← back to shukr · Al-Risala April 2018

کام کی قیمت

Al-Risala April 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - April 2018
  2. مقالید السماوات والارض
  3. احسن العمل کا انتخاب
  4. ابدی جنت
  5. اللہ کا ذکر
  6. قرآن فہمی کا معیار
  7. پر امید آیات و احادیث
  8. اللہ سے امید
  9. آخرت کا مضمون
  10. ہر ایک کے لیے خیر
  11. انسان اور کائنات
  12. غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ
  13. اہل مغرب کا کنٹری بیوشن
  14. اجماع کی حقیقت
  15. اجتہاد کیا ہے
  16. منسوخ، موقوف
  17. انٹلکچول ٹریپ
  18. ملت ابراہیم
  19. خدا کا وجود
  20. کامیاب منصوبہ بندی
  21. قیام لیل
  22. جہاد کا حکم
  23. دعوت کا اسلوب
  24. خلاق علیم
  25. مسجد کا مسئلہ
  26. سیاسی کنڈیشننگ میں جینا
  27. مشکل حالات
  28. ختم نبوت کا عقیدہ
  29. بڑھاپا رمائنڈر کا زمانہ
  30. غیر متحقق بات کا چرچا
  31. اپنے خلاف
  32. منفی تجربہ
  33. لرننگ اسپرٹ
  34. اسٹیج کا فتنہ
  35. کام کی قیمت
  36. کامیاب شادی
  37. مس ایڈونچرزم
  38. سوال و جواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 258

کام کی قیمت

اگر آپ ایک بائیسکل خریدنے کے لیے بازار میں جائیں، تو اس کی ایک قیمت ہے۔ وہ ضروری قیمت ادا کیے بغیر وہ بائیسکل آپ کو نہیں ملے گی۔ اسی طرح موٹر کار کی ایک قیمت ہے۔ اگر آپ موٹر کار خریدنا چاہتے ہوں۔ لیکن آپ کی جیب میں ا س کی ضروری قیمت نہ ہو، تو کوئی بازار آپ کو موٹر کار دینے والا نہیں۔

اسی طرح مشن کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اگر آپ ایک مشن لے کر اٹھیںتو صرف بڑے بڑے الفاظ بولنے سے آپ مین آف مشن نہیں بن سکتے۔ مشن ایک بے حد سنجیدہ منصوبہ ہے۔ مشن کی صرف ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور وہ ہے، مشن کو ترجیح (priority) کی سطح پر اختیار کرنا۔ اگر آپ ایک مشن شروع کریں۔ لیکن آپ نے اس کو اپنی واحد ترجیح نہ بنایا ہو،بلکہ عملاً آپ اولاد کو اپنی ترجیح بنائے ہوئے ہوں تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ مشن کے لیے کھڑے نہ ہوں۔ ساگ سبزی کی دکان کھولنا، اس سے بہتر ہے کہ ایسا آدمی مین آف مشن بننے کا دعویٰ کرے۔

یونیورسٹی کے ایک استاد نے کہا کہ ہم لوگ حیوان کاسب (earning animal) ہیں۔ ہم لوگوں کا کنسرن تو صرف پرسنل انٹرسٹ ہوتا ہے، لیکن ہم لوگ غلط طور پر اپنے آپ کو علم کا کیس بتاتے ہیں۔ یہ منافقت ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کچھ اور بنے، لیکن وہ منافق نہ بنے۔ لوگ عام طور پر حرام و حلال کو جانتے ہیں۔ لیکن اس کے سوا ایک اور چیز ہے، جس کو نفسیات کی اصطلاح میں کمزور شخصیت (weak personality) کہا جاتا ہے، اس کو کوئی نہیں جانتا۔ کمزور شخصیت اور منافق شخصیت میں صرف نام کے اعتبار سے فرق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اللہ کی نظر میں کمزور شخصیت والا انسان بھی وہی درجہ رکھتا ہے، جو منافق انسان کا درجہ ہوتا ہے۔اعلیٰ انسان وہ ہے جس کے قول اور عمل میں کوئی تضاد نہ ہو۔ جو قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل انسان ہو۔original + quote