظاہر ہو، وہ اس کی عملی زندگی میںڈھل جائے۔original + quote

اس کے بعد چار عملی کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہجرت، اخراجِ وطن، اللہ کے راستے میںایذاء، اور قتال۔یہ چار باتیں اپنی شکل کے اعتبار سے مطلق نہیں ہیں، البتہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مطلق ہیں، اور ہر زمانے کے اہل ایمان سے یکساں طور پر مطلوب ہیں۔ رسول کے معاصر اہل ایمان کے لیے اس کا اظہار ان چار صورتوں میں ہوا ہے۔

بعد کے زمانے میں حالات کی نسبت سے ان کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ تاہم ان کی اصل حقیقت قربانی (sacrifice) ہے، اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ہمیشہ مطلوب رہے گی۔ جو ایمان قربانی کے بغیر ہو، وہ ایمان اللہ کے نزدیک مطلوب ایمان نہیں ہے۔ چوں کہ پیغمبر کے معاصر اہل ایمان کے ساتھ یہ چاروں قسم کے تجربات پیش آئے۔ مگر بعد کے اہل ایمان کے لیے زمانے کے اعتبار سےاس کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ان چاروں چیزوں کی اصل حقیقت قربانی کی سطح پر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے۔بعد کے زمانے کے اہل ایمان کے لیے بھی یہ شرط موجود رہے گی۔ البتہ حالات کے اعتبار سے اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔

آیات 196-198 —اس کے بعد انسانوں کے لیے دو مختلف قسم کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو لوگ خدا سے سرکشی کا طریقہ اختیار کریں، ان کے لیے آخرت میں سخت پکڑ ہوگی۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ اختیار کریں وہ آخرت کی ابدی دنیا میں جنت کے باغوں میں جگہ پائیں گے۔original + quote

آیت 199 — اس آیت میں اہل ایمان کی اس صفت کاذکر ہے کہ وہ تعصب سے کامل طور پر خالی ہوتے ہیں۔وہ اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔وہ ہر رسول پر یکساں طور پر ایمان رکھتے ہیں۔کوئی دنیوی مصلحت ان کو سچائی کے راستے سے ہٹانے والی نہیں۔original + quote

آیت 200 — اس آیت میں صبر و استقامت کی تاکید کی گئی ہے۔ ایمان کے راستے پر چلنے کے بعد ایسے مواقع بار بارآتے ہیں، جو آدمی کو متزلزل کر سکتے ہیں اور اس کو شبہ میں ڈال سکتے ہیں۔اس طرح کے مواقع پر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فکر کو پھر سے بیدار کرے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے اپنے آپ کو یقین پر قائم رکھے۔ اس طرح اس کے اندر صبرو استقامت آئے گی۔ وہ دوسرے اہل ایمان کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ بندھا رہے گا۔ اگر کوئی ناپسندیدہ بات پیش آئے گی تو وہ اس کو اپنی ذہنی بیداری کے ذریعے اپنے لیے غیر موثر بنادے گا۔original + quote

آخر میں فرمایا اتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔ یہ تمام باتوں کا خلاصہ ہے۔مذکورہ تمام افعال صرف اس وقت مطلوب صورت میں انجام دیے جاسکتے ہیں، جب کہ ان کے پیچھے تقوی کی اسپرٹ موجود ہو۔ یہ صرف تقوی ہے جو کسی انسان کی حقیقی فلاح کا ضامن ہے۔ تقوی کے بغیر فلاح کا حصول ممکن نہیں۔original + quote