Al-Risala February 2015

نصرتِ خداوندی

Al-Risala February 2015 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (24 chapters)
  1. الرسالہ - February 2015
  2. انسان کی تخلیق
  3. ایمانی زندگی کے 10 مراحل
  4. نزاع سے کامل پرہیز
  5. ذات، مشن
  6. قتلِ انسان
  7. جہاد یا قبائلی کلچر کی توسیع
  8. عذر میں جینا
  9. قرآن کی اشاعت
  10. دعا کی قبولیت کا معاملہ
  11. معلوم حق
  12. مواقع کی دنیا
  13. اختلاف کا معاملہ
  14. کلام کی دو قسمیں
  15. امانت، خیانت
  16. نصرتِ خداوندی
  17. تقابل کی غلطی
  18. دعوة اِن ایکشن
  19. خدا : یقین کا سرچشمہ
  20. کلْب کلچر
  21. اعتقادی کاملیت، عملی رخصت
  22. اٹلی اور اسپین کا دعوتی سفر
  23. اعلیٰ ترقی کا راز
  24. خبر نامہ اسلامی مرکز— 231

نصرتِ خداوندی

قرآن کی سورہ الروم میں اللہ کی ایک سنت کوان الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِہِمْ فَجَــاۗءُوْہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا ۭ وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(30:47)یعنی اور ہم نے تم سے پہلے رسولوں کو بھیجا ان کی قوم کی طرف- پس وہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنھوں نے جرم کیا تھا اور ہم پر یہ حق ہے کہ ہم اہلِ ایمان کی مدد کریں-original + quote

قرآن کی اس آیت میں پیغمبروں کے حوالے سے اللہ کی ایک سنت کو بیان کیا گیاہے- اس سنت کا تعلق ایسے اہلِ ایمان سے ہے جو دعوت الی اللہ کا کام کرنے کے لئے اٹھیں- ایسے لوگ ایک خدائی مشن (divine mission)کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں، وہ اللہ کے کنسرن (concern) کو اپنا کنسرن بناتے ہیں، وہ اپنے لئے جینے کے بجائے اللہ کے لئے جینے والے  بنتے ہیں، وہ اپنے آپ کو اللہ کے کام کے لئے وقف کردیتے ہیں، ایسے لوگ اپنے عمل سے اس حقیقت کا ثبوت دیتے ہیں کہ ان کا انحصار تمام تر اللہ پر ہوچکا ہے-original + quote

ایسے لوگ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ کے خاص بندے بن جاتے ہیں، ان کا پورا وجود اس بات کی سفارش (recommendation) بن جاتا ہے کہ اللہ ان کی طرف خصوصی توجہ فرمائے- اُن کے معاملے کو اللہ اپنا معاملہ قرار دے دے- اللہ اور بندے کے درمیان یہی خصوصی تعلق ہے، جس کو مذکورہ آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ دین کے داعیوں کا اللہ کے اوپر یہ حق (due) ہے کہ وہ ان کی خصوصی مدد کرے-original + quote

جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ کے مشن میں پوری طرح وقف کردے تو اس کے بعد فطری طورپر ایسا ہوتاہے کہ ایسے شخص کی زبان سے دعا کے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke)کرنے والے ہوں، جو اس کے لئے اللہ کی خصوصی مدد کو لازم بنا دیں-