Al-Risala July 2011

ایک غیر سائنسی بیان

Al-Risala July 2011 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (27 chapters)
  1. الرسالہ - July 2011
  2. فہمِ دین میں تقویٰ کی اہمیت
  3. اصلاحی عمل کا نقطۂ آغاز
  4. تائیدِ دین: تین دور
  5. مصادرِ شریعت
  6. قرآن کی سائنسی تفسیر
  7. متبادل نظام
  8. نفاق کی علامت
  9. عروج وزوال کا قانون
  10. تاریخ کے فیصلے کو بدلنا
  11. تمثیلی اسلوب
  12. تنقید کی دوقسمیں
  13. دعوت اور حکمت
  14. ایک غیر سائنسی بیان
  15. اسلامی رومانیت
  16. اتحادِ ملت
  17. ناممکن کی سیاست
  18. عظمتِ خویش کانفرنس
  19. نظر ِثانی کی ضرورت
  20. خدا کی طرف
  21. حسنِ جواب
  22. ذہنی تناؤ کا مسئلہ
  23. اپنے آپ کو بچائیے
  24. اکّالُ الرجال
  25. ایک خط
  26. سوال وجواب
  27. خبر نامہ اسلامی مرکز— 211

ایک غیر سائنسی بیان

موجودہ زمانہ کے مشہور برٹش سائنس داں اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) کا ایک بیان اخبارات میں آیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا کہ — جنت یا زندگی بعد موت کا کوئی وجود نہیں، یہ سب پریوں کی کہانی ہے:original + quote

There is no heaven or afterlife, that is a fairy story. (The Times of India, N. Delhi, May 17, 2011, p. 19)opposing view

یہ سائنس داں کی زبان سے ایک غیر سائنسی بیان ہے۔ ایک شخص جو جنت کو نہ مانتا ہو، وہ سائنسی زبان میں صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ معلوم طبیعی قوانین کے مطابق، یہاں جنت کا کوئی وجود نہیں:

According to the known physical laws, Paradise has no existence.opposing view

مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سائنس کے جدید ترین مطالعے کے مطابق، کائنات کے مادّے کا صرف 5 فی صد حصہ ہمارے مشاہدے میں آتا ہے۔ کائنات کا بقیہ 95 فی صد مادّہ سرے سے قابلِ مشاہدہ (observable) ہی نہیں۔ ایسی حالت میں خالص سائنسی بیان یہ ہوگا کہ — قیاساً اِس دنیا میں جنت کا کوئی وجود نہیں:

Probably, Paradise has no physical existence.

سائنس (science) مطالعے کا ایک خصوصی طریقہ ہے۔ سائنس کی رسائی صرف اُن حقائق تک ہوتی ہے جو اس کی دور بین (telescope) یا خورد بین (microscope) کے مشاہدے میں آتے ہوں۔ جب خود سائنسی مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ممکن طورپر کائنات کے قابلِ مشاہدہ مادّے کا زیادہ بڑا حصہ موجودہ سائنسی آلات کے مطابق، قابلِ مشاہدہ نہیں۔ ایسی حالت میں، سائنس کے حوالے سے یہ کہنا بلا شبہہ ایک غیر سائنسی بیان ہے کہ — کائنات میں جنت کا کوئی وجود نہیں۔قدیم زمانے میں علمی بیان کی کوئی محدّد تعریف موجود نہ تھی، مگر موجودہ زمانے میں علمی بیان صرف اُس کو کہاجاتا ہے جو محدَّد زبان (specific language) میں ہو۔ اِس علمی تعریف کا لحاظ یقینا سائنس داں کو بھی کرنا ہے اور غیر سائنس داں کو بھی۔