Al-Risala july 2008

حِلفُ الفُضول

Al-Risala july 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - july 2008
  2. قربِ قیامت کا مسئلہ
  3. امتِ وسَط
  4. شر میں خیر
  5. ہیمرنگکی زبان
  6. تحقیق کے بغیر
  7. حِلفُ الفُضول
  8. ہر گھر دعوتی مرکز
  9. ٹیلی فون کا دور
  10. فخر، تواضع
  11. ابدی انجام
  12. سر، یہ آپ کے لیے ہے
  13. دعوت الی اللہ کا کام
  14. طوفانِ قیامت
  15. دعوت الی اللہ کے تین دَور
  16. کامیاب زندگی ، ناکام خاتمہ
  17. گنہ گار شخصیت، کم زور شخصیت
  18. کم پر راضی ہونا
  19. خود ساختہ منطق
  20. محبت اور نفرت
  21. جنون درکار ہے
  22. سوال وجواب
  23. خبر نامہ اسلامی مرکز— 186

حِلفُ الفُضول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تقریبا بیس سال پہلے مکہ میںایک واقعہ ہوا۔ یمن سے ایک شخص مکہ آیا۔ اُس نے اپنا کچھ تجارتی سامان مکہ کے ایک شخص عاص بن وائل سہمی کے ہاتھ فروخت کیا۔ عاص بن وائل نے سامان لیا، لیکن اس کی پوری قیمت ادا نہ کی۔

یہ واقعہ مکہ کی روایات (traditions) کے خلاف تھا۔ جب مکہ والوں کو اِس کا علم ہوا، تو لوگوں نے اس کو بہت بُرا مانا۔ مکہ کے کچھ سربرآوردہ افراد عبد اللہ بن جُدعان کے مکان پر اکھٹا ہوئے۔ انھوں نے اِس واقعے پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ پھر انھوںنے ایک معاہدہ کیا۔ اِس معاہدے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک تھے۔ اس معاہدے کو تاریخ میں حلف الفضول کہاجاتا ہے۔ اِس معاہدے کے متعلق، روایات میں بتایا گیا ہے کہ: فتعاقدوا وتعاہدوا باللہ لیکونُنَّ یداً واحدۃً مع المظلوم علی الظالم حتّٰی یؤدّی إلیہ حقہ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 259 )یعنی انھوں نے خداکا نام لے کر ایک دوسرے کے ساتھ یہ عہد کیا کہ وہ متحد ہو کر ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کریںگے اور حق دار کو اس کا حق دلوائیں گے۔original + quote

یہ معاہدہ موجودہ اصطلاح کے مطابق، سوشل سروس، یا خدمتِ خَلق کا معاہدہ نہ تھا، بلکہ وہ دادرسی اور نصرتِ مظلوم کا معاہدہ تھا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ مکہ میں ظلم اور حق تلفی کے کسی معاملے کو برداشت نہیںکیا جائے گا۔ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوگا، تو مکہ کے سربرآوردہ افراد موقع پر پہنچیں گے اور ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آئے، وہ غاصب کو مجبور کریں گے کہ وہ غصب کا مال اُس کے مغصوب کے حوالے کرے۔

حلف الفضول سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے میںداد رسی کی اسپرٹ ہونا چاہیے۔ لوگوں کے اندر یہ طاقت ور جذبہ ہونا چاہیے کہ وہ کسی بے انصافی کو برداشت نہ کریں، اور عملاً اُس میں دخل دے کر پُر امن دباؤ کے ذریعے اس کا خاتمہ کر دیں۔