Al-Risala April 2020

فرقہ بندی کیا ہے

Al-Risala April 2020 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (20 chapters)
  1. الرسالہ - April 2020
  2. مطالعۂ قرآن کا مہینہ
  3. ایک تجربہ
  4. فرقان کیا ہے
  5. دریافتِ امت
  6. انذار، تائید
  7. اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن
  8. فطرت کا قانون
  9. کام کیا ہے
  10. فرقہ بندی کیا ہے
  11. فطرت کی قربانی
  12. ایک مسنون دعا
  13. تطفیف پر وَیل
  14. نئے عہد کے دروازے پر
  15. جدید دور کی ایک دین
  16. فکر کی تشکیل
  17. گِور نیشن
  18. الفاظ کا جنگل
  19. ایک مسلم خاتون
  20. خبرنامہ اسلامی مرکز- 272

فرقہ بندی کیا ہے

فرقہ بندی دراصل غلو کا نام ہے۔ اختلاف ایک فطری حقیقت ہے، نہ کہ پرابلم۔ اس دنیا میں غیر اختلافی سماج نہیں بن سکتا۔ اس لحاظ سے اختلاف بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ اختلاف صحت مند سوچ کی علامت ہے۔ زندہ لوگوں میں اختلاف ایک امر فطری ہے۔لیکن اختلاف کو ڈائلاگ کی حد میں رہنا چاہیے۔اختلاف کو نزاع کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، جو کہ فرقہ بندی کا سبب ہوتا ہے۔

اختلاف (difference) کے معاملے میں ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں— غلو کا طریقہ، ٹالرنس کا طریقہ۔ غلو کا طریقہ یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ مختلف مسالک فکر کے درمیان ایک ہی طریقہ صحیح ہے، دوسرے تمام طریقے غلط ہیں، ان کو ختم ہوجانا چاہیے۔اس کے برعکس،دوسرا طریقہ رواداری یا وسعتِ نظری کا طریقہ ہے، یعنی یہ سمجھنا کہ جو اختلاف ہے، وہ تنوع (diversity)کا معاملہ ہے۔ جس کا عملی فارمولا اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے — ایک کی پیروی ، سب کا احترام :

Follow one, respect all

فقہی اختلاف کی بنیاد پر جو فرقے بنے ہیں، ان کا سبب یہی غلو(extremism) ہے۔ اختلاف اس وقت برائی بنتا ہے، جب کہ وہ غلو کی وجہ سے تفرق کا سبب بن جائے۔ قرآن میں اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیاہے:مِنَ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَہُمْ وَکَانُوا شِیَعًا کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُونَ (30:32)۔ یعنی جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا، اور بہت سے گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ اس میں مگن ہے، جو اس کے پاس ہے۔original + quote

اس معاملے کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے، تو وہ یہ ہوگا کہ اختلافات جس سے تفریق پیدا ہوتی ہے، وہ زیادہ تر جزئی معاملات میں ہوتے ہیں۔ جزئی معاملات میں صحیح طریقہ ہے  میرا مسلک بھی درست ہے، اور تمھارا مسلک بھی درست۔ جب طرفین کے درمیان یہ مزاج ہو، تو دونوں فریق ایک دوسرے کو ٹالریٹ (tolerate) کرنے کا مسئلہ سمجھیں گے، نہ کہ حق اور ناحق کا مسئلہ۔