Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
قرآن کا مطالعہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: من قرأ حرفاً من کتاب اللہ فلہ بہ حسنة، والحسنة بعشر امثالہا، لا أقول الم حرف ، الف حرف ولام حرف ومیم حرف (الترمذی، حدیث نمبر: 2910) یعنی جس شخص نے اللہ کی کتاب میں سے ایک حرف پڑھا تو اس کے لیے اِس کے بدلے میں ایک نیکی ہے، اور ہر نیکی دس گنا تک بڑھتی ہے- میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے-original + quote
یہ قولِ رسول ایک لمبی روایت میں بھی آیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہےکہ إن ہذا القرآن مادبة اللہ تعالى فتعلموا من مأدبة اللہ ما استطعتم (مجمع الزوائد، حدیث نمبر: 11660) یعنی یہ قرآن ایک ربانی دستر خوان (banquet) ہے، پس تم اس دسترخوان سے سیکھو، جتنا تم سیکھ سکتےہو-original + quote
اس حدیث میں جو بات الفاظ کے اعتبار سے کہی گئی ہے، وہ دراصل معنی کے اعتبار سے مطلوب ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں معانی کا خزانہ اتنا زیادہ ہے کہ اس کا کوئی شمار نہیں کیا جاسکتا- یہ اسلوب انسان کی زبان میں عام ہے، یعنی کیفیاتی حقیقت (qualitative fact) کو کمیاتی زبان (quantitative language) میں بیان کیاگیا ہے-original + quote
مذکورہ حدیث کی یہ شرح قرآن سے ثابت ہے- قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْٓا اٰیٰتِہٖ وَلِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سےنصیحت حاصل کریں-original + quote
قرآن کی یہ آیت واضح طورپر بتاتی ہےکہ قرآن غور وفکر کی کتاب ہے- قرآن کا مدعا یہ نہیں ہے کہ لوگ اس کے الفاظ کو تلاوت کے طورپر دہرائیں، اور پراسرار طورپر اس کا ثواب ان کو ملتا رہے- حقیقت یہ ہے کہ تدبر کے بغیر قرآن کا مقصدِ نزول پورا نہیں ہوسکتا-original + quote