Al-Risala July 2011

ایک خط

Al-Risala July 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (27 chapters)
  1. الرسالہ - July 2011
  2. فہمِ دین میں تقویٰ کی اہمیت
  3. اصلاحی عمل کا نقطۂ آغاز
  4. تائیدِ دین: تین دور
  5. مصادرِ شریعت
  6. قرآن کی سائنسی تفسیر
  7. متبادل نظام
  8. نفاق کی علامت
  9. عروج وزوال کا قانون
  10. تاریخ کے فیصلے کو بدلنا
  11. تمثیلی اسلوب
  12. تنقید کی دوقسمیں
  13. دعوت اور حکمت
  14. ایک غیر سائنسی بیان
  15. اسلامی رومانیت
  16. اتحادِ ملت
  17. ناممکن کی سیاست
  18. عظمتِ خویش کانفرنس
  19. نظر ِثانی کی ضرورت
  20. خدا کی طرف
  21. حسنِ جواب
  22. ذہنی تناؤ کا مسئلہ
  23. اپنے آپ کو بچائیے
  24. اکّالُ الرجال
  25. ایک خط
  26. سوال وجواب
  27. خبر نامہ اسلامی مرکز— 211

ایک خط

برادرمحترم محمد حسن جو ہر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کے خط کے ساتھ آپ کی کتاب ’’خطابِ نو‘‘ (صفحات 264 ) موصول ہوئی۔اِس کتاب کو دیکھنے کے بعد میرا جو پہلا تاثر تھا، وہ یہ تھا کہ — یہ کتاب ایک ایسے مصنف کا تعارف پیش کرتی ہے جو قلبی درد اور ذہنی سنجیدگی کی صفات اپنے اندر رکھتا ہے۔ کتاب کا یہ پہلو بلا شبہہ کتاب کے اصل موضوع سے بھی زیادہ اہم ہے۔

آپ نے کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ: ’’اگر’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘ کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمان بیدار ہوتا ہے کسی بڑی ٹریجڈی کے بعد، تو کیا ایسا اب بھی ہو نہیں چکا‘‘۔ آپ کا یہ جملہ دراصل فطرت کے ایک قانون کو بیان کرتا ہے۔ موجودہ دنیا کو پیداکرنے والے نے اُس کا نظام جس اصول پر قائم کیا ہے، اُس کو مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات: 1975 ) نے بجا طورپر چیلنج- رسپانس میکانزم (challenge-response mechanism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔original + quote

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق، اگر قوم باشعور ہو تو وہ پیش آمدہ چیلنج کا مثبت جواب (positive response) دیتی ہے۔ اِس طرح اس کی تخلیقیت (creativity) میں اضافہ ہوتا ہے۔ چیلنج اُس کے لیے ترقی کا زینہ (stepping stone) بن جاتا ہے۔ اِس کے برعکس، جس قوم کے رہنماؤں نے اس کو بے شعور بنا رکھا ہو، وہ پیش آمدہ چیلنج کا صرف منفی جواب (negative response) دے گی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خدا کی اس دنیا میں صرف ایک احتجاجی گروپ(protestant group) بن کر رہ جائے۔ ایسی قوم خدا کے لیے بھی غیر مطلوب ہے، اور انسانوں کے لیے بھی غیر مطلوب۔original + quote

نئی دہلی، 25 مارچ 2011 دعا گو