Al-Risala February 2015

تقابل کی غلطی

Al-Risala February 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (24 chapters)
  1. الرسالہ - February 2015
  2. انسان کی تخلیق
  3. ایمانی زندگی کے 10 مراحل
  4. نزاع سے کامل پرہیز
  5. ذات، مشن
  6. قتلِ انسان
  7. جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع
  8. عذر میں جینا
  9. قرآن کی اشاعت
  10. دعا کی قبولیت کا معاملہ
  11. معلوم حق
  12. مواقع کی دنیا
  13. اختلاف کا معاملہ
  14. کلام کی دو قسمیں
  15. امانت، خیانت
  16. نصرتِ خداوندی
  17. تقابل کی غلطی
  18. دعوة اِن ایکشن
  19. خدا : یقین کا سرچشمہ
  20. کلْب کلچر
  21. اعتقادی کاملیت، عملی رخصت
  22. اٹلی اور اسپین کا دعوتی سفر
  23. اعلیٰ ترقی کا راز
  24. خبر نامہ اسلامی مرکز— 231

تقابل کی غلطی

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیس لابن آدم حق فی سوى ہذہ الخصال بیت یسکنہ وثوب یواری عورتہ وجِلف الخبز والماء(الترمذی، رقم الحدیث: 2341) یعنی اِس دنیا میں انسان کا حق صرف چند ہے- ایک گھر جس میں وہ رہے اور ایک کپڑا جو اُس کی سترپوشی کرے اور روٹی کا ایک ٹکڑا اور پانی-یہ حدیث رسول بتاتی ہے کہ دنیا میں سامانِ حیات کا معیار کیا ہے، یعنی حقیقی ضرورت کے اعتبار سے وہ کیا چیز ہے جو اگر انسان کو مل جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کافی سمجھے- اگر یہ معیار آدمی کے ذہن میں نہ رہے، اس کے برعکس آدمی کا معیار یہ ہو کہ اِس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ایک عالی شان محل (palace) ہو تو وہ بقدر ضرورت گھر پر قانع نہ ہوگا، وہ اپنی ساری توجہ محل کو حاصل کرنے میں لگا دے گا، محل کے بغیر وہ اپنے آپ کو بے گھر (homeless) سمجھتا رہے گا-original + quote

یہی معاملہ قوم کا ہے- اگر کوئی قوم بطور خود یہ سمجھ لے کہ اس کی قومی زندگی کے لیے سیاسی اقتدار لازمی طورپر ضروری ہے تو اس کو سیاسی اقتدار سے کم درجے کی چیز بے حقیقت معلوم ہوگی- ایسی قوم کو سیاسی اقتدار سے باہر ہزاروں چیزیں حاصل ہوں گی، لیکن ایسی قوم کے لوگ اقتدار سے محرومی کے غم میں پڑے رہیں گے، حتی کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے اِس مفروضہ معیار کے حصول کے لیے ناکام لڑائی شروع کردیں اور نتیجةً اپنی تباہی میں کچھ اور اضافہ کرلیں-

موجودہ زمانہ میں مسلمان عام طور پر احساس محرومی کا شکارہیں- حالانکہ یہ دور وہ تھا جب کہ وہ احساس یافت میں جینے والے ہوں اور زیادہ سے زیادہ اللہ کا شکر کریں- مسلمانوں کی موجودہ حالت کا واحد سبب یہ ہے کہ انھوں نے بطور خود اسلام کا غلط معیار بنا رکھا ہے- وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو، تب اسلام زندہ ہے، ورنہ اسلام زندہ نہیں- اِس جوش میں وہ اِس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آج بھی پچاس سے زیادہ ملکوں میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ہے، لیکن ان کو یہ کھلی حقیقت نظر نہیں آتی-