← back to shukr · Al-Risala February 2013

حساب کا وقت

Al-Risala February 2013 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (18 chapters)
  1. الرسالہ - February 2013
  2. اتمامِ نور
  3. اسوۂ رسول
  4. بہتر گھر، بہتر سماج
  5. فضائل کی روایات
  6. تخلیقی ضعف ایک رحمت
  7. شکر کا ایک آئٹم
  8. حساب کا وقت
  9. اسلام فطرت کی آواز
  10. پانچ فقہی اسکول
  11. امت میں اختلاف کا مسئلہ
  12. مخاصمت نہیں
  13. دورِ سائنس اور مذہب
  14. امید کی طاقت
  15. کشمیر میں نئی سوچ کی ضرورت
  16. بابری مسجد: ایک پیغام
  17. سوال وجواب
  18. خبر نامہ اسلامی مرکز — 220

حساب کا وقت

راجیش کھنہ انڈیا کی فلم انڈسٹری کے پہلے سپر اسٹار تھے- ان کو عوام کے اندر غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، مگر آخری سالوں میں وہ مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوگئے- چناں چہ 18 جولائی 2012 کو بمبئی میں ان کی وفات ہوگئی ،جب کہ ان کی عمر صرف 69 سال تھی- کہا جاتا ہے کہ آخری وقت میں انھوں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا کہ — ٹائم اب ہوگیا(Time up, pack up) -original + quote

حقیقت کے اعتبار سے راجیش کھنہ کا یہ جملہ درست نہیں- اگر وہ زندگی کی حقیقت کو جانتے تو وہ کہتے کہ — ٹائم اب آگیا، یعنی اب زندگی کے دوسرے دور میں داخلے کا وقت آگیا، جہاں خالق کے سامنے پیشی ہوگی اور پورے کارنامۂ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق، ابدی دورِ حیات کا فیصلہ ہوگا، یعنی ابدی جنت یا ابدی جہنم کا فیصلہ-

ممبئی سی پی ایس ٹیم کے ایک داعی مسٹر محبوب اے ایچ نے راجیش کھنہ کی وفات سے کچھ ماہ پہلے ان کو ہمارے یہاں کا چھپا ہواقرآن کا انگریزی ترجمہ پہنچایا تھا- اِس بات کی کوئی اطلاع نہیں کہ انھوں نے قرآن کے ترجمے کو پڑھا تھا یا نہیں، لیکن یہ واقعہ اور اِس طرح کے دوسرے واقعات ایک انتباہ (warning)کی حیثیت رکھتے ہیں- وہ تمام لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور یہ کہ قرآن واحد کتاب ہے جو یہ بتاتی ہے کہ انسان کے لیے اس کے خالق کا منصوبۂ تخلیق (creation plan of God) کیا ہے، اُن پر فرض ہے کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں تک اِس کتاب (قرآن) کو پہنچا دیں-original + quote

اگر پہنچانے والوں نے قرآن کو تمام انسانوں تک پہنچا دیا تو ان کی ذمے داری اللہ کے یہاں ساقط ہوجائے گی- ایسی حالت میں معاملہ خدااور انسان کے درمیان ہوگا- لیکن اگر پہنچانے والوں نے قرآن کو لوگوں تک نہیں پہنچایا تو وہ خود اِس کے ذمہ دارقرار پائیں گے اور اب معاملہ خدا اور حاملینِ قرآن کے درمیان ہوجائے گا-