Al-Risala August 2019

ایک سنگین برائی

Al-Risala August 2019 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (24 chapters)
  1. الرسالہ - August 2019
  2. حج کا مقصد
  3. دعا کیسے کریں
  4. الخیر فیما وقع
  5. قرآن، کتاب مہجور
  6. دعوت کے کام میں استقامت
  7. اسلامی دعوت
  8. اسلام دورِ جدید میں
  9. فراہی اسکول کا کنٹری بیوشن
  10. عظیم قربانی
  11. دعوہ ایکسپلوزن
  12. دنیاانتظار میں ہے
  13. امن کا مقصد
  14. سیلف گلوری
  15. اسلامی نظام
  16. میل ملاپ کا سماج
  17. ایک سنگین برائی
  18. بڑھاپے کا دور
  19. پختگی کیا ہے
  20. صحیح طرزِ فکر
  21. ہار کے بعد جیت
  22. خواتین کو مشغولیت دیجیے
  23. جاپانی قوم کی ترقی کا راز
  24. خبرنامہ اسلامی مرکز- 268

ایک سنگین برائی

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے إِیَّاکُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّہُ دَعَا مَنْ قَبْلَکُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَہُمْ، وَسَفَکُوا دِمَاءَہُمْ، وَقَطَّعُوا أَرْحَامَہُمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 9569)۔ یعنی تم اپنے آپ کو حرص سےبچاؤ، کیوں کہ حرص نے تم سے پہلے لوگوں کو ابھارا تو انھوں نے اپنی حرام چیزوں کو حلال کرلیا، اور آپس میں خون ریزی کی، اور آپس میں قطع رحمی کی۔original + quote

شح کا مطلب ہے حرص (greed)، یعنی زیادہ چاہنا۔ حرص کا مزاج انسان کے لیے اتنا زیادہ نقصان دہ کیوں ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کے اوپر حرص کا جب غلبہ ہوتا ہے، تو وہ اس کی سوچ کو حرص والی سوچ بنا دیتا ہے۔ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ ;کا خواہش مند ہوتا ہے۔ زیادہ چاہنے کا یہ مزاج آدمی کے اندر اور کئی برائیاں پیدا کرتا ہے۔ مثلاً وہ انسان کو اپنا دوست سمجھنے کے بجائے، انسان کو اپنا حریف سمجھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں کو دینے کے بجائے، دوسروں سے لینے کا خواہش مند بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ انسان رخی سوچ کے بجائے خود رخی بن جاتی ہے۔ ایسا انسان ایک خود غرض انسان بن جاتا ہے۔

حرص کا مزاج آدمی کے اندر تنگ دلی کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی کشادہ دلی کی اعلیٰ نفسیات سے محروم ہوجاتاہے۔ وہ ہر معاملے میں اپنی ذات کو لے کر سوچتا ہے۔ انسانیت عامہ کو لے کر سوچنے کامزاج اس کے اندر پرورش نہیں پاتا ہے۔ ایسا آدمی اس فطری حقیقت سے بے خبر ہوجاتا ہے کہ اس دنیا میں دینے والے کو ملتا ہے، جو آدمی دوسروں کو دینا نہ جانے، اس کو دوسروں کی طرف سے ملنے والا بھی نہیں۔ ایسا آدمی کوئی بڑا منصوبہ نہیں بناسکتا۔ بڑا منصوبہ بنانے کے لیے بڑا دل درکار ہوتا ہے، اور حرص کے مزاج کی بنا پر بڑا دل پہلے ہی اس سے رخصت ہوجاتا ہے۔ حرص بظاہر ایک اخلاقی برائی ہے، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ انسان کی پوری شخصیت پر چھاجاتی ہے۔ حریص انسان بظاہر انسان ہوتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ مثلِ حیوان بن جاتا ہے۔