← back to tawakkul · Al-Risala April 2021

سجدۂ اعتراف

Al-Risala April 2021 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (26 chapters)
  1. الرسالہ - April 2021
  2. سجدۂ اعتراف
  3. تخلیقی عمل
  4. شاہ کلید
  5. صدیقی اسپرٹ
  6. برتر اخلاق
  7. کوئی مصیبت ، مصیبت نہیں
  8. خیر کثیر
  9. ہر حال میں بہتر
  10. خواتین کا رول
  11. ہاجرہ کلچر
  12. شاک ٹریٹمنٹ
  13. حقیقتِ انسانی کی دریافت
  14. صحت مند تنقید
  15. ری ایکشن، رسپانس
  16. صحیح طرزِ فکر
  17. ہائی پروفائل، لو پروفائل
  18. کامیابی کا فارمولا
  19. چیلنج کا مقابلہ
  20. عافیت کا راز
  21. فیمینزم اور دعوت
  22. مسلم دنیا کی تحریکیں
  23. ایک ملاقات
  24. سوال و جواب
  25. خبرنامہ اسلامی مرکز- 274
  26. اعلان

سجدۂ اعتراف

اللہ تعالی نے جب آدم کو پیدا کیا تو فرشتوں اور ابلیس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کے آگے سجدہ کریں۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِیسَ أَبَى وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِینَ (2:34)۔ یعنی جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور وہ منکروں میں سے ہوگیا۔original + quote

یہاں سجدہ کا مطلب سجدۂ اعتراف ہے، یعنی حقیقتِ واقعہ کو قبول کرنا۔ ایک طرف فرشتے ہیں، جو انسان کو اعتراف کا سبق دے رہے ہیں، اور دوسری طرف ابلیس ہے، جو انسان کو أَنَا خَیْرٌ مِنْہُ (میں اس سے بہتر ہوں)کی سوچ کے ذریعے عدم اعتراف کا سبق دے رہا ہے۔آدم کے واقعے میں سجدہ دراصل ایک حقیقت کا اعتراف (acknowledgement) تھا، یعنی اب ایک نئی مخلوق انسان کو، منصوبہ تخلیق کے مطابق، سینٹرل حیثیت حاصل ہوگی۔فرشتہ اور ابلیس دونوں کواسی حقیقت کے اعتراف کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کو فرشتوں نے مان لیا، لیکن ابلیس نے ماننے سے انکار کردیا۔

اس میں انسان کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اعتراف کی صفت کو اپنائے ۔ اس دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ہر انسان کبھی نہ کبھی ایک "آدم" سے دو چار ہوتا ہے۔اس وقت خدا حال کی زبان میں ہم سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ اس "آدم" کا اعتراف کرو۔دوسرے الفاظ میں، آئڈیل کو ترک کرو اور پریکٹکل وزڈم کو اختیار کرو۔ اب جو فرشتوں کا طریقہ اختیار کرے، وہ خدا کا سچا بندہ ہے، وہ صحیح روش والا انسان ہے۔اس کے برعکس، جو ابلیس کا طریقہ اختیار کرے، اور تواضع کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ خدا کا سچا بندہ نہیں ہے ، وہ درست راستے سے دور انسان ہے۔ اعتراف یا بے اعترافی، دونوں کا انجام یکساں نہیں ہوسکتا۔آخرت میں انسان سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے زندگی میں حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کیا یا تم نے بے اعترافی کی زندگی گزاری— اعتراف پر انعام ہے اور بےاعترافی پر شدید پکڑ۔