← back to shukr · Al-Risala April 2018

انسان اور کائنات

Al-Risala April 2018 — Maulana Wahiduddin Khan

Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.

Contents (39 chapters)
  1. الرسالہ - April 2018
  2. مقالید السماوات والارض
  3. احسن العمل کا انتخاب
  4. ابدی جنت
  5. اللہ کا ذکر
  6. قرآن فہمی کا معیار
  7. پر امید آیات و احادیث
  8. اللہ سے امید
  9. آخرت کا مضمون
  10. ہر ایک کے لیے خیر
  11. انسان اور کائنات
  12. غیر حقیقت پسندانہ منصوبہ
  13. اہل مغرب کا کنٹری بیوشن
  14. اجماع کی حقیقت
  15. اجتہاد کیا ہے
  16. منسوخ، موقوف
  17. انٹلکچول ٹریپ
  18. ملت ابراہیم
  19. خدا کا وجود
  20. کامیاب منصوبہ بندی
  21. قیام لیل
  22. جہاد کا حکم
  23. دعوت کا اسلوب
  24. خلاق علیم
  25. مسجد کا مسئلہ
  26. سیاسی کنڈیشننگ میں جینا
  27. مشکل حالات
  28. ختم نبوت کا عقیدہ
  29. بڑھاپا رمائنڈر کا زمانہ
  30. غیر متحقق بات کا چرچا
  31. اپنے خلاف
  32. منفی تجربہ
  33. لرننگ اسپرٹ
  34. اسٹیج کا فتنہ
  35. کام کی قیمت
  36. کامیاب شادی
  37. مس ایڈونچرزم
  38. سوال و جواب
  39. خبرنامہ اسلامی مرکز — 258

انسان اور کائنات

انسان موجودہ دنیا میں پیدائش کی بنیاد پر داخل ہوتا ہے۔ ہر پیدا ہونے والا، ماں کے پیٹ سے نکل کر موجودہ دنیا میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے اس دنیا میں پہلا داخلہ ہے۔ یہ داخلہ ہر انسان کو محض پیدائش کی بنیاد پر مل جاتا ہے۔ مگر یہ داخلہ عارضی داخلہ ہے۔ موت کے بعد انسان دوبارہ خدا کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔

دنیا میں پہلا داخلہ عارضی داخلہ تھا، لیکن دوسرا داخلہ مستقل داخلہ ہے۔ پہلا داخلہ کسی کو پیدائش کی بنیاد پر اپنے آپ مل جاتا ہے۔ لیکن دوسرے داخلے کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ دوسرا داخلہ کسی انسان کو صرف استحقاق (merit) کی بنیاد پر ملے گا۔ پہلے دور حیات کی حیثیت یہ ہےکہ وہ استحقاق ثابت کرنے کا دور ہے۔ پہلے دورِ حیات میں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرے کہ وہ خدا کی دنیا میں مستقل قیام کا واقعی حقدار ہے۔ اس دوسرے داخلے کے بارے میں قرآن کی چند آیتیں یہ ہیں:unverified

یَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنْکُمْ خَافِیَةٌ ۔ فَأَمَّا مَنْ أُوتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِینِہِ فَیَقُولُ ہَاؤُمُ اقْرَءُوا کِتَابِیَہْ ۔ إِنِّی ظَنَنْتُ أَنِّی مُلَاقٍ حِسَابِیَہْ۔ فَہُوَ فِی عِیشَةٍ رَاضِیَةٍ۔ فِی جَنَّةٍ عَالِیَةٍ۔ قُطُوفُہَا دَانِیَةٌ ۔ کُلُوا وَاشْرَبُوا ہَنِیئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِی الْأَیَّامِ الْخَالِیَة (69:18-24) ۔ یعنی اس دن تم پیش کیے جاؤ گے۔ تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ ہوگی۔ پس جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ لو میرا اعمال نامہ پڑھو۔ میں نے گمان رکھا تھا کہ مجھ کو میرا حساب پیش آنے والا ہے۔ پس وہ ایک پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔ اونچے باغ میں۔ اس کے پھل جھکے پڑ رہے ہوں گے۔ کھاؤ اور پیو، خوشی کے ساتھ ، ان اعمال کے بدلے میں جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے — خدا کی دنیا میں پہلے داخلہ کے ساتھ مصیبت شامل تھی (البلد،90:4)۔اس کے برعکس، یہدوسرا داخلہ تمام تر ھنیئًا (pleasure) کا داخلہ ہوگا۔پہلا داخلہ امتحان کے لیے تھا، اور دوسرا داخلہ انعام کے لیے ہوگا۔unverified