Al-Risala july 2008

شر میں خیر

Al-Risala july 2008 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (23 chapters)
  1. الرسالہ - july 2008
  2. قربِ قیامت کا مسئلہ
  3. امتِ وسَط
  4. شر میں خیر
  5. ہیمرنگکی زبان
  6. تحقیق کے بغیر
  7. حِلفُ الفُضول
  8. ہر گھر دعوتی مرکز
  9. ٹیلی فون کا دور
  10. فخر، تواضع
  11. ابدی انجام
  12. سر، یہ آپ کے لیے ہے
  13. دعوت الی اللہ کا کام
  14. طوفانِ قیامت
  15. دعوت الی اللہ کے تین دَور
  16. کامیاب زندگی ، ناکام خاتمہ
  17. گنہ گار شخصیت، کم زور شخصیت
  18. کم پر راضی ہونا
  19. خود ساختہ منطق
  20. محبت اور نفرت
  21. جنون درکار ہے
  22. سوال وجواب
  23. خبر نامہ اسلامی مرکز— 186

شر میں خیر

قرآن کی سورہ نمبر 24 کی ایک آیت اِن الفاظ میںآئی ہے: لا تحسبوہ شراًّ لکم بل ہو خیرٌ لکم (النّور:11 ) یعنی تم اس کو اپنے حق میںبُرا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمھارے حق میں بہتر ہے:Qur'an

Do not regard it a bad thing for you; may be it is good for you.Qur'an

یہ آیت قرآن میں ایک مخصوص سیاق(particular reference) میںآئی ہے، لیکن اس کا ایک عمومی مفہوم (general application) بھی ہے، اِس عمومی مفہوم کے اعتبار سے اِس آیت میںہر انسان کے لیے سبق ہے۔ ہر انسان غور کرکے اُس سے اپنی زندگی کے لیے سبق لے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس آیت میں فطرت کا ایک عام قانون بتایا گیاہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اِس دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی منفی واقعہ پیش آئے، تو وہ اس کے لیے کُلّی طورپر بُرا نہیں ہوتا۔ یہ دراصل آدمی کا اپنا رویہ ہے جو کسی واقعے کو اُس کے لیے برا واقعہ بنا دیتا ہے۔

جب کوئی منفی واقعہ کسی کے ساتھ پیش آئے تووہ اس کے صبر کے لیے ایک امتحان ہوتا ہے۔اگر آدمی صبر سے کام لے، وہ جوابی نفسیات کا شکار نہ ہو، بلکہ اپنے ذہن کو اشتعال سے بچاتے ہوئے معاملے کا بے لاگ جائزہ لے، اور غیر متاثر ذہن کے ساتھ اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ اگر وہ ایسا کرسکے، تو وہ دیکھے گا کہ جو چیز بظاہر اس کے لیے بُری تھی، وہ اس کے لیے اچھے نتیجے کا سبب بن گئی۔

فطرت کے قانون کے مطابق، کوئی بھی شخص آپ کو نقصان پہنچانے کی طاقت نہیںرکھتا۔ یہ آپ کا اپنا رد عمل ہے جو آپ کے لیے نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔ اپنے آپ کو درست راستے پر رکھیے، اور پھر کوئی بھی چیز یا کوئی بھی شخص آپ کے لیے نقصان کا باعث نہیں بنے گا۔موجودہ دنیا ناموافق تجربات سے بھری ہوئی ہے، ٹھیک اُسی طرح جیسے پھول کی ایک شاخ کانٹوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی، ناموافق بات کو نظر انداز کرے، اور موافق پہلو کو تلاش کرکے اس کو استعمال کرے۔ یہی طریقہ فطرت کے مطابق ہے، اور یہی طریقہ کسی شخص کی کامیابی کا ضامن ہوسکتا ہے۔