Al-Risala April 2020

ایک مسنون دعا

Al-Risala April 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (20 chapters)
  1. الرسالہ - April 2020
  2. مطالعۂ قرآن کا مہینہ
  3. ایک تجربہ
  4. فرقان کیا ہے
  5. دریافتِ امت
  6. انذار، تائید
  7. اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن
  8. فطرت کا قانون
  9. کام کیا ہے
  10. فرقہ بندی کیا ہے
  11. فطرت کی قربانی
  12. ایک مسنون دعا
  13. تطفیف پر وَیل
  14. نئے عہد کے دروازے پر
  15. جدید دور کی ایک دین
  16. فکر کی تشکیل
  17. گِور نیشن
  18. الفاظ کا جنگل
  19. ایک مسلم خاتون
  20. خبرنامہ اسلامی مرکز- 272

ایک مسنون دعا

پیغمبر اسلام کی ایک دعا حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے: اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ... مِنْ خَلِیلٍ مَاکِرٍ عَیْنَہُ تَرَانِی وَقَلْبُہُ تَرْعَانِی إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَہَا، وَإِذَا رَأَى سَیِّئَةً أَذَاعَہَا (الدعاء للطبرانی، حدیث نمبر 1339)۔ یعنی اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں چالاک دوست سے جس کی آنکھیں مجھ کو دیکھتی ہوں، اور اس کا دل میرے خلاف سوچتا ہو۔ اگر وہ کسی اچھائی کو دیکھے تو اس کو دفن کردے، اور اگر وہ کسی برائی کو دیکھے تو اس کو پھیلا دے۔original + quote

اس حدیث میںخَلِیل مَاکِر(چالاک دوست) سے مراد منافق انسان ہے۔علامہ المناوی (وفات 1621ء)نے اس کی شرح ان الفاظ میں کی ہے إنسان یظہر المحبة والوداد وہو فی باطن الأمر محتال مخادع(فیض القدیر، جلد2، صفحہ145)۔ یعنی وہ انسان جو محبت اورتعلق کا اظہار کرے، حالانکہ اندرونی طور پر وہ فریبی اور دھوکہ دینے والا ہو ۔ منافق انسان کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ بظاہر کسی کا دوست بنتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اس کا دوست نہیں ہوتا۔ اپنے دہرے کردار (double standard) والے مزاج کی بنا پر وہ ایسا کرتا ہے کہ جب وہ کسی شخص سے قریب ہوتا ہے تو بظاہر وہ اس کے موافق بات کہتا ہے، لیکن عین اُسی وقت اس کا ذہن اس کے خلاف سوچتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ ایسے انسان سے بچے، وہ اس کی بظاہر خوشنما باتوں سے دھوکہ نہ کھائے۔original + quote

ایسے انسان کی سب سے زیادہ تباہ کن عادت یہ ہوتی ہے کہ جھوٹی بات کرنا اس کے لیے محبوب بن جاتا ہے۔ اگر وہ کسی کے بارے میں بظاہر کوئی غلط بات سنے، تو وہ خوب عیب زنی کرے گا۔ اس کے برعکس، اگر اس کو کوئی اچھی بات ملے تو اس کو لوگوں سے بیان کرنااس کو پسند نہیں آئے گا۔اِس کے مقابلے میں دوسرا انسان وہ ہے،جو دوسروں کاخیر خواہ ہوگا۔ وہ بولے گا تو وہی بات بولے گا ،جو اس کے دل میں ہے۔ وہ کسی انسان کی اچھی بات کا چرچا کرے گا، ورنہ وہ اس کے بارے میں خاموش رہے گا۔ اِن میں سے پہلا کردار غیر ربانی کردار ہے، اور دوسرا کردار ربانی کردار۔unverified